Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک تحقیق میں ہندوستان کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال

Updated: March 13, 2026, 6:10 PM IST | New Delhi

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ۲۰۱۵ء میں متعارف کرایا گیا نیا طریقہ کار غیر رسمی شعبے کی پیداوار اور قیمتوں کے رجحانات کو غلط پڑھتا ہے، جس سے ۲۰۰۰ء کی دہائی میں مضبوط اقتصادی بل کے باوجود حالیہ دہائی میں سست توسیع ظاہر ہوتی ہے۔

Indian GDP.Photo:INN
ہندوستانی جی ڈی پی۔ تصویر:آئی این این

ابھی حال ہی میں ماہرین معاشیات ابھیشیک آنند، جوش فیلمن اور اروِنِد سبرامانیان  کے ایک مطالعے کے مطابق، پچھلے دو دہائیوں میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا اندازہ نمایاں حد تک غلط لگایا گیا ہو سکتا ہے، جس میں سرکاری اعداد و شمار نے ۲۰۰۰ءکی دہائی کے بل کے سالوں کو کم اور بعد کے سالوں میں توسیع کو زیادہ ظاہر کیا۔
یہ تحقیق دعویٰ کرتی ہے کہ  ہندوستان کے قومی کھاتوں کے طریقہ کار، جو ۲۰۱۵ء میں متعارف کرایا گیا، نے ایسی تبدیلیاں پیدا کیں جو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کی ترقی کی کہانی بدل دیں۔ مطالعے کے مطابق معیشت نے ہر سال تقریباً ۶۔۷؍ فیصد کی مستقل توسیع کے بجائے ۲۰۰۰ءکی دہائی میں تیز رفتار اضافہ دیکھا، جس کے بعد ۲۰۰۸ء کے عالمی مالیاتی بحران اور متعدد داخلی جھٹکوں کے اثرات سے نمایاں سست روی آئی۔
ورکنگ پیپر کے مطابق۲۰۰۵ء سے۲۰۱۱ء کے درمیان ترقی کا اندازہ تقریباً۱- ۵ء۱؍ فیصد پوائنٹس سالانہ کم لگایا گیا ہو سکتا ہے، جبکہ۲۰۱۲ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ترقی کا اندازہ تقریباً۵ء۱-۲؍ فیصد پوائنٹس زیادہ لگایا گیا ہو سکتا ہے۔ ان کو ہم آہنگ کرنے کے بعد، مصنفین کا تخمینہ ہے کہ ۲۰۲۳۔۲۰۱۱ء کے دوران معیشت اوسطاً تقریباً ۴-۵ء۴؍ فیصد بڑھی، نہ کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۶؍ فیصد سے ۔
دوسرے الفاظ میں، نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت، جو تیسری مدت میں ہے، زیادہ تر اس عرصے میں اقتدار میں تھی جب معیشت کو اندازے سے سست بڑھتی ہوئی دکھایا گیا جبکہ منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے اس وقت حکومت میں تھی جب معیشت کو اندازوں سے زیادہ تیز بڑھتی ہوئی سمجھا گیا۔سبرامانیان، جو۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۸ء تک ہندوستان  کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر تھے، پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اکنامکس میں سینئر عہدہ پرہیں۔ آنند مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں وزیٹنگ فیلؤ ہیں، جبکہ فیلمن جے ایچ کنسلٹنگ میں پرنسپل ہیں۔
 رسمی بمقابلہ غیر رسمی شعبہ
مطالعہ کے مطابق شماریاتی بگاڑ بنیادی طور پر ۲۰۱۵ء میں متعارف کرائے گئے قومی کھاتوں کے نئے فریم ورک میں موجود دو طریقہ کار کے مسائل کی وجہ سے پیدا ہوئے، جب سبرامانیان چیف اکنامک ایڈوائزر تھے اور مودی حکومت اپنی پہلی مدت کا ایک سال مکمل کر چکی تھی۔سب سے پہلے، یہ طریقہ کار غیر رسمی شعبے کی سرگرمی کا تخمینہ لگانے کے لیے زیادہ تر رسمی شعبے کے ڈیٹا پر انحصار کرتا تھا چونکہ غیر رسمی اداروں کے حقیقی وقت کے قابل اعتماد ڈیٹا کی کمی تھی، سینٹرل اسٹاٹسٹیکل آفس ( سی ایس او) نے غیر رسمی شعبے کی پیداوار کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے رسمی کارپوریٹ شعبے کے اشارے استعمال کیے۔

یہ بھی پڑھئے:امتیاز علی کی ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ کا ٹیزر ریلیز

اس نقطہ نظر میں یہ مفروضہ تھا کہ غیر رسمی شعبہ، جو مجموعی ویلیو ایڈیڈ (جی وی اے ) کا ۴۴؍ فیصد ہے، عموماً رسمی شعبے کے ساتھ ہم آہنگ حرکت کرتا ہے۔ تاہم، پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مفروضہ متعدد جھٹکوں کے بعد ناکام ہو گیا، جن سے چھوٹے اور غیر رسمی ادارے زیادہ متاثر ہوئے۔۲۰۱۶ء میں بڑی کرنسی نوٹوں کی منسوخی، ۲۰۱۷ء میں جی ایس ٹی کا نفاذ اور کووِڈ۱۹؍ وبا کے اثرات نے غیر رسمی معیشت کو بڑے کارپوریٹ اداروں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ایم ایس دھونی کے بغیر سی ایس کے ادھورا: عرفان پٹھان

مطالعے میں  دیئے گئے  شواہد کے مطابق، ۲۰۱۵ءسے ۲۰۲۳ء کے درمیان رسمی شعبے کی آمدنی ہر سال تقریباً ۱۰؍ فیصد بڑھی جبکہ غیر رسمی شعبہ سالانہ تقریباً ۸ء۶؍فیصد بڑھا۔ دونوں شعبوں کے ایک جیسے شرح سے بڑھنے کے مفروضے کی وجہ سے، سرکاری اندازے ممکنہ طور پر غیر رسمی معیشت کی پیداوار کو زیادہ ظاہر کرتے ہیں اور یوں مجموعی ترقی کی رفتار بھی زیادہ لگتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK