امریکی پابندی کے سبب ہواوے کو اسمارٹ فون چپس کی قلت کا سامنا

Updated: August 11, 2020, 10:47 AM IST | Agency | Washington

ہواوے ٹیکنالوجی لمیٹڈ دنیا بھر میں اسمارٹ فون بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس وقت امریکہ اور چین کی کاروباری چپقلش کا محوربنی ہوئی ہے

Huawei - PIC : INN
ہواوے ۔ تصویر : آئی این این

چین کی بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنی `ہواوے  پر امریکی پابندیاں عائد ہونے کے بعد اسے اپنے اسمارٹ فونز کے لیے مائیکرو پروسیسر چپس کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے مطابق امریکی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی قلت کی وجہ سے ہواوے کو اپنے جدید ترین پراسیسر چپس کی پیداوار روکنی پڑے گی۔ہواوے ٹیکنالوجی لمیٹڈ دنیا بھر میں اسمارٹ فون بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس وقت امریکہ اور چین کی کاروباری چپقلش کا محور ہے۔
 امریکہ چین کاروباری چپقلش اب چینی ایپس پر بھی اثر انداز ہونے لگی ہے اور ٹک ٹاک اور چین کی پیغام رسانی کے ایپ وی چیٹ کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔امریکہ نے ہواوے کی امریکی ٹیکنالوجی کی مصنوعات اور گوگل  میوزک اور دوسری اسمارٹ فون سروسیز تک رسائی روک دی تھی۔
 ان پابندیوں میں اس برس مئی میں مزید اضافہ کر دیا گیا تھا جب امریکہ نے دنیا بھر کی کمپنیوں کو ہواوے کیلئے امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مصنوعات بنانے سے منع کر دیا ہے۔امریکہ یورپی ممالک اور دوسرے حلیفوں سے بھی بات چیت کر رہا ہے کہ ہواوے کو ٹیکنالوجی کی مجوزہ نئے جنریشن نیٹ ورکس سے باہر رکھا جائے۔
 کمپنی کے کنزیومر یونٹ کے صدر رچرڈ یو کے مطابق ہواوے کی ڈیزائن کی گئی کیرین پروسیسر چپس کا پروڈکشن۱۵؍ ستمبر سے رک جائے گا کیونکہ یہ ان کانٹریکٹرز کے ذریعے بنائی جاتی ہے جنہیں امریکی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہواوے ابھی مکمل طور پر خود یہ چپس بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
 رچرڈ یو نے ایک کانفرنس چائنا انفو۱۰۰؍ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے یہ ہمارے لیے بڑا نقصان ہے۔ امریکی پابندیوں کے دوسرے راؤنڈ کے بعد ہمارے لیے چپ بنانے والوں نے صرف مئی کے وسط تک آرڈر لیے ہیں۔ اس وجہ سے یہ پیداوار۱۵؍ ستمبر تک بند ہو جائے گی۔‘‘
 ان کے مطابق اس برس اسمارٹ فونز کی فروخت پچھلے سال۲۰۱۹ء کی۲۴؍ کرور۴۰؍ لاکھ کی تعداد سے کم ہو گی۔ہواوے چین کی جانب سے جاسوسی میں مدد کرنے کے الزامات سے انکار کرتا ہے۔چین امریکہ پر الزام لگاتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے نام پر امریکی ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کو ایک حریف سے دور کر رہا ہے۔ ہواوے دنیا بھر میں چین سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK