مرکزی کنٹرول پر شدید تنقیدوں کے بعد قومی راجدھانی میں الیکشن کمیشن کا اقدام، ای آر اوز نے اسے بڑی راحت قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 11:42 AM IST | New Delhi
مرکزی کنٹرول پر شدید تنقیدوں کے بعد قومی راجدھانی میں الیکشن کمیشن کا اقدام، ای آر اوز نے اسے بڑی راحت قرار دیا۔
الیکشن کمیشن نے دہلی میں انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) کو اپنے ای سی آئی نیٹ پورٹل پر نئے اختیارات فراہم کئے ہیں، جن کے تحت وہ بعض ووٹروں کے نام بغیر دستاویزات طلب کئے اور سماعت منعقد کے بغیر حتمی ووٹر لسٹ میں شامل رکھنے کی منظوری دے سکتے ہیں۔ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ سہولت۳۰؍ ستمبر سے پہلے پورٹل پر دستیاب نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پھلے، شاہو اور امبیڈکر کی کتابوں پر پابندی سے باز رہے حکومت: پرکاش امبیڈکر
رپورٹ کے مطابق، نئے نظام کے تحت ای آر او کسی ووٹر کے خلاف جاری نوٹس کو ختم کرتے ہوئے اسے اہل قرار دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کی اہلیت اور تصدیق کے عمل کی تکمیل سے مطمئن ہو۔ اس کے لیے افسر کو پورٹل پر ایک اعلامیہ اپ لوڈ کرنا ہوگا، جس میں وہ تصدیق کرے گا کہ ووٹر کی اہلیت کی جانچ مکمل کر لی گئی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق یہ سہولت خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران شروع ہی سے دستیاب ہونی چاہیے تھی، کیونکہ متعدد ووٹر مقررہ دستاویزات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک انتخابی رجسٹریشن افسر نے بتایا کہ اب وہ ایسے معاملات میں، جہاں مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں، اپنی تصدیق کے بعد ووٹر کا نام برقرار رکھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے افسر کے مطابق، نئے اختیارات ملنے کے بعد وہ روزانہ سیکڑوں معاملات نمٹا رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ ایک دن میں ۵۰؍سے زیادہ معاملات حل نہیں کر پاتے تھے۔
دہلی میں تقریباً۳۳ء۱؍ لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں لیکن اب تک ۵؍لاکھ سے بھی کم معاملات کی کارروائی مکمل ہو سکی ہے۔ مغربی دہلی اسمبلی حلقے میں اب تک صرف دو معاملات نمٹائے گئے ہیں۔ نوٹس پر کارروائی مکمل کرنے کی آخری تاریخ۳۰؍نومبر مقرر کی گئی ہے۔ سماعت کیلئے حاضر نہ ہونے پر دہلی میں اس خبر کے لکھے جانے تک ۳۵۰؍ سے زائد ووٹروں کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔