اس مدت میں فلسطینیوں کو راحت اور تعمیر نو کا موقع ملنے کے بجائے اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 11:08 AM IST | Washington
اس مدت میں فلسطینیوں کو راحت اور تعمیر نو کا موقع ملنے کے بجائے اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس (بی او پی) کی جانب سے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے مقصد سے کرائی گئی جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، لیکن اس دوران فلسطینیوں کو راحت اور تعمیر نو کا موقع ملنے کے بجائے اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے زیر قبضہ علاقوں کو بھی وسیع کرلیا ہے۔
ٹرمپ نے ستمبر۲۰۲۵ء میں بورڈ آف پیس قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد غزہ کو مستحکم کرنا اور دیرپا امن کو یقینی بنانا تھا۔ نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں بورڈ کو غزہ کی عبوری انتظامیہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ تاہم، ایک سال گزرنے کے بعد بھی اس کے بیشتر اہداف پورے نہیں ہوسکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد آئی سی سی پر امریکی پابندیاں
ٹرمپ کے۲۰؍ نکاتی غزہ امن منصوبے میں بورڈ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے ساتھ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی شرائط بھی شامل تھیں ۔ جنگ بندی۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو نافذ ہوئی تھی۔ منصوبے کا مقصد ایسے اقدامات کرنا تھا جن سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی ایک قابل اعتماد راہ ہموار ہوسکے۔ بورڈ کو عبوری حکومتی ادارے کے طور پر کام کرنا تھا، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا انتظام سنبھال سکے۔ امریکی قیادت میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کو اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد علاقے کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔ منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو اور ترقی کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ فروری میں بورڈ کے ارکان نے واشنگٹن میں اپنے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی لیکن ہر کارروائی صرف میٹنگ تک ہی محدودرہی۔