• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

دادر:صحافیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کی مذمت اور زبردست احتجاج

Updated: October 05, 2023, 12:04 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

یہاں صحافیوں کے خلاف دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ذریعے کی جانے والی کارروائی کی مذمت کی گئی اور زبردست احتجاج کیا گیا

Protesters outside Dadar station condemning the action on journalists.
دادر اسٹیشن کے باہر مظاہرین صحافیوں پر کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے۔(تصویر:انقلاب)

یہاں صحافیوں کے خلاف دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ذریعے کی جانے والی کارروائی کی مذمت کی گئی  اور زبردست احتجاج کیا گیا۔بدھ کی شام کو ساڑھے ۵؍بجے دادر اسٹیشن کے باہر آرڈبلیو پی آئی ، نوجوان بھارت سبھا اور استری مکتی لیگ کے کارکنان نےاحتجاج کیا اور نیوزکلک پرکارروائی کی شدید مذمت کی ۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میںپلے کارڈزلئے ہوئے تھے اور ’غیرملکی فنڈنگ بہانہ ہے، صحافیوں کی آوازدباناہے ، گودی میڈیا کا بائیکاٹ کرو،مودی حکومت کا کیاہے کھیل ،بنو گودی میڈیا ورنہ جاؤ جیل اوردلّی پولیس شرم کرو‘ کے نعرے بلند کررہے تھے ۔
 اس موقع پرمظاہرین نےپرزور اپیل کی کہ ساتھیو!اس وقت صحافیوں کی آواز دبانے اورکچلنے کی جو کوشش کی جارہی ہےاس کے خلاف آوازبلند کرو،ان کاساتھ دو ورنہ آنے والے وقتوں میںنہ تو بے خوف صحافی بچیںگے اورنہ ہی عوامی مسائل کو نمایاںکرنا ممکن ہوسکےگا۔ یہ صحافیوں پرحملہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت کےچوتھے ستون پرحملہ ہے۔ 
 احتجاج میںپیش پیش رہنے والے بھارت کی کرانتی کاری پارٹی کے ذمہ دار ببن ٹھوکے نے کہا کہ’’ صحافیوںکے گھروں پرچھاپے اور یو اے پی اے کےتحت کیس درج کیا جانا یہ کوئی معمولی بات نہیںہے بلکہ منصوبہ بندطریقےسے حکومت کے ذریعے صحافیوں کوڈرایا جارہا ہے،آزادیٔ اظہار رائے پرقدغن لگائی جارہی ہے اورصحافت کاگلا گھونٹے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’نیوزکلک سے جڑے جن صحافیو ںکے خلاف کارروائی کی گئی ،ا ن کے گھروں پرچھاپے مارے گئے،ان کے لیپ ٹاپ اورفون ضبط کئے گئے ، اس میںکیا تھا ،کون سے رازتھے ،کیا محض اس طرح کی کارروائی کےذریعے صحافیوں کوڈراکر ان کی آوازبند کی جارہی ہے ۔‘‘ 
 ڈاکٹرپوجاچنچولے (استری مکتی لیگ ) نے کہا کہ’’ یہ پترکاروں پرنہیںبلکہ سمویدھان پرحملہ ہے ، جمہوریت پرحملہ ہے ،اس لئے اس وقت خاموش رہنے کا مطلب دیش کا نقصان کرنا ہے۔ ‘‘ انہوں نے  یہ بھی کہا کہ ’’ آج جولوگ تماشائی بنے ہوئے ہیں اورہر بات میںحکومت کی ہاںمیںہاں ملا رہے ہیںان کو آنے والے وقتوں میںاندازہ ہوگا کہ انہوںنے کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔ ‘‘ اویناش کمار نے کہا کہ ’’ آج کچھ گِنے چنے آزاد میڈیا چینل ہیں جو یو ٹیو ب اور اسپیشل سائٹ کے ذریعے فسطائی طاقتوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں۔ اس لئے نیوزکلک کے صحافیوں کی حمایت میںہمیں آواز بلند کرنی ہوگی ورنہ اگر حکومت کوکامیابی ملی توکل کوئی بھی وہ شخص محفوظ نہیںرہے گا  ۔ ‘‘ ششانک سورو نے کہاکہ ’’نیوزکلک اوردیگر صحافیوں کیخلاف کارروائی کرنے والی دہلی پولیس کی اسپیشل فورس کوشرم آنی چاہئے۔  نیوزکلک کے ایڈیٹر پربیر، گیتا ہری ہرن ، سینئر صحافی ارملیش ، بھاشا سنگھ ،ابھیسار شرما اور سہیل ہاشمی جیسے صحافیو ںکا قصور کیا ہے ، کیا وہ سچائی دکھاتے ہیں اور حکومت کے گمراہ کن دعوؤں کی پول کھولتے ہیں،یہ ان کاجرم ہے یا یہ ان کی صحافتی ذمہ داری ہے؟‘‘

Dadar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK