• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈومبیولی: ۲۸ ؍سال پرانے قتل کا معمہ حل، کلیدی ملزم بہار سے گرفتار

Updated: October 21, 2026, 11:00 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

قانون کے ہاتھ بالآخر ۲۸ ؍برس بعد ایک سفاک قاتل کے گریبان تک پہنچ ہی گئے۔ڈومبیولی ریلوے پولیس (جی آر پی) نے لگ بھگ ۳؍ دہائی پرانے ایک قتل کیس کی گتھی سلجھاتے ہوئے کلیدی ملزم کو بہار سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

Key suspect Sandeep Krishnan in the custody of the Railway Police. Photo: INN
کلیدی ملزم سندیپ کرشنن ریلوے پولیس کی گرفت میں۔ تصویر: آئی این این

قانون کے ہاتھ بالآخر ۲۸ ؍برس بعد ایک سفاک قاتل کے گریبان تک پہنچ ہی گئے۔ڈومبیولی ریلوے پولیس (جی آر پی) نے لگ بھگ ۳؍ دہائی پرانے ایک قتل کیس کی گتھی سلجھاتے ہوئے کلیدی ملزم کو بہار سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ملزم نے اپنی بہن کو طلاق دینے کی دیرینہ دشمنی اور رنجش کو دل میں پال رکھا تھا اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے ۲؍ ساتھیوں کی مدد سے بہنوئی کا قتل کرکے لاش ریلوے ٹریک پر پھینک دی تھی تاکہ اسے ٹرین حادثہ قرار دیا جا سکے۔

۱۵؍ دسمبر ۱۹۹۸ ءکو ڈومبیولی اور کوپر ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹریوں سے ایک شخص کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ابتدائی مرحلے میں  ریلوے پولیس کی جانب سے اسے محض ایک ٹرین حادثہ تصور کیا جا رہا تھا۔ تفتیشی عمل کے دوران متوفی کی شناخت شیلیش مورے کے طور پر ہوئی۔ لاش کی نوعیت اور شواہد کی بنیاد پر شبہات گہرے ہوئے تو پولیس نے باقاعدہ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے باریک بینی سے جانچ شروع کی۔پولیس کے مطابق شیلیش مورے کا اپنی بیوی سے تنازع کے بعد طلاق کا معاملہ پیش آیا تھا جس کے باعث سندیپ کرشنن اپنے بہنوئی سے شدید ناراض تھا۔ اسی انتقام کی آگ میں سندیپ کرشنن نے اپنے ۲؍ ساتھیوں ونود یادو اور ونیش کرشنن کے ساتھ مل کر خونی منصوبہ تیار کیا۔ملزمین نے ایک پارٹی کے بہانے شیلیش کو مدعو کیا اور پتھروں سے وحشیانہ انداز میں کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعد ازاں واردات پر پردہ ڈالنے اور پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے لاش کو پٹریوں کے درمیان ڈال دیا گیا تاکہ واقعہ محض ایک ریلوے حادثہ معلوم ہو۔واردات کے فوراً بعد تمام نامزد ملزمین جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے تھے جس کی وجہ سے کیس برسوں تک سرد خانے کی نذر رہا۔

۲۸ سال بعد ملزم کیسے پکڑا گیا؟

ڈومبیولی جی آر پی کے سینئر پولیس انسپکٹر بابا صاحب تھورات نے بتایا کہ فرار ملزمین کی تلاش مہم کے تحت پولیس نے مختلف معاملات میں فرار ملزمین کی فہرست بنائی اور تکنیکی معلومات اور سراغ رساں ذرائع کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ۲۸ ؍سال قبل شیلیش مورے کے قتل میں ماخوذ کئے گئے سبھی ملزمین کی تکنیکی معلومات حاصل کی گئی ۔ملزم سندیپ کرشنن کو طویل عرصے بعد بہار کے ایک دور دراز علاقے سے پکڑا گیا گیا۔گرفتاری کے بعد ملزم کو کلیان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے اسے پولیس تحویل میں بھیجنے کے احکامات جاری کئے۔بابا صاحب تھورات کا کہنا ہے کہ اس پرانے قتل کیس کے باقی ماندہ ۲؍ مفرور ملزمین ونودیادو اور ونیش کرشنن کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بہت جلد انہیں بھی سلاخوں کےپیچھے پہنچایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK