• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’اے آئی کانفرنس‘ میںڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر ماہرین کااظہار تشویش

Updated: February 18, 2026, 8:15 AM IST | New Delhi

نیویارک ٹائمز سے وابستہ رہی مشہور صحافی ویوین شیلرنے اسے علمی نظام کیلئے بڑا چیلنج قرار دیا تو حکومت کے پرنسپل سائنسی مشیر نے بچوں کیلئے ایک محفوظ اور جامع فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا

The conference is also seeing strong public participation.
کانفرنس میں عوام کی بھی بھرپور شرکت نظر آرہی ہے

ہندوستان میں جاری دنیا کی سب سے بڑی اے آئی کانفرنس ’اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶‘ میں دنیا بھر کے ماہرین شریک ہیں اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے دنیا کے سلگتے ہوئےموضوعات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔اسی دوران نیویارک ٹائمز سے وابستہ رہی نامور صحافی ویوین شیلر نے اے آئی کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات، ڈیپ فیس اور فرضی خبروں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی موجودہ معلوماتی اور علمی نظام پر دو بڑے طریقے سے اثر انداز ہو رہی ہے، جو مستقبل میں خبروں کی ساکھ کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
  انہوں نے پہلے نکتے پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ آج انٹرنیٹ پر ڈیپ فیک، مشکوک آڈیو ریکارڈنگ، جعلی تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا کو بے معنی اور گمراہ کن مواد سے بھر دیا ہے، جس سے عام صارف کیلئے سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جعلی ویڈیوز اور آڈیوز نہ صرف عوامی رائے کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ سماجی انتشار کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔دوسرے اہم پہلو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کا خبروں اور اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب لوگ روایتی ذرائع کے بجائے چیٹ بوٹس پر انحصار کر رہے ہیں۔ ویوین شیلر کے مطابق یہ ایک تشویشناک رجحان ہے کیونکہ یہ بوٹس معلومات تو فراہم کر دیتے ہیں، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ فراہم کردہ معلومات درست ہیں یا غیر درست۔ انہوں نے صحافتی اقدار کی بقا کیلئے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں معلومات کی درستی اور حقائق کی جانچ کا نظام مزید مضبوط ہونا چاہئے۔
 اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے پرنسپل سانسی مشیر پروفیسر اجے کمار سو دنے اے آئی کے حوالے سے بچوں کیلئے ایک جامع اور مضبوط فریم بنانے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اے آئی کو خوف سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس سمجھ کے ساتھ دیکھنا چاہئے کہ یہ بچوں کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔ انہوںنے یونیسیف کی طرف سے ’اے آئی اور بچے : محفوظ ، جامع اور بااختیار بنانے کیلئے اصولوں کا عملی طور پر بدلنا‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران یہ باتیں کہیں۔ 
 پروفیسر سود نے کہا کہ ہندوستان میں ڈیجیٹل رسائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بچے تیزی سے اے آئی سے چلنے والے پلیٹ فارمز سے روشناس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ایسے میں ایک محفوظ ، جامع اور بااختیار بنانے والے فریم ورک کی ضرورت ہے جو بچوں کی نشوونما کیلئے سازگار ہو ۔‘‘پروفیسر سود نے کہا کہ اے آئی سسٹم اب بچوں کے سیکھنے کے انداز ، معلومات تک رسائی اور رویے کے ردعمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ اے آئی ساتھیوں کے ساتھ بڑھنے کے طویل مدتی اثرات، جیسے کہ ذاتی نوعیت کی سیکھنے والی ایپس اور الگورتھم پر مبنی فیڈز، کیا ہوں گے۔ بچوں کی مجموعی نشوونما پر اُن کے اثرات کو سمجھنے کیلئے مزید شواہد اور نئے ٹولز کی ضرورت ہے ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کو اکثر دو دھاری تلوار کہا جاتا ہے ، لہٰذا گورننس کا مقصد مواقع کی دھار کو تیز کرنا اور خطرات کی دھار کو ختم کرنا چاہئے۔ اے آئی تمام بچوں کی رسائی کو بہتر بنا کر سماجی شمولیت کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اے آئی ٹولز پر زیادہ انحصار کے خلاف خبردار کیا کیونکہ یہ تنقیدی سوچ اور آزاد مسئلہ حل کرنے کی تکنیک کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے سیکریٹری ایس کرشنن نے کہا کہ’ اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کا انعقاد اگلی نسل کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایک ایسے گورننس میکانزم پر غور کرنا چاہئے جو بچوں اور قوم کو کسی بھی منفی اثرات سے بچائے ۔ ‘‘ناروے کے سفیر مے ایلن سٹینر نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کیلئے محفوظ اور جامع اے آئی ناروے کی ترجیح ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK