قانون کی منظوری کے بعد بنگلہ دیش میں عصمت دری کے ۵؍ مجرموں کو سزائے موت

Updated: October 17, 2020, 3:28 AM IST | Dhaka

بنگلہ دیش میں ایک ۱۵؍ سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں ۵؍افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش میں ایک ۱۵؍ سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں ۵؍افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں طویل احتجاج کے بعد عوامی مطالبے پر حکومت نے جنسی زیادتی کے مجرموں کیلئے تین روز قبل ہی پھانسی کی سزا کا قانون منظور کیا تھا۔جمعہ کو تلنگیال کی عدالت نے ۱۵؍ سالہ بچی کیساتھ اجتماعی زیادتی کے جرم میں ساگر چندرا شیل، گوپی چندرا شیل، راجون چندرا، سنجیت چندرا اور مونی رشی کو سزائے موت اور ایک لاکھ ٹکا فی کس جرمانہ عائد کردیا۔متاثرہ لڑکی کو ۲۰۱۲ء میں اس کا دوست ساگر چندرا تفریح کے بہانے ندی کنارے لے کر گیا تھا جہاں اس نے لڑکی پر چھپ کر شادی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور انکار پر اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس مکروہ عمل کیلئے دیگر دو افراد نے تینوں دوستوں کی مدد کی تھی۔ ڈی این اے ٹیسٹ، لڑکی کے بیان اور ملزمین کے اقبال جرم پر خصوصی عدالت نےیہ فیصلہ سنا یا۔
 اس سے قبل بنگلہ دیش میں جنسی زیادتی کی سزا عمر قید تھی تاہم ۸؍ روز قبل ایک عورت پر جنسی حملہ کرنے والے غنڈوں کا ویڈیووائرل ہونے کے بعد ملک بھرمیں جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا تھا جس میں حکومت سے جنسی زیادتی کے ملزمین کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس سے قبل حکمراں جماعت کے طلبہ ونگ کے اراکین نے ایک طالبہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا جس پر ملک گیر احتجاج کے بعد ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم گزشتہ ہفتے کے واقعے کے بعد مظاہرے پُر تشدد ہوگئے اور حسینہ واجد کی حکومت کو عوامی مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK