مہاراشٹر اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی لاپروائی کے سبب مہاڈ کا بس اسٹینڈ زبوں حالی کا شکار

Updated: September 27, 2022, 9:53 AM IST | mahad

احاطے میں صفائی کا فقدان، بیٹھنے کی جگہ پر پترے کاشیڈٹوٹ کر معلق ہے ،بس ا سٹینڈ پر کیچڑ اور گڑھوں کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات

A broken stone shed at Mahad Bus Depot, which is not being attended to by the management. (Photo, Inqlab)
مہاڈ بس ڈپو پر پترے کا ٹوٹا ہوا شیڈ جس پر انتظامیہ کی توجہ نہیں ہے۔(تصویر،انقلاب)

 مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ کی لاپروائی سے رائے گڑھ ضلع کے زیادہ تر بس اڈوں کی  صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔کہیں پر صفائی کا فقدان ہے تو کہیں پر مسافر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ضلع کے کئی بس اڈوں  پر  گڑھوں اورکیچڑ  کے سبب  بھی مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی بس اسٹیشنوں سے خستہ حال بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ تاریخی اہمیت کے حامل  ہونے اور ممبئی گوا ہائی وے سے متصل ہونے  کی وجہ سے مہاڈ کا بس اسٹیشن مرکزی بس اسٹیشن کی حیثیت رکھتا ہے اس کے باوجود یہ اسٹیشن انتظامیہ کی لاپروائی کا شکار ہے۔مسافروں کے لئے یہاںپینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ یہاں موجود بیت الخلاء وقت پر صاف نہیںکئے جاتے، احاطے میں جمع شدہ کچرا کئی کئی دنوں تک ٹھکانے نہیں لگایا جاتا جس کے سبب یہاں ہمیشہ تعفن پھیلا رہتا ہے جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔بس اسٹیشن کے داخلی حصہ میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے ہیں  اور ان میںبارش کا پانی جمع ہوجانے سے مسافروں کو  ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں پریشانیاں ہو رہی ہیں۔بس اسٹیشن کے احاطہ میں واقع مسافر شیڈ خستہ ہو چکے ہیں ۔کئی روٹ پر خستہ حال بسیں بھی چلائی جا رہی ہیں ۔مسافروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے افسران کو بار بار یاددہانی  کے باوجود عملی طور پر کوئی انتظامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔کہا جارہا ہےکہ رائے گڑھ ڈویژن میں مہاڈ بس ڈپو کے پاس سب  سے وسیع و عریض جگہ دستیاب ہے، باوجود اسکے انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی  اور عدم توجہی کے سبب ہزاروں مسافر پریشان ہیں۔مہاڈ میں شیواجی مہاراج کا رائے گڑھ قلعہ موجود ہے۔ شہر میں  تاریخی  تالاب بھی ہے جہاں پر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے پانی کے لئے ستیہ گرہ کی تھی ۔کورونا کے دور میں یہاں کی سبھی بسیں بند تھیں اور ۲۰۲۱ میں مہاڈ میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے مہاڈ ایس ٹی ڈپو کا بڑے پیمانے نقصان ہو اتھا۔تقریبا ۶۰؍ بسیں سیلاب میں ڈوب گئی تھیں۔ان میں۴۰؍ شیو شاہی بسیں شامل تھیں۔واقعہ کے ایک سال بعد بھی مہاڈ ڈپو میں ایک بھی نئی بس شامل نہیں کی گئی۔سیلاب میں ڈوبی ہوئی بسیں درست کرکے چلائی جا رہی ہیں اور یہ بسیں راستوں پر کبھی بھی بند  ہو جا رہی ہیں جس کی وجہ سے مسافر کافی پریشان ہوگئے ہیں۔

mahad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK