آئی آئی ایم بنگلور کے طلبہ عمر خالد کی حمایت میں آگے آئے

Updated: September 16, 2020, 7:57 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

کہا کہ یہ جانچ دہلی تشدد سے متعلق ہے ہی نہیں ،اس کامقصد سی اے اے مخالف مظاہرین کو نشانہ بنانا ہے، آئی آئی ایم بنگلور کے طلبہ نے ملک کے دیگر ساتھیوں سے بھی اُٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی

Umar Khlalid - Pic : PTI
عمر خالد ۔ تصویر : پی ٹی آئی

دہلی فساد کی سازش رچنے کے الزام میں یو اے پی اے جیسے سخت قانون  کے تحت عمر خالد کی گرفتاری کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا سلسلہ  جاری ہے۔ منگل کو آئی آئی ایم بنگلور کے کم از کم ۴۰؍ طلبہ، عملے کے رکن اور  اساتذہ   عمر خالد کی حمایت  میں کھل کر سامنے آئے۔  انہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے درس وتدریس سے وابستہ افراد اور سماجی کارکنان کی ’’گرفتاری اورانہیں  ہراساں‘‘ کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ایسے افراد کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا ہے۔  
آئی آئی ایم بنگلور کے طلبہ کا مشترکہ بیان
 بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’پرامن اور اہنسا کے ساتھ احتجاج نہ صرف بنیادی حق ہے بلکہ جمہوریت  میں یہ بنیادی فریضہ بھی  ہے۔ ہم عمر خالد اوران دیگر تمام افرادکے ساتھ یکجہتی کااظہار کرتے ہیں  جنہیں مکروفریب پر مبنی جانچ کے ذریعہ نشانہ بنایا گیاہے  اور جس کے ذریعہ  دہلی فساد کے اصل خاطیوں کو آزاد چھوڑ دیاگیاہے۔‘‘   اس میں مزید کہاگیا ہے کہ ’’ہم درس وتدریس سے وابستہ ملک کے اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی اٹھ کھڑنے ہونے  اور فورس کے غیر آئینی  استعمال کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہیں جو جائز اختلافی آوازوں کو دبانے کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔‘‘
 دانشور اور فنکاروں نے بھی گرفتاری کی مذمت کی 
  دانشوروں، فنکاروں، درس وتدریس سے وابستہ افراد ، سماجی کارکنوں اور وکیلوں کی جانب سے بھی  تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے ۔سیدہ حمید، اروندھتی  رائے، رام چندر گوہا، ٹی ایم کرشنا، برندا کرات، جگنیش  میوانی ، پی سائی ناتھ، پرشانت بھوشن اور ہرش مندر سمیت ۳۶؍ اہم شخصیات نے اپناایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK