دہلی کے وزیراعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر پھر آمنے سامنے

Updated: July 23, 2022, 12:53 PM IST | Agency | New Delhi

اروند کیجریوال کی نئی ایکسائز پالیسی کے خلاف ایل جی نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیا ، ’آپ کے سربراہ نے کہا’’ ہم ساورکر کی اولاد نہیں ہیں جیل جانے سے نہیں ڈریں گے‘‘

Another decision of Arvind Kejriwal under the pen of the Lieutenant Governor.Picture:INN
اروند کیجریوال کا ایک اور فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر کے قلم کی زد میں تصویر: ایجنسی

  دہلی میں جب سے عام آدمی پارٹی اقتدار میں آئی ہے ( ۲۰۱۳ء کے بعد سے) یہاں کے لیفٹیننٹ گورنر کا عہدہ ، وزیراعلیٰ کے حریف درجہ اختیار کر گیا ہے۔ ہرچند کہ اس دوران  دہلی کے ۳؍ مختلف ایل جی رہے لیکن تینوں ہی نے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے کسی نہ کسی فیصلے پر روک لگانے کی کوشش کی۔ اب موجودہ ایل جی ونئے کمار سکسینہ کیجریوال کے سامنے ہیں اور انہوں نے  حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی کے خلاف سی  بی آئی جانچ کا حکم جاری کر دیا ہے۔  اس حکم کے جاری ہوتے ہی اروند کیجریوال بھی میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے ایل جی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم ساورکر کی اولاد نہیں ہیں، ہم جیل جانے سے نہیں ڈرتے نہیں ہیں، ‘‘ ادھر  لیفٹیننٹ گورنر کا کہنا ہے کہ دہلی حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی دراصل آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں کئی طرح کے قوانین کا طاق  پر رکھ دیا گیا ہے۔    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ایل جی نے یہ اقدام اسی مہینے چیف سیکریٹری کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کی بنا پر کیا گیا ہے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نئی پالیسی میں   نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی  ۱۹۹۱ء قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی کاروباری لین دین کے قانون ۱۹۹۳ء  کے بھی خلاف ہے۔  اس کے علاوہ اس میں دہلی آبکاری قانون ۲۰۰۹ء اور  دہلی آبکاری قانون ۲۰۱۰ء کی خلاف ورزی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ اس لئے اسے نافذ کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ اس کی جانچ کی جانی ضروری ہے۔  اتنا ہی نہیں کیجریوال حکومت پر نئی آبکاری پالیسی میں ضابطوں کو نظر انداز کر کے شراب خانوں کے  ٹینڈر دینے کا بھی الزام لگا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی حکومت کی نئی آبکاری پالیسی ۱۷؍ نومبر ۲۲۱ء کو نافذ کی گئی تھی  جس کے تحت ۳۲؍ ژون میں تقسیم شہر  ۸۴۹؍ ٹھیکوں کیلئے  بولی لگانے والے  نجی اداروں کو لائسنس جاری کئے گئے۔  اس کی وجہ سے کئی شراب کی دکانیں کھل نہیں پائیں اور کارپوریشن نے ان کے لائسنس منسوخ کر دیئے۔ 
  یاد رہے کہ گزشتہ سال اس پالیسی کے متعارف کرواتے ہی کانگریس اور بی جے پی نے اس کی مخالفت کی تھی۔  نیز اس پالیسی کی جانچ کیلئے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ مل کر مرکزی ایجنسیوں کے پاس شکایت درج کروائی تھی۔  ایل جی نے اس تعلق سے چیف سیکریٹری سے رپورٹ طلب کی تھی۔ رپورٹ کے آجانےکے بعد انہوں نے باقاعدہ اپنی طرف سے اس پالیسی کے خلاف سی بی  آئی جانچ کی سفارش جاری کر دی ہے۔ 
 ہم ساورکر کی اولاد نہیں ہیں:
 ایل جی کی جانب سے حکم جاری ہونے کے بعد اروند کیجریوال سخت برہم ہیں اور انہوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے ایل جی ونئے کمار سکسینہ کو چیلنج کیا ہے۔  انہوں نے اس اقدام کو منیش سسودیا ( دہلی میں آبکاری محکمہ انہی کے پاس ہے) کو پھنسانے کی سازش قرار دیا۔  انہوں  نے کہا ’’ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ منیش سسودیا کو جیل بھیجا جانے والا ہے۔ میں نے پریس کانفرنس میں اور اپنی تقریروں میں اس بات کو دہرایا تھا کہ  منیش سسودیا کے خلاف سازش جاری ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہمارے ملک میں اب ایک نیا سسٹم نافذ ہو گیا  ہے ۔ پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس آدمی کو جیل میں ڈالنا ہے۔ اس کے بعد اس کے خلاف من گھڑت الزامات تیار کئے جاتے ہیں اور کیس بنایا جاتا ہے۔‘‘   اروند کیجریوال نے  ایل جی سمیت بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ’’ ہم ساورکر کی اولاد نہیں ہیں، ہم جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔‘‘ انہوں نے بی جے پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’ تم لوگ ساورکر کی اولادیں ہو جس نے انگریزوں سے معافی مانگی تھی۔ ہم بھگت سنگھ کے ماننے والے ہیں جنہوں نے انگریزوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے پھانسی پر چڑھنا گوارا کیا۔‘‘ یاد رہے کہ اس سے قبل اروند کیجریوال کو سنگاپور میں ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا لیکن لیفٹیننٹ گورنر نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔  تب سے دونوں کے درمیان چپقلش جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK