فرانس اور اٹلی میں لوٹ مار کرنے والوں کا مقابلہ کرنے والے دکانداروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، لیکن موجودہ رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین اور ان کے مطالبات کے لیے اکثریتی حمایت موجود ہے۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 10:04 PM IST | Paris
فرانس اور اٹلی میں لوٹ مار کرنے والوں کا مقابلہ کرنے والے دکانداروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، لیکن موجودہ رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین اور ان کے مطالبات کے لیے اکثریتی حمایت موجود ہے۔
فرانس اور اٹلی میں کئی شہروں میں رہن سہن اور تعلیم کے اخراجات پر ہونے والے مظاہرے پرتشدد ہونے کے بعد اس ہفتے کے آخر میں دکان مالکان اور ملازمین نے لوٹ مار کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی۔ تصادم کی ویڈیو آن لائن بڑے پیمانے پر پھیل گئی ہے، اور کچھ مبصرین اسے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ عوام مظاہروں کے خلاف ہو گئی ہے۔نیس میں، پیئر کے نام سے شناخت کیے گئے ایک ویڈیو گیم اسٹور کے ملازم نے اپنی دکان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے لوٹ مار کرنے والوں کے سامنے کھڑا ہوا اور اسے پیٹھ پر لات ماری گئی۔ جبکہ پیرس میں، ایک خاتون دکان مالکہ نے لوہے کی سلاخ سے لوٹ مار کرنے والوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ دیگر کلپ میں سینٹ ایٹین میں ایک شخص کو لوٹ مار کرنے والے کو تھپڑ مارتے ہوئے اور ملہاؤس میں فون شاپ کے ملازمین کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ میلان میں، ایک شخص نے لاٹھی کے ساتھ انڈر آرمر اسٹور پر لوٹ مار کرنے والوں کا سامنا کیا۔
What? Even Decathlon? Nah. Vinted flooded with suspected stolen goods in the wake of looting in France. Perfumes, designer handbags and Pokémon cards popping up on second-hand marketplaces. Find them, France. https://t.co/Nbwybl1o4I
— ✨CALANTHE ✨ (@sirius1706) October 19, 2026
واضح رہے کہ دونوں ممالک میں مظاہرے پرامن طریقے سے شروع ہوئے تھے۔ جنگوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف میلان مارچ اس وقت پرتشدد ہو گیا جب نقاب پوش افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور دکانوں کو لوٹ لیا۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے کہا کہ پولیس فسادات کے پیمانے کے لیے تیار نہیں تھی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا، جسے صدر میکرون نے قبول نہیں کیا۔ہفتے کے آخر میں لوٹ مار کے بعد رائے عامہ کی پیمائش کرنے والا ابھی تک کوئی پول نہیں آیا ہے۔ اگرچہ موجودہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین کی حمایت اور لوٹ مار کی مخالفت متضاد نہیں ہے۔
بعد ازاں ۸؍ اکتوبر کو ایلابے کے ایک پول میں پایا گیا کہ۵۵؍ فیصد فرانسیسی عوام نے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی، جبکہ۳۵؍ فیصد نے نا منظوری ظاہر کی۔جبکہ ۷۰؍ فیصد سے زیادہ نے مطالبات کو جائز قرار دیا۔۲۰۱۸ء کے ’’ییلو ویسٹ‘‘ مظاہروں کے دوران، ایک پول میں پایا گیا کہ ۷۰؍ فیصد سے زیادہ نے تحریک کی حمایت کی، جبکہ۸۵؍ فیصد نے کہا کہ وہ تشدد سے خوفزدہ ہیں۔ تاہم یہ ایک مختلف تحریک تھی، لہذا یہ صرف ایک نظیر ہے۔ فوٹیج میں دکاندار چوری اور تباہی کا جواب دے رہے تھے، مظاہرین کے مطالبات کا نہیں۔
“She is a sister. Don’t loot here, let’s go there!” Muslim rioters in France recognize the shop owner as a fellow Muslim just before nearly destroying her store by accident. Not a single Muslim-owned business or mosque has been looted in the riots. https://t.co/bM6uhcCMY3
— Dr. Maalouf (@realMaalouf) October 19, 2026
تاہم، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ فرانسیسی معاشرے میں گہری عدم مساوات کے خلاف غصے کی عکاسی کرتی ہے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ ارب پتیوں کی دولت ریکارڈ۱۸؍ اعشاریہ ۳؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو۲۰۲۰ء کے بعد سے۸۱؍ فیصد زیادہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فرانس میں، ۵۳؍ ارب پتیوں کے پاس۳۲؍ ملین لوگوں سے زیادہ دولت ہے۔ آکسفیم فرانس کا کہنا ہے کہ۱۰؍ ارب پتی زیادہ تر فرانسیسی میڈیا کے مالک ہیں، اور ان میں سے چار تقریباً نصف ٹی وی چینلز کو کنٹرول کرتے ہیں۔