مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے ہندوستانی برآمدات کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں ۱۰۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی سے چھوٹ ملے گی۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے ہندوستانی برآمدات کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں ۱۰۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی سے چھوٹ ملے گی۔
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے ہندوستانی برآمدات کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں ۱۰۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی سے چھوٹ ملے گی۔ اس معاہدے سے ملک کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، کسانوں، نوجوانوں اور محنت پر مبنی شعبوں کے لیے کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پیوش گوئل کے مطابق، یہ معاہدہ ہندوستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے بھی ترقی کے نئے راستے کھولے گا۔
پیوش گوئل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے ہندوستانی کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کو نیوزی لینڈ کی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور وہ اپنی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرسکیں گے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس معاہدے سے ہندوستانی کسانوں کو پھلوں، سبزیوں، مصالحوں اور دیگر زرعی مصنوعات کے لیے وسیع بین الاقوامی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کو فروغ دینے، کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے اور ان کے روزگار کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ اسی لیے دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات جیسے حساس شعبوں کو اس تجارتی معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ ان شعبوں سے وابستہ افراد کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے:میک لارین کی پانچ تاریخی فارمولا ون کاریں فروخت کرنے کا اعلان
پیوش گوئل کے مطابق، ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تجارتی تعلقات میں وسعت سے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، کاروباری افراد اور نوجوانوں کے لیے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ ہندوستانی مصنوعات کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں بہتر مواقع ملنے سے برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے پیداواری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ محنت پر مبنی شعبوں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ان شعبوں میں کاروبار بڑھنے سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور چھوٹے کاروباروں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ نیوزی لینڈ نے ہندوستان میں ۲۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس سرمایہ کاری سے مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، خدمات اور اختراعات کے شعبوں کو مضبوط بنانے کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافے سے کاروباری اداروں کو فروغ مل سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی کاروباری شراکت داری کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پیوش گوئل نے کہا کہ وجے دشمی کے مبارک موقع پر ہندوستان اور نیوزی لینڈ اپنی اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے، کیونکہ ہندوستان۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ نافذ ہوگا۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کے لیے کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ باہمی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے نئے راستے کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہم معاہدے مضبوط قیادت، واضح وژن اور مشترکہ عزائم کو عملی مواقع میں تبدیل کرنے کے عزم کے ذریعے ممکن ہوتے ہیں۔ وزیر کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرس لکسن کے وژن نے اس تاریخی معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف فائرنگ: ہندی فلم انڈسٹری میں قانون و انتظام کی صورتِ حال پر تشویش
مرکزی وزیر نے نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میک لے اور دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کا مسلسل کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مارچ میں مذاکرات شروع ہونے سے لے کر معاہدے کے نفاذ تک کا سفر باہمی اعتماد اور متوازن، دونوں کے لیے فائدہ مند معاہدہ طے کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔پیوش گوئل نے ہندوستانی برآمد کنندگان، کاروباری اداروں، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور کاروباری افراد کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس معاہدے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، طویل مدتی شراکت داریاں قائم کریں اور اس کے امکانات کو عوام کے لیے حقیقی فوائد میں تبدیل کریں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ترقی اور باہمی خوشحالی کے مشترکہ تصور پر قائم یہ تجارتی شراکت داری مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔
مجموعی طور پر، ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے آزاد تجارتی معاہدے کا مقصد ہندوستانی برآمدات کو فروغ دینا، کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانا، سرمایہ کاری بڑھانا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ تاہم، ان فوائد کی حقیقی وسعت کا انحصار معاہدے کی شرائط، متعلقہ شعبوں کی تیاری اور کاروباری اداروں کی جانب سے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے پر ہوگا۔