Updated: October 10, 2026, 5:58 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرکے عالمی قانونی نظام اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھا دی ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ عدالت امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، جبکہ عدالت نے ان پابندیوں کو قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انصاف پر حملہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ اقدام عدالت کی ایک سابق جج کے نوبل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس سے واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عدالت نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادی اقدار پر حملہ‘‘ قرار دیا اور اپنے ۱۲۵؍رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ادارے کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا، ’’عدالت تنہا کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اب اس کا مستقبل ان ریاستوں کے ہاتھوں میں بھی ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا۔ یہ معاملہ صرف ایک ادارے کے دفاع کا نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ کا بھی ہے۔ تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی مخالف رہی ہے۔ یہ عدالت۲۰۰۲ء میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کیلئے قائم کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی امریکی انتظامیہ عدالت کے پراسیکیوٹرز اور ججوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ تاہم، جمعہ کو اٹھایا گیا قدم اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ اس کے تحت ان کمپنیوں کو بھی ممکنہ طور پر سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو خود عدالت کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح بین الاقوامی معاہدے کے تحت قائم کسی ادارے کے خلاف ایک غیر معمولی کارروائی کی گئی ہے۔ امریکہ نے ابتدا میں عدالت کے قیام کیلئے ہونے والے روم معاہدے پر دستخط کئے تھے، لیکن بعد میں اس کی توثیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونالڈ ٹرمپ برہم، ناروے پر ’ان مِٹ داغ‘ قرار دیا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا، جسے سب سے پہلے رائٹرز نے شائع کیا، ’’صدر ٹرمپ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اسی لئے آج امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ ہم اس باغی عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائیں گے، اس کے وسائل منقطع کریں گے اور اس کی کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے۔ ‘‘
پابندیوں میں رعایتی مدت بھی شامل
امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ابتدائی طور پر چھ ماہ کی رعایتی مدت مقرر کی ہے۔ اس کے علاوہ بعض معاملات کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جن میں ٹیلی مواصلات، سافٹ ویئر، پنشن کی ادائیگی اور زیر حراست افراد سے متعلق لین دین شامل ہیں۔ روبیو نے کہا کہ پابندیوں کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ عدالت اور اس کے رکن ممالک کو امریکی تحفظات دور کرنے کا موقع مل سکے۔ اگر امریکی مطالبات پورے نہ کئے گئے تو پابندیوں میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیلی حکام، جن میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو بھی شامل ہیں، کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات پر عدالت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق معاملے کو اب ترجیح نہیں دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے نے ٹرمپ کے ساتھ ایوارڈ شیئر کرنے پر مذاق کیا
روبیو نے اپنے بیان میں بیرونی ماہرین کے ان مطالبات کا بھی حوالہ دیا جن میں امریکی فوجی اہلکاروں، سرحدی گشت کرنے والے افسران اور منتخب لیڈروں کے خلاف مقدمات چلانے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام نے ایسے مقدمات چلانے کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نازہت شمیم خان نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ان پابندیوں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہماری تمام زیر غور صورت حال، تحقیقات اور مقدمات میں کام جاری رہے گا۔ ‘‘
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ چھ ماہ کی مدت ’’بات چیت کا موقع فراہم کرتی ہے‘‘۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یورپی یونین کے پاس ایسے متبادل اقدامات موجود ہیں جن کے ذریعے عدالت کے اہم کام کو جاری رکھنے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ بلجیم کے وزیر خارجہ نے عدالت کے تحفظ کیلئے یورپی یونین کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک ایسا قانونی ضابطہ نافذ کریں جو امریکی پابندیوں کے اثرات کو روکنے میں مدد دے سکے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اب تک۷۰؍ سے زائد افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے، جن میں عالمی لیڈر اور مختلف بین الاقوامی تنازعات کی اہم شخصیات شامل ہیں۔ نیتن یاہو کے علاوہ عدالت نے حماس کی شخصیات کی گرفتاری بھی طلب کی ہے۔ گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کرنے والی دیگر اہم شخصیات میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر اور لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی شامل ہیں۔ کینیا کے صدر ولیم روٹو اور سابق صدر اوہورو کینیاٹا کے خلاف الزامات واپس لے لئے گئے تھے۔
نوبیل کمیٹی نے سیاسی حملوں کے تناظر میں انعام دیا
امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک سے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے علیحدگی اختیار کرنے کے مطالبات کے باوجود اسے زیادہ تر رکن ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ان میں یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکہ و ترکی کے سوا نیٹو کے تمام ارکان شامل ہیں۔ عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز میں ہے، جو یورپی یونین اور نیٹو دونوں کا رکن ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوی پلے کو نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ پلے۲۰۰۳ءسے۲۰۰۸ء تک بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اپیلز چیمبر کی رکن رہی تھیں۔ نوبیل انعام دینے والی کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ انعام ایسے بین الاقوامی عدالتی اداروں کی حمایت کا اظہار ہے، ایسے وقت میں جب ’’بین الاقوامی قانون کے ججوں اور اداروں کو سیاسی حملوں کا سامنا ہے‘‘۔ کمیٹی نے کہا، ’’ایک ایسا بین الاقوامی قانونی نظام، جس میں جنگی مجرموں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور زیادتیوں کے متاثرین کو انصاف ملے، ایک پُرامن دنیا کیلئے بنیادی شرط ہے۔ ‘‘ امریکی پابندیوں کے تحت عموماً امریکہ میں قائم تمام کمپنیوں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے ادارے کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروبار یا تعاون سے روک دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بینک اکاؤنٹس بند کر سکتے ہیں، بیمہ کمپنیاں اپنی خدمات ختم کر سکتی ہیں اور سافٹ ویئر فراہم کرنے والی کمپنیاں تعاون روک سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’نازا‘ کی نمائش کے بعد اسرائیل سے متعلق امریکی رائے۵۰؍ برس کی کم ترین سطح پر
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بھی عدالت کے بعض عہدیداروں پر مخصوص پابندیاں عائد کی تھیں، جنہیں صدر جو بائیڈن کے دور میں ختم کر دیا گیا تھا۔ جنوری۲۰۲۵ء میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دن بعد واشنگٹن نے نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا تھا۔ عدالت کے حکام کئی ماہ سے اس امکان کی تیاری کر رہے تھے کہ امریکہ خود عدالت پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دفتری کمپیوٹرز پر مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر کی جگہ اوپن سورس متبادل استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں، جبکہ بینکاری اور صحت بیمہ کیلئے بھی نئے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔