ڈی جی سی اے نے ایئرلائنز کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اگر مسافر نے ایئرلائن کی ویب سائٹ کے ذریعے بکنگ کروانے کے ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر نام میں غلطی کی نشاندہی کر دی ہو تو نام کی درستی کے لیے اضافی چارجز عائد نہ کیے جائیں۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 3:31 PM IST | New Delhi
ڈی جی سی اے نے ایئرلائنز کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اگر مسافر نے ایئرلائن کی ویب سائٹ کے ذریعے بکنگ کروانے کے ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر نام میں غلطی کی نشاندہی کر دی ہو تو نام کی درستی کے لیے اضافی چارجز عائد نہ کیے جائیں۔
ہندوستان کے ہوا بازی کے ریگولیٹر نے مسافروں کے لیے زیادہ سازگار ریفنڈ قوانین متعارف کرواتے ہوئے سخت ڈیڈ لائنز مقرر کیں، کیونکہ طویل عرصے سے فضائی مسافروں کی جانب سے تاخیر یا کم رقم کی واپسی سے متعلق شکایات سامنے آ رہی تھیں۔
اب فضائی مسافروں کو ٹکٹ بک کروانے کے ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر منسوخی یا ری شیڈولنگ کی صورت میں کوئی اضافی (جرمانہ) فیس ادا نہیں کرنا ہوگی، سوائے ری شیڈولنگ کی صورت میں کرایے کے فرق کے۔
ایئرلائنز پر لازم ہوگا کہ وہ نقد خریدے گئے ٹکٹ کی رقم فوری واپس کریں، کریڈٹ کارڈ سے خریدے گئے ٹکٹ کی رقم منسوخی کے ۷؍ دن کے اندر واپس کر یں اور اگر بکنگ کسی ٹریول ایجنٹ یا آن لائن پورٹل کے ذریعے کی گئی ہو تو ۱۴؍ دن کے اندر رقم واپس کریں۔ تاہم ۴۸؍ گھنٹوں کا یہ ’’لُک اِن آپشن‘‘ اُن بکنگز پر لاگو نہیں ہوگا جو براہِ راست ایئرلائن کی ویب سائٹ سے کی گئی ہوں، اگر روانگی کی مقررہ تاریخ بکنگ کی تاریخ سے ۔
ہوابازی سے متعلق قانونی امور کے ماہر وکیل گرمنراج سنگھ گل کے مطابق، یہ ۴۸؍گھنٹوں کی رعایت پہلے بھی موجود ہے، تاہم اس میں روانگی کی شرط اندرونِ ملک پرواز کے لیے ۵؍ دن سے کم، اور بین الاقوامی پرواز کے لیے ۱۵؍ دن سے کم ہے۔نظرِ ثانی شدہ قواعد، جو ڈی جی سی اے کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، ۲۶؍ مارچ سے نافذ العمل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفاورلڈکپ: میزبان شہروں کو فنڈنگ منجمد ہونے کے باعث منصوبہ بندی میں مشکلات
ڈی جی سی اے نے مزید کہا ہے کہ اگر کسی مسافر یا اسی پی این آر (پی این آر) میں شامل اس کے کسی اہلِ خانہ کو سفر کے دوران طبی ایمرجنسی کے باعث اسپتال میں داخل ہونا پڑ جائے تو ٹکٹ منسوخ ہونے کی صورت میں ایئرلائن یا تو رقم واپس کر سکتی ہے یا کریڈٹ شیل فراہم کر سکتی ہے۔ دیگر طبی ہنگامی حالات میں، رقم کی واپسی اس وقت کی جائے گی جب ایئرلائن کے ایرو اسپیس میڈیسن ماہر یا ڈی جی سی اے سے منظور شدہ ماہر کی جانب سے مسافر کے سفر کے قابل ہونے سے متعلق سرٹیفکیٹ پر رائے موصول ہو جائے گی۔ ریگولیٹر نے بروقت ریفنڈ کی ذمہ داری ٹریول ایجنٹس یا تیسرے فریق کے بجائے ایئرلائنز پر عائد کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں: ٹرمپ
بیان میں کہا گیا کہ ’’اگر ٹکٹ کسی ٹریول ایجنٹ یا پورٹل کے ذریعے خریدا گیا ہو تو ریفنڈ کی ذمہ داری ایئرلائن پر ہوگی کیونکہ ایجنٹس ان کے مقرر کردہ نمائندے ہوتے ہیں۔‘‘ڈی جی سی اے نے مزید کہاکہ ’’اگرچہ حکومت ایئرلائنز کے تجارتی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی، لیکن شکایات کی بڑی تعداد عوام کے مفاد کے تحفظ کے لیے مثبت اقدامات کی متقاضی ہے۔‘‘ٹکٹ ریفنڈ کے مسائل دسمبر میں انڈیگو کی پروازوں میں خلل کے دوران نمایاں ہوئے تھے، جب شہری ہوا بازی کی وزارت نے ایئرلائن کو مقررہ وقت کے اندر ریفنڈ مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔