مودی سرکار کی وعدہ خلافی پر کسانوں کا ملک گیر احتجاج

Updated: February 01, 2022, 9:25 AM IST | new Delhi

ہریانہ ،پنجاب اور مغربی اتر پردیش میں  خاطر خواہ اثر نظر آیا، جے پور اور دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے، حکومت کو متنبہ کیاگیا کہ تحریک دوبارہ شروع کرنے پر مجبور نہ کرے

Farmers from villages in Punjab go to the District Collector`s office to protest.
پنجاب میں دیہات سے کسان احتجاج کیلئے ضلع کلکٹر کے دفتر کی طرف جاتے ہوئے۔

 ایک سال تک چلنے والے کسانوں  کے احتجاج کو ختم کرانے کیلئے کئے گئے وعدوں کو پورا  نہ کرنے پر پیر ۳۱؍ جنوری کو ’’یوم اعتماد شکنی‘‘ مناتے ہوئے سنیوکت کسان مورچہ کے لیڈروں  نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ انہیں  دوبارہ احتجاج  شروع کرنے پر مجبور نہ کرے۔  ’یوم اعتماد شکنی ‘ مناتے ہوئے سنیوکت کسان مورچہ نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت  کے خلاف ملک کے ۵۰۰؍ اضلاع میں احتجاج کیا۔ احتجاج کا اثر سب سے زیادہ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں نظر آیا۔ 
 راکیش ٹکیت  نے حکومت سے جواب مانگا
  بھارتیہ کسان یونین کے اہم لیڈر اور سنیوکت کسان مورچہ کے رکن راکیش ٹکیت نے پیر کو یوم اعتماد شکنی (وشواس گھات دیوس)   کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں کسانوں کے احتجاج کی تصویریں ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے حکومت کو اس کاوعدہ یاد دلایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’کسانوں کے ساتھ اعتماد شکنی یہ ہے کہ آندولن کے دوران درج کئے گئے مقدمے واپس نہیں  لئے گئے، جاں بحق ہونے والے کسانوں کو معاوضہ نہیں ملا، ایم ایس پی کیلئے کمیٹی نہیں بنی، بجلی بل پر گفتگونہیں ہوئی، مرکزی محکموں  نے نوٹس اور مقدمات کا نمٹارانہیں کیا۔‘‘انہوں نے حکومت ہند سے اس پر جواب طلب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ ’’کسانوںکے ساتھ اس اعتماد شکنی کے بعد یہ بات واضح ہے کہ ملک کا کسان لمبی  جدوجہد کیلئے تیار ہے۔‘‘
مشن اتر پردیش کیلئے کسان پُرعزم، بی جے پی کو انتباہ 
  ایم ایس پی کی قانونی ضمانت اور آندولن کے دوران کسانوں پر عائد کئے گئے مقدمات واپس نہ لینے نیز اجے مشرا ٹینی کو مرکزی کابینہ سے نہ ہٹانے پر برہم کسان یو پی میں   بی جے پی کو ہرانے کیلئے ’’مشن اتر پردیش‘‘ کے تعلق سے بھی پُرعزم ہیں۔ مظفر نگر، شاملی اور سہارنپور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں کسانوں نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ حکومت کو اس کی وعدہ خلافی یاد دلاتے ہوئے یہ انتباہ بھی دیا کہ اس کا جواب ووٹنگ مشینوں سے دیا جائےگا۔ 
  پورے مظفر نگر ضلع میں یومِ وشواس گھات مناتے ہوئے  مرکزی اور  یوپی سرکارکو کسان لیڈروں  نے خبردار کیا کہ سرکار کسانوں کا مزیدامتحان نہ لےکیو نکہ اگر اب کی بار کسان  دہلی کی سرحد پر بیٹھ گئے تو ۲۰۲۴ء میں ہی اٹھیں گے۔کسانوں نے اس  بات پر برہمی کااظہار کیا کہ جو وعدے تحریری طور پر کیے گئے تھے،وہ بھی پورے نہیں  ہوئے۔ کسان مورچہ کے لیڈر انل کمار نے کہاکہ سرکار نے لکھ کر وعدہ کیا تھا کہ تحریک کے دوران کسانوں کے خلاف درج مقدمے واپس  لیے جائیں گے مگر  اترپردیش میں کہیں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔انھوں نے کہا یوپی میں ہزاروں مقدمے ہیں۔ کسانوں کے گھروں پر اس معاملہ میں سمن آرہے ہیں،مگر سرکار ہے کہ مہر بلب ہے۔ 
 دوبارہ تحریک پر مجبور نہ کریں: شاملی کے کسان
 بھارتیہ کسان یونین نے شاملی میں بھی وشواس گھات دیوس مناتے ہوئے  سرکار پر کسانوں سے وعدہ پورا نے کرنے کا الزام لگایااور کہا کہ سرکار کسانوں کو دوبارہ تحریک چلانے پر مجبور نہ کرے۔کسان  لیڈر کپل کھٹیان نے کہا کہ ابھی تو کسانوں کے خلاف درج مقدمے بھی واپس نہیں ہوئے ہیں۔کپل کھٹیان جو  بھارتیہ کسان یونین کے ضلعی صدر ہیں، کی قیادت میں درجنوں کارکنوں نے کلکٹریٹ پہنچ کر مظاہرہ کیا۔  انہوں نے حکومت کو یاد  دہانی کرائی کہ ایم سی پی کی قانونی ضمانت  اور مقدمات کی واپسی کے پختہ  اور تحریری وعدہ کے بعد ہی  دھرنا ختم  کیاگیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ ’’ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر ملک کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
اجے مشرا کو کابینہ سے نہ ہٹانے پر بھی برہمی
 اس کے ساتھ ہی لکھیم پور کھیری معاملہ میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ میں سازش کو قبول کرنے کے باوجود مبینہ اہم سازشی اجے مشرا ٹینی کو  مرکزی کابینہ  سےنہ ہٹائے جانے پر بھی کپل کھٹیان  نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔  انہوں نے متنبہ کیا کہ  بر سر اقتدار طبقہ کسانوں کے صبر کا امتحان نہ لے اور تحریری وعدوں کو جلد پورا کرے بصورت دیگر کسان یونین احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس موقع پر ایس ڈی ایم کو ایک میمورنڈم بھی سونپا گیا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK