• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پھلے، شاہو اور امبیڈکر کی کتابوں پر پابندی سے باز رہے حکومت: پرکاش امبیڈکر

Updated: October 04, 2026, 11:27 AM IST | Pune

ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومت ایسا کوئی قدم ا ٹھاتی ہے تو ان عظیم ہستیو ں کے پیروکار سڑکوں پر اترینگے۔

Prakash Ambedkar, chief of the Vanchit Bahujan Aghadi. Photo: INN
ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر۔ تصویر: آئی این این

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور جیوتی با پھلےکی کتابوں کے تعلق سےسوشل میڈیا پرایک حلقے کے ذریعے کئے گئے اعتراض  اور مرکزی وزارت تعلیم کے ذریعے سینٹرل یونیور سٹیوں سے ان کتابوں کے مشمولات کی تفصیلات طلب کئے جانے پرونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈ کرنے سخت رد عمل ظاہرکیا ہے۔ پونے میں اپنی رہائش گاہ پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکرونے کہا کہ ’’کیا حکومت جیوتی با پھلے، شاہو مہاراج اور امبیڈکر کے پیروکاروں کی طاقت دیکھنا چاہتی ہے۔ ‘‘ ونچت بہوجن اگھاڑی کے قومی صدر پرکاش امبیڈکر نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ حکومت کا پھلے، شاہو اور امبیڈکر نظریات مبنی کتابوں کےمشمولات پر اگر پابندی لگانے کا ارادہ ہے تو اسے واپس لے ورنہ ان عظیم ہستیوں کے پیروکار سڑکوں پراتریں گے اورشدید احتجاج کریں گے۔ 
واضح رہےکہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں شاہو مہاراج، مہاتما پھلے، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کے خیالات کو منووادی نظام کے خلاف قراردیتے ہوئے ان کا جائزہ لینے کی اپیل کی گئی اور انہیں اور نصاب سے خارج کرنے کی اپیل کرتے ہوئےکہا گیا کہ ان کے مشمولات طلبہ کے ذہنوں میں زہر گھولنے والے ہیں۔ پوسٹ میں بابا صاحب امبیڈکر کی کتاب’ انہیلیشن آف کاسٹ‘ اورپھلے کی ’ غلام گری‘کا حوالہ دیاگیاہے۔ اس پوسٹ کاوزیر اعظم کے ذریعےنوٹس لئے جانے پرپرکاش امبیڈکر نے مرکزی حکومت کے کردار پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے ہٹلر جیسا نظریہ اپنایا ہے جس نے کئی کتابوں پر جرمن مخالف سمجھ کر پابندی لگا دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ: پانچ سال سے زیادہ زیر سماعت قید کے بعد محمد شہزاد کمال کو ضمانت

پرکاش امبیڈکر نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں شاہو، پھلے اور امبیڈکر کے نظریات پڑھائے جاتے ہیں مگر اب ان کے مشمولات کونصاب سےنکالنے کا راستہ تلاش کیاجارہا ہے۔ اس پر فوراً روک لگنی چاہئے۔ انہوں نے بتایاکہ بالا صاحب ٹھاکرے نے۷۹-۱۹۷۸ء میں ڈاکٹر امبیڈکر کی کتاب ’رڈلز اِن ہندوازم ‘ کی مخالفت کرکےتنازع کھڑا کر دیا تھا جس کے خلاف اس وقت ان عظیم ہستیوں کےہزاروں پیروکار سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ انہوں نےکہا کہ منوواد ایک ایسا نظام ہے جو عورتوں، شودروں اور اتی شودروں کو سماجی غلامی بناکررکھنا چاہتا ہے۔ تاہم اب کوئی بھی غلام بن کر رہنے کو تیار نہیں۔ اس لیے حکومت کا اگر ایساکوئی ارادہ ہے تو اس سے باز رہے ورنہ عوام سڑکوں پر آئے بغیر نہیں رہیں گے۔ اقلیتوں کے بارے میں سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے الزام لگایا کہ سنگھ کے کردار میں دوغلا پن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بی جے پی جین زی کی لڑائی سے خوفزدہ نظر آتی ہے لیکن اپوزیشن سے جس اتحاد کی توقع کی جارہی ہے وہ اس میں نہیں ہے۔ اس پر کانگریس اور این سی پی کو سخت موقف اختیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے جین زی سے اپیل کی کہ وہ امبیڈکر کے نظریات کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کریں اوراس لڑائی کی قیادت کرے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK