• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکولوں میں صفائی کی سہولیات سے محروم بچوں کے معاملے میں ہندوستان دنیا بھر میں سرِفہرست: رپورٹ

Updated: September 29, 2026, 10:12 PM IST | New Delhi

”اسکولوں میں پینے کے پانی، صفائی اور حفظانِ صحت پر پیش رفت ۲۰۲۵-۲۰۱۵ء“ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں ۲۴ کروڑ ۴۰ لاکھ بچے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کی سہولیات سے محروم تھے۔ ان میں سے ۵ کروڑ بچوں کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ ہندوستان کے بعد نائیجیریا ۴ء۳ کروڑ بچوں کے ساتھ دوسرے، ایتھوپیا ۶ء۲ کروڑ بچوں کے ساتھ تیسرے، جمہوریہ کانگو ایک کروڑ دس لاکھ بچوں کے ساتھ چوتھے اور انڈونیشیا ۸۰ لاکھ کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام (جے ایم پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں اسکولوں میں صفائی کی بنیادی سہولیات سے محروم بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یہ تعداد عالمی سطح پر مجموعی تعداد کا تقریباً پانچواں حصہ یعنی تقریباً ۲۰ فیصد ہے۔ ”اسکولوں میں پینے کے پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت پر پیش رفت ۲۰۲۵-۲۰۱۵ء“ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں ۲۴ کروڑ ۴۰ لاکھ بچے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کی سہولیات سے محروم تھے۔ ان میں سے ۵ کروڑ بچوں کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ ہندوستان کے بعد نائیجیریا ۴ء۳ کروڑ بچوں کے ساتھ دوسرے، ایتھوپیا ۶ء۲ کروڑ بچوں کے ساتھ تیسرے، جمہوریہ کانگو ایک کروڑ دس لاکھ بچوں کے ساتھ چوتھے اور انڈونیشیا ۸۰ لاکھ بچوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھئے: کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں بلاک

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ جائزے کے اس دورانیے کے دوران ہندوستان کے ایسے اسکولوں، جہاں صفائی ستھرائی کی سہولیات موجود نہیں تھیں، کی تعداد میں ۱۴ فیصد کمی آئی ہے ۔ تقریباً ۲ کروڑ ہندوستانی بچے اپنے اسکولوں میں حفظانِ صحت (ہائجین) کی کسی بھی سہولت سے بھی محروم تھے، اگرچہ حالیہ ڈیٹا کی کمی کے باعث جے ایم پی ۲۰۲۴ء کے بعد ہندوستان اور وسیع تر وسطی و جنوبی ایشیا کے خطے کیلئے حفظانِ صحت کی کوریج کے تخمینے تیار نہیں کر سکا۔

پینے کے پانی تک رسائی کے معاملے میں ہندوستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ ملک کے اسکولوں میں تقریباً ایک کروڑ ۲۰ لاکھ بچے پانی کی سہولت سے محروم تھے جو عالمی سطح پر پینے کے پانی تک رسائی سے محروم اسکولی بچوں کی کل تعداد کا بیسواں حصہ ہے۔ ہندوستان ان ۶۲ میں سے ۲۸ ممالک میں شامل ہے جن کے بارے میں مانا جا رہا ہے کہ وہ ۲۰۳۰ء تک اسکولوں میں پینے کے پانی تک رسائی کو بہتر بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: شرجیل امام کی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کیلئے تحقیقی مواد تک رسائی کی درخواست، تہاڑ جیل سے جواب طلب

واضح رہے کہ جے ایم پی، پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے چوتھے اور چھٹے ہدف کی جانب عالمی پیش رفت کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ اہداف جامع تعلیمی سہولیات اور پانی و صفائی ستھرائی تک عالمگیر معیار کی رسائی کو یقینی بنانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ۲۰۳۰ء کی آخری تاریخ میں پانچ سال باقی رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا اسکولوں میں بنیادی واش (WASH) خدمات کے عالمگیر حصول کے ہدف سے پیچھے ہے، جس کیلئے پانی اور حفظانِ صحت پر پیش رفت کی رفتار کو چار گنا اور صفائی کی پیش رفت کو پانچ گنا تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے، ۲۰۳۰ء تک دنیا بھر کے ۱۰ فیصد اسکول اب بھی پانی کی خدمات سے، ۷ فیصد صفائی ستھرائی سے اور ۱۲ فیصد حفظانِ صحت کی سہولیات سے محروم رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK