قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے بعد رسول اکرم ؐ کی شان اقدس میں گستاخی سے دینی جماعتوں کے ذمہ داروں نے یک زبان ہو کر وسیم رضوی کی مذمت کی
EPAPER
Updated: November 27, 2021, 7:48 AM IST | sajid Shaikh | Mumbai
قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے بعد رسول اکرم ؐ کی شان اقدس میں گستاخی سے دینی جماعتوں کے ذمہ داروں نے یک زبان ہو کر وسیم رضوی کی مذمت کی
قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے بعدوسیم رضوی نے رسولِ اکرمؐ کی شانِ اقدس میں گستاخی بھی کی جس سے پورے ملک کے مسلمان ناراض ہیں اور اس کے خلاف جگہ جگہ مظاہرہ کئے گئے۔ میراروڈ کے مسلمانوں میں بھی اس کے خلاف شدید بے چینی اور اضطراب پایا جارہا ہے اور انہوں نے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ علاقے کی دینی جماعتوں نے یک زبان ہو کر وسیم رضوی کی مذمّت کی اور اس کےخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔
شیعہ عالم دین،جامعہ فاطمہ کے منتظم اور جوادی ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور ناظمِ عمومی مولانا سیّد فیضان جوادی نے وسیم رضوی کی گستاخی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم کو بھی اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے کیونکہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کا یکساں احترام سکھاتا ہے اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ تمام انسانوں کیلئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف اس قسم کے لوگوں کا بلکہ ان جیسوں کی پُشت پناہی کرنے والے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص دوبارہ ایسی ذلیل حرکت کرنے کی کوشش نہ کرے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس شخص کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔
حیدری جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا سید حسن امام نے کہا کہ یہ جو وسیم رضوی ہے، اس کا کوئی وجود نہیں ہے مگر اسے بہت بڑی پُشت پناہی حاصل ہے ۔اس کے پیچھے مسلم دشمن طاقتیں ہیں۔ اب کی بار اس نے تمام حدیں پار کردیں ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ احتجاج کریں ،قانونی کارروائی کریں تاکہ اس ملعون کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور اِس نے جو ہمارے حضور سرکار دوعالم ؐ کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے تو لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ جو شخص اپنے پیغمبر کا نہ ہوا ، وہ کسی کا کیا ہوگا اور یہ ملعون جو ہندوستان کی سالمیت کو ختم کر رہا ہے، اگر اس کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو پھر یہ پورے ملک کے ماحول کو ختم کردے گا ۔ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مرتد و ملعون شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔
جمعیۃ العلماء میرابھائندر کے صدر مولانا زکریا نے کہا کہ وسیم رضوی سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے اسلام کے خلاف مسلسل زہر افشانیاں کر رہا ہے ،قرآن مجید اور حضرت محمدؐ کی توہین کر رہا ہے۔ یہ شخص مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکا کر فساد برپا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور آئین ہند کی خلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ آئین ہند کسی بھی مذہب اور مذہبی شخصیات اور اُن کی مقدس کتابوں کے خلاف توہین آمیز کلمات کی اجازت نہیں دیتا۔ جمعیۃ العلماء میرابھائندر کے جنرل سیکریٹری مولانا انظار الحق قاسمی نے کہا کہ وسیم رضوی نے اس سے قبل بھی اس قسم کی گستاخی کی ہے اور مسلسل کر رہا ہے۔ ہم حکومت وقت سے عرض کرتے ہیں کہ اس قسم کے شرپسند عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ گنگا جمنی تہذیب برقرار رہ سکے ۔
وحدت اسلامی میراروڈ کے مقامی ذمہ دار سید امین نے کہا کہ ہم یوپی کی حکومت اور مرکزی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وسیم رضوی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے فوراً گرفتار کیا جائے اور حکومت اس کارروائی کے ذریعے ثبوت دے کہ وہ ملک کی اقلیت کو بھی ساتھ لے کر چل رہی ہے۔
مدنی ہائی اسکول کے معلّم اور آل انڈیا ملّی کونسل میرا بھائندر کے جنرل سیکریٹری مولاناشمیم ریحان ندوی نے وسیم رضوی کو امّتِ مسلمہ کے لئے سب سے بڑا ناسور قرار دیتے ہوئے اس کی گستاخی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وسیم رضوی کا حال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پرندہ جال میں پھنس گیا ہو اور اس جال سے نکلنے کیلئے سارے جتن کر رہا ہو۔وسیم رضوی نے شیعہ وقف بورڈ کا اتنا بڑا گھپلہ کیا ہے کہ اس کے سر پر جیل جانے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے اور اس ممکنہ گرفتاری سے بچنے کیلئے اور موجودہ مسلم مخالف مرکزی حکومت کی خوشنودی کیلئے ضمیر فروشی اور جی حضوری کی حد پار کر رہا ہے اِس نے میر جعفر،میر صادق اور دوسرے منافقین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اسلامک سینٹر میراروڈ کے ایڈمن مولانا ماہر زماں قاسمی نے کہا کہ ملعون وسیم رضوی گزشتہ کئی برسوں سے فخر دوعالم نبی کریم محمد مصطفیٰ ؐ کی شان اقدس میں گستاخیاں کرتا آ رہا ہے، حالیہ دنوں میں اس نے نبی رحمت ؐ کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں اس نے اپنی خبثِ باطنی اور دریدہ دہنی کی انتہا کردی ۔ہمارے ملک کیلئے یہ شرمناک بات ہے کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست بی جے پی حکومت کی پشت پناہی اس کو حاصل ہے۔
مشہور عالم دین اور محمدیہ ہائی اسکول کے معلّم مولانا عبداللہ بدرالدین اصلاحی غازی پوری نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گستاخِ قرآن،گستاخِ رسول ، بدنامِ زمانہ وسیم رضوی کو اسلام دشمن طاقتیں گاہے بگاہے ملک کا ماحول خراب کرنے اور مختلف مذاہب کے درمیان شدید نفرت اور تفرقہ پیدا کرنے کے لئے بطورِ آلہ کار استعمال کر رہی ہیں ۔ اتر پردیش کی یوگی حکومت اس ملعون شخص کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی ، کیوں اسے چھوٹ دی جارہی ہے ۔کیا اس کے عمل سے ملک میں تناؤ نہیں بڑھ رہا ہے۔ اس ملعون شخص کے خلاف کارروائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے پوری چھوٹ ملی ہوئی ہے اور یہ چھوٹ گندی سیاسی مفادات کیلئے ہے۔ مولانا نے پُر زور انداز میں کہا کہ ہم باشندگان میراروڈ حکومت اترپردیش سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے دہشت گرد قرار دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔