• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لاڈلی بہن اسکیم سے ۴۵؍لاکھ خواتین محروم ہوسکتی ہیں!

Updated: January 01, 2026, 11:22 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۳۱؍دسمبرکی ڈیڈلائن ختم ہونےکےباوجود لاکھوں خواتین نے’ کےوائی سی‘ مکمل نہیں کیا۔۲۰۲۵ء کے آخری دن متعدد خواتین کے بینک اکائونٹ میں ۲؍مہینے کی قسط منتقل کی گئی

Ladli Behan Scheme is benefiting lakhs of women. (File photo)
لاڈلی بہن اسکیم سے لاکھوں خواتین فائدہ اٹھارہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

 لاڈلی بہن  اسکیم کے تحت ’ای کے وائی سی‘ کی تاریخ میں ۳۱؍دسمبر تک توسیع کرنے کے باوجود ۴۵؍لاکھ سے زیادہ خواتین ’کےوائی سی ‘مکمل نہیں کرسکیں جس کی وجہ سے انہیں اسکیم سے خارج کیا جاسکتا ہے ۔ اسی دوران ۳۱؍ دسمبر کو ہی متعدد خواتین کے بینک اکائونٹ میں ۲؍مہینے کی قسط منتقل کی گئی ہے۔ اس کےعلاوہ ۷؍ہزار  خاتون سرکاریملازمین جنہوںنے اسکیم سے فائدہ اُٹھایا،ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری شردع کردی گئی ہے۔ 
  واضح رہےکہ وزیر اعلیٰ کی ’ماجھی لاڈکی بہن‘ یوجنا کے تحت ’ای کے وائی سی‘ کی آخری تاریخ میں توسیع کے بعد بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ۳۱؍دسمبر تک ’ای کے وائی سی‘ مکمل نہیں کیا ۔۲ء۳۰ کروڑ میں سے صرف ایک کروڑ ۸۵؍لاکھ مستفیدین نے ’کے وائی سی‘ کا عمل مکمل کیا ہے۔ تقریباً  ۴۵؍ لاکھ خواتین نے مختلف مشکلات کی وجہ سے ’ای کے وائی سی‘ مکمل نہیں کیا۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کا کہنا ہے کہ ای کے وائی سی مکمل کرنے کیلئے اسکیم سے فائدہ اٹھانے   والی خواتین کو تمام سہولیات فراہم کرنے کے باوجود  وہ  یہ عمل مکمل نہیں کر رہی ہیں ،دوسری جانب کے کے وائی سی کی ڈیڈ لائن میں دوبارہ توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
 لاڈلی بہن اسکیم کے آغازپر استفادہ کرنے والی خواتین کیلئےڈھائی لاکھ روپے کی خاندان کی آمدنی مقرر کی گئی تھی۔  اسی طرح یہ بھی واضح کیا گیا تھاکہ سرکاری ملازمین اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔ اس کے بعد بھی بڑی تعداد میں   انہوں نے اس اسکیم سےاستفادہ کیا  ۔ ’ای- کے وائی سی‘ کی شرط ایسے ہی فرضی استفادہ کنندگان کو اسکیم سے خارج کرنے کیلئے رکھی گئی ہے۔ اس کیلئے ۱۸؍ نومبر کی ابتدائی ڈیڈ لائن دی گئی تھی لیکن اس ڈیڈلائن پر ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ خواتین کا ’ کے وائی سی‘ مکمل نہیںہوسکاتھا ۔ اس لئے اس کی مدت میں ۳۱؍دسمبر تک توسیع کی گئی تھی۔اس دوران خواتین اور بچوں کی بہبود کے ریاستی محکمہ کے مطابق ۳۰؍ دسمبر تک ایک کروڑ ۸۵؍ لاکھ خواتین نے’ کےوائی سی ‘مکمل کر لیا ہے۔۴۵؍ لاکھ خواتین کا’ کے وائی سی‘ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ اب متعلقہ محکمہ کے پاس توسیع کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
 ایسی بھی اطلاع ہےکہ متعدد استفادہ کنندگان ’ای کے وائی سی‘ کیلئے آگے نہیں آتیں کیونکہ اس عمل کی وجہ سے آمدنی کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ اسی طرح، اگر وہ سرکاری ملازم ہیں تو وہ معاملہ بھی ’ای کے وائی سی‘ کی وجہ سے بے نقاب ہو جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق یہی وجوہات ’ای کے وائی سی‘ کے حوالے سے خواتین کی ہیں۔
   متعلقہ محکمہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’ای کے وائی سی ‘کی مدت میں توسیع حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہوا تو کابینہ  کے اجلاس میں ہی کیا جائے گا۔
 دریں اثناء یہ بات بھی سامنے آئی ہےکہ تقریباً ۷؍ ہزار سرکاری ملازمین لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ اٹھا چکی ہیں۔ ان ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان کی تنخواہ میں اضافہ فوری طور پر روک دیا جائے گااور ان سے اسکیم کے نام پر لی گئی رقم بھی وصول کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK