کرکٹ کی تاریخ میں ۸۰؍ اوورس کے فارمیٹ پر مبنی دنیا کا پہلا مکسڈ جینڈر (لڑکے اور لڑکیاں) کرکٹ ٹورنامنٹ، ٹیسٹ ۲۰؍، ۱۴؍نومبر کو کولمبو کے ایس ایس سی میں شروع ہوگا۔ اس میں ۱۶۰؍ لڑکے اور لڑکیاں حصہ لیں گے، جن کا اسکور بورڈ ایک ہی ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 7:02 PM IST | Colombo
کرکٹ کی تاریخ میں ۸۰؍ اوورس کے فارمیٹ پر مبنی دنیا کا پہلا مکسڈ جینڈر (لڑکے اور لڑکیاں) کرکٹ ٹورنامنٹ، ٹیسٹ ۲۰؍، ۱۴؍نومبر کو کولمبو کے ایس ایس سی میں شروع ہوگا۔ اس میں ۱۶۰؍ لڑکے اور لڑکیاں حصہ لیں گے، جن کا اسکور بورڈ ایک ہی ہوگا۔
کرکٹ کی تاریخ میں ۸۰؍ اوورس کے فارمیٹ پر مبنی دنیا کا پہلا مکسڈ جینڈر (لڑکے اور لڑکیاں) کرکٹ ٹورنامنٹ، ٹیسٹ ۲۰؍، ۱۴؍نومبر کو کولمبو کے ایس ایس سی میں شروع ہوگا۔ اس میں ۱۶۰؍ لڑکے اور لڑکیاں حصہ لیں گے، جن کا اسکور بورڈ ایک ہی ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار ایک ٹاس سے۲؍ باتوں کا فیصلہ ہوگا۔ پہلی یہ کہ کون سی ٹیم پہلے بلے بازی کرے گی اور دوسری یہ کہ پہلے لڑکیاں کھیلیں گی یا لڑکے۔ لڑکیاں لڑکیوں کے خلاف کھیلیں گی اور لڑکے لڑکوں کے خلاف۔ جو بھی صبح بلے بازی کرے گا، اس کے رن رات تک مجموعی اسکور میں شامل ہوتے رہیں گے اور آخر میں دونوں کے کل اسکور سے ہی جیت کا فیصلہ ہوگا۔ لڑکیوں کے رن لڑکوں کے میچ کا نتیجہ طے کریں گے اور لڑکوں کے رن لڑکیوں کے میچ کا۔ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔
گزشتہ تقریباً ۱۵۰؍ برسوں سے کرکٹ کے ۳؍ فارمیٹ رہے ہیں، ٹیسٹ کرکٹ، ایک روزہ اور ٹی ۲۰ ۔ اب ۱۴؍نومبر کو چوتھا فارمیٹ سامنے آئے گا۔ ٹیسٹ ۲۰؍ کا پہلا سیزن سری لنکا کے کولمبو میں واقع سنگھالیز اسپورٹس کلب (ایس ایس سی) میں ۱۴؍ سے۲۹؍ نومبر تک کھیلا جائے گا، جبکہ ۳۰؍ نومبر کو اضافی دن کے طور پر رکھا گیا ہے۔ دنیا بھر سے منتخب کیے گئے ۱۳؍ سے ۲۱؍ سال کی عمر کے۱۶۰؍ نوجوان کرکٹرز ۴؍ براعظمی ٹیموں میں تقسیم ہو کر کولمبو پہنچیں گے۔ یہ پہلا ایسا ٹورنامنٹ ہوگا جس میں ایک ہی ٹیم کے لیے لڑکیوں کی ۱۱؍رکنی ٹیم اور لڑکوں کی۱۱؍ رکنی ٹیم کھیلیں گی اور ان کے رن مل کر ایک مشترکہ نتیجہ طے کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین اور سری لیلا کی رومانوی میوزیکل فلم ملتوی ، ۲۰۲۷ء میں ریلیز متوقع
سری لنکا نے گزشتہ ۱۰۰؍ سال میں نوجوانوں کی کرکٹ کی ایسی ثقافت تیار کی ہے جس کا مقابلہ کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا۔ نومبر سے یہ ملک دنیا کے اس نئے نوجوان کرکٹ فارمیٹ کی جائے پیدائش بن جائے گا۔ ۸۰؍ اوور،۲؍ گیندیں، کچھ بھی دوبارہ صفر سے شروع نہیں ہوتا۔ ٹیسٹ ۲۰؍ کا ہر میچ ایک ہی دن میں کھیلا جاتا ہے۔ دونوں ٹیمیں ۲۔۲؍بار بلے بازی کرتی ہیں۔ پہلے ۴۰؍ اوور سفید لباس میں، سرخ گیند سے اور دن کی روشنی میں کھیلے جاتے ہیں۔ باقی ۴۰؍ اوور رنگین لباس میں، سفید گیند سے اور ایس ایس سی کی فلڈ لائٹس کے نیچے کھیلے جاتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوگا جب ایک ہی میچ میں سرخ اور سفید دونوں گیندوں کا استعمال کیا جائے گا۔ پہلے نصف کے اسکور دوسرے نصف میں شامل ہوتے رہیں گے۔ دن میں بنائے گئے رن رات میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ رات ہونے تک نتیجہ سامنے آ جاتا ہے۔
لڑکیوں کے رن، لڑکوں کے میچ کا فیصلہ کریں گے۔ لڑکوں کے رن، لڑکیوں کے میچ کا فیصلہ کریں گے۔ ہر براعظمی ٹیم میں ۴۰؍ کھلاڑیوں کا دستہ ہوگا، جس میں ۲۰؍ لڑکیاں اور ۲۰؍ لڑکے شامل ہوں گے۔ ہر میچ میں لڑکیاں لڑکیوں کے خلاف اور لڑکے لڑکوں کے خلاف کھیلیں گے۔ اس کے بعد ان کے اسکور ایک ہی اسکور بورڈ پر جمع ہوں گے اور مجموعی اسکور کی بنیاد پر ہی جیت کا فیصلہ ہوگا۔ اس سے ڈگ آؤٹ کا ماحول بھی بدل جائے گا۔ لڑکیاں اور لڑکے پورا دن ایک ساتھ، ایک ہی ٹیم کے پرچم تلے بیٹھیں گے اور دوسری ٹیم کی ہر گیند پر نظر رکھیں گے، کیونکہ ان کا بنایا ہوا ہر رن ان کی اپنی ٹیم کے لیے ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:سوریہ کمار یادو نے شاہ رخ خان سے منسوب منصوبے میں سرمایہ کاری کی
کرکٹ کی تقریباً ۱۵۰؍ سالہ تاریخ میں لڑکیوں کے رن کبھی لڑکوں کے میچ میں شمار نہیں کیے گئے۔ لیکن ۱۴؍ نومبر سے کولمبو میں یہی رن طے کریں گے کہ جیت کس کی ہوگی۔ ہزاروں کھلاڑیوں میں سے ۱۶۰؍ تک پہنچنے کے لیے، ایک بھی گیند پھینکے جانے سے پہلے ۵؍ براعظموں کے ہزاروں نوجوان کرکٹرز نے اپنے نام پیش کیے۔ گزشتہ ۳۰۰؍ دنوں کے دوران میدانوں اور آن لائن ہونے والے انتخابی مقابلوں کے ذریعے ان میں سے بہترین کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا۔ ان میں سے عالمی انتخابی کمیٹی نے سب سے اچھے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس کمیٹی کے صدر ہندوستان کے معروف کوچ راج کمار شرما ہیں، جنہوں نے بچپن میں وراٹ کوہلی کی صلاحیتوں کو پہچانا تھا اور انہیں ایک چیمپئن کے طور پر تیار کیا تھا۔ اس ماہ کے آخر میں پلیئرز ڈرافٹ کے ذریعے آخری ۱۶۰؍ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ ان میں ۸۰؍ لڑکیاں اور ۸۰؍ لڑکے شامل ہوں گے۔ یہ ٹیسٹ ۲۰؍ کا پہلا دستہ ہوگا۔