• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں الیکشن افسران کو بغیر دستاویز کے بھی ووٹر کو اہل قرار دینے کا اختیار

Updated: October 04, 2026, 11:42 AM IST | New Delhi

مرکزی کنٹرول پر شدید تنقیدوں  کے بعد قومی راجدھانی میں  الیکشن کمیشن کا اقدام، ای آر اوز نے اسے بڑی راحت قرار دیا۔

Election officials in Delhi can make decisions at their own discretion. Photo: INN
دہلی میں انتخابی افسران اپنی صوابدید پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن نے دہلی میں انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) کو اپنے ای سی آئی نیٹ پورٹل پر نئے اختیارات فراہم کئے ہیں، جن کے تحت وہ بعض ووٹروں کے نام بغیر دستاویزات طلب کئے اور سماعت منعقد کے بغیر حتمی ووٹر لسٹ میں شامل رکھنے کی منظوری دے سکتے ہیں۔ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ سہولت۳۰؍ ستمبر سے پہلے پورٹل پر دستیاب نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھئے: پھلے، شاہو اور امبیڈکر کی کتابوں پر پابندی سے باز رہے حکومت: پرکاش امبیڈکر

رپورٹ کے مطابق، نئے نظام کے تحت ای آر او کسی ووٹر کے خلاف جاری نوٹس کو ختم کرتے ہوئے اسے اہل قرار دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کی اہلیت اور تصدیق کے عمل کی تکمیل سے مطمئن ہو۔ اس کے لیے افسر کو پورٹل پر ایک اعلامیہ اپ لوڈ کرنا ہوگا، جس میں وہ تصدیق کرے گا کہ ووٹر کی اہلیت کی جانچ مکمل کر لی گئی ہے۔ انتخابی افسران کے مطابق یہ سہولت خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران شروع ہی سے دستیاب ہونی چاہیے تھی، کیونکہ متعدد ووٹر مقررہ دستاویزات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک انتخابی رجسٹریشن افسر نے بتایا کہ اب وہ ایسے معاملات میں، جہاں مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں، اپنی تصدیق کے بعد ووٹر کا نام برقرار رکھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے افسر کے مطابق، نئے اختیارات ملنے کے بعد وہ روزانہ سیکڑوں معاملات نمٹا رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ ایک دن میں ۵۰؍سے زیادہ معاملات حل نہیں کر پاتے تھے۔ 
دہلی میں تقریباً۳۳ء۱؍ لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں لیکن اب تک ۵؍لاکھ سے بھی کم معاملات کی کارروائی مکمل ہو سکی ہے۔ مغربی دہلی اسمبلی حلقے میں اب تک صرف دو معاملات نمٹائے گئے ہیں۔ نوٹس پر کارروائی مکمل کرنے کی آخری تاریخ۳۰؍نومبر مقرر کی گئی ہے۔ سماعت کیلئے حاضر نہ ہونے پر دہلی میں  اس خبر کے لکھے جانے تک ۳۵۰؍ سے زائد ووٹروں کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK