ملک کے عوام کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر لڑانا بی جے پی کا راج دھرم ہے : راکیش ٹکیت

Updated: July 04, 2021, 9:25 AM IST | New Delhi

مقبول کسان لیڈر ٹکیت کے مطابق بی جے پی کسانوں کی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے اب ذات پات کی سیاست پر اتر آئی ہے لیکن اسے منہ توڑ جوا ب دیا جائے گا ، کسانوں کو پوری طرح تیار رہنے کا حکم

Rakesh Tikait has suffocated the BJP through the Kisan Tehreek
راکیش ٹکیت نے کسان تحریک کے ذریعے بی جے پی کی ناک میں دم کردیا ہے

مقبول کسان لیڈر راکیش ٹکیت تو گزشتہ ۷؍ ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے مرکز کی مودی حکومت سے لو ہا لے رہے ہیں نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی  ہمیشہ ملک کے لوگوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر لڑاتی رہی ہے اور اپنا الّو سیدھا کرتی رہی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کیوں کہ ہم کسانوں نے طے کرلیا ہےکہ ہم بی جے پی کی اس سیاست کو  اب کبھی کامیاب نہیں ہونےدیں گے ۔ ٹکیت نے کہا کہ  مذہب اور ذات پات کے نام پر عوام کو لڑانا ہی بی جے پی کا راج دھرم ہے۔  واضح رہے کہ بی جے پی کی یوپی لیڈر شپ  کی جانب سے  والمیکی سماج کو راکیش ٹکیت اور ان کی تنظیم کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اسی وجہ سے افواہیں بھی پھیلائی جارہی ہیں لیکن راکیش ٹکیت نے اس کا منہ توڑ  جواب دیتے ہوئےوالمیکی سماج کے ذریعے ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک تصویر ٹویٹ کی اور بتایا کہ  اس سماج کے لوگوں کے ساتھ ان کی بہترین یادیں ہیں۔ بی جے پی والے لاکھ کوشش کرلیں لیکن اب وہ ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ اس کے ساتھ ہی راکیش ٹکیت نے اگلے کچھ دنوں میں والمیکی سماج کے لوگوں کے ساتھ والمیکی کسان پنچایت بھی کرنے کا اعلان کیا۔
 راکیش ٹکیت نے اپنے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بالکل واضح کردیا کہ وہ یوپی الیکشن میں بی جے پی کے خلاف تشہیر کریں گے اورووٹروں سے اپیل کریں گے کہ بی جے پی کو بالکل ووٹ نہ دیا جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو ایک مرتبہ پھر یہ پارٹی ذات پات کی سیاست کرے گی اور پورے ملک کو فروخت کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ووٹ کسی بھی قیمت پر نہ دیا جائے باقی کسی بھی پارٹی کو ووٹ دے دیں۔ اس سے ووٹ کی اہمیت بھی بڑھے گی اور بی جے پی والوں کی بھی سمجھ میں آئے گا کہ ملک کے عوام اور کسانوں کو غیر اہم سمجھنا اس کے لئے کتنا مہنگا ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ سرکار کو اسے واپس لینا ہی پڑے گا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے تو ہم ایک مرتبہ پھر دہلی میں داخل ہونے کو تیار ہیں اور اس مرتبہ ہمیں کوئی روک نہیں سکے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس مرتبہ جو ٹریکٹر ریلی نکالی جائے گی وہ کہیں اور نہیں بلکہ سیدھا پارلیمنٹ تک جائے گی اور اپنے مطالبات منواکر ہی وہاں سے واپس آئے گی۔  انہوں نے زرعی قوانین کی واپسی کے سلسلے میں ۲۰۲۴ء تک بھی احتجاج کرنے اور مودی سرکار کے ہٹنے کا انتظار کرنے کا اعلان بھی کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK