Updated: October 22, 2026, 2:37 PM IST
| Riyadh
یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بعد امریکا نے سعودی عرب میں اپنے سفارتخانے کے تمام عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو روانہ ہونے کی ہدایت دی ہے۔ ایک حملے میں ڈرون کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارتخانے کے تمام عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب مسلسل حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کے تمام عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو روانہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں امریکی سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سعودی عرب میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک
سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے بدھ کو بتایا کہ تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے والے ڈرون کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے کے باعث دو افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا، ’’حملے کی کوشش کے نتیجے میں دو افراد، ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری، ہلاک ہوئے، جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے۔‘‘ ڈرون نے متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم، وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کس نے بھیجا تھا۔ اس سے قبل بدھ ہی کے روز سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے مملکت کی جانب آنے والے چھ ڈرونز کو روک لیا ہے۔ ان میں مشرقی صوبے اور مدینہ کے علاقے کی جانب آنے والے ڈرونز بھی شامل تھے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مملکت کی جانب بھیجے گئے چار ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا گیا ہے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے مشرقی صوبے اور مدینہ کے علاقے میں مزید ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی۔ حوثیوں نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ ان کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی فورسز نے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں میں ’’گہرائی تک‘‘ کوئی کارروائی نہیں کی۔
سعودی عرب پر مسلسل حملے
حوثیوں کے ساتھ تنازع میں شدت آنے کے باعث سعودی عرب کو رواں ماہ بار بار حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثی گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اکتوبر کے دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ۲۰؍ مرتبہ نشانہ بنایا، جبکہ نقل و حمل کے مراکز اور تیل کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔ ریاض میں ایک بریفنگ کے دوران ترکی المالکی نے کہا، ’’حوثیوں کو شہریوں اور شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی تمام دہشت گردانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کردینی چاہئیں۔‘‘