آسکر ایوارڈز کے لیے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش کے طور پر منتخب ہونے والی مراٹھی فلم’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ فلم کی ملک گیر نمائش سے مراٹھی سنیما کو قومی سطح پر مزید ناظرین تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 7:01 PM IST | Mumbai
آسکر ایوارڈز کے لیے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش کے طور پر منتخب ہونے والی مراٹھی فلم’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ فلم کی ملک گیر نمائش سے مراٹھی سنیما کو قومی سطح پر مزید ناظرین تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔
آسکر ایوارڈز کے لیے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش کے طور پر منتخب ہونے والی مراٹھی فلم’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ فلم کی ملک گیر نمائش سے مراٹھی سنیما کو قومی سطح پر مزید ناظرین تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔ دیہی مہاراشٹر کی ثقافت، روایات، سماجی پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات کے گرد گھومنے والی یہ فلم اپنی منفرد کہانی کے باعث توجہ حاصل کر رہی ہے۔
فلم کے ہدایت کار سنتوش داوکھر ہیں۔ فلم کو صرف مراٹھی زبان تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف ہندوستانی زبانوں میں پیش کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ ملک کے مختلف حصوں کے ناظرین بھی اس کہانی سے واقف ہوسکیں۔ فلم کی کہانی میں مقامی روایات، مذہبی رسومات، ذاتی مفادات اور انسانی رشتوں کے پیچیدہ پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین اور سری لیلا کی رومانوی میوزیکل فلم ملتوی ، ۲۰۲۷ء میں ریلیز متوقع
’’گوندھل‘‘ کی کہانی سمن نامی ایک نوجوان خاتون کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی ناخوش ازدواجی زندگی سے پریشان ہے۔ اس کی زندگی میں اس وقت پیچیدگیاں بڑھنے لگتی ہیں جب وہ اپنے عاشق سرجی راؤ کی روایتی مذہبی رسم ’’گوندھل‘‘ سے غیر معمولی وابستگی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ رات کے وقت ہونے والی اس رسم کے دوران کہانی میں کئی پوشیدہ پہلو سامنے آتے ہیں، جن میں دھوکہ، جنون، مقامی سیاست، ذاتی مفادات اور جرائم جیسے موضوعات شامل ہیں۔
فلم میں روایتی ثقافت کو محض پس منظر کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ کہانی کے اہم واقعات اور کرداروں کے فیصلوں میں بھی اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی پہلو فلم کو عام تجارتی کہانیوں سے مختلف بناتا ہے۔ فلم سازوں کی کوشش ہے کہ مقامی ثقافتی ماحول کے ذریعے ایک ایسی کہانی پیش کی جائے جو وسیع تر ناظرین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بنے۔ فلم ’’گوندھل‘‘ میں کشور کدم، ایشیتا دیشمکھ، یوگیش سوہونی، نشاد بھوئیر اور انوج پربھو اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ فلم کی موسیقی معروف موسیقار الائیاراجا نے ترتیب دی ہے، جبکہ عکس بندی کی ذمہ داری املیندو چودھری نے نبھائی ہے۔ فلم کی کہانی، اداکاری، موسیقی اور دیہی ماحول کو اس کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سوریہ کمار یادو نے شاہ رخ خان سے منسوب منصوبے میں سرمایہ کاری کی
فلم فیڈریشن آف انڈیا نے ’’گوندھل‘‘ کو ۹۹؍ویں اکیڈمی ایوارڈز، یعنی آسکر ۲۰۲۷ء، کے لیے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں ہندوستان کی باضابطہ پیش کش کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اس انتخاب کے بعد فلم کو ہندوستانی سنیما کی عالمی نمائندگی کے تناظر میں اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، ہندوستان کی جانب سے کسی فلم کو باضابطہ پیش کش کے طور پر منتخب کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے آسکر کی حتمی نامزدگی یا ایوارڈ مل چکا ہے۔ حتمی نامزدگیوں اور ایوارڈز کا فیصلہ اکیڈمی کے مقررہ انتخابی عمل کے تحت ہوتا ہے۔
فلم کے ہدایت کار سنتوش داوکھر نے ملک بھر میں فلم کی نمائش کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مقصد مہاراشٹر کی لوک ثقافت اور روایات سے جڑی اس کہانی کو زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پہنچانا ہے۔ فلم کی ملک گیر ریلیز سے مراٹھی سنیما کو قومی سطح پر نئی توجہ ملنے اور علاقائی زبانوں کی کہانیوں کو وسیع تر ہندوستانی فلمی منظرنامے میں جگہ بنانے کا موقع ملنے کی توقع ہے۔’’گوندھل‘‘ کی نومبر میں ریلیز اب فلمی شائقین کے لیے اہم موضوع بن گئی ہے۔ آسکر کے لیے بھارت کی باضابطہ پیش کش ہونے کے باعث اس فلم سے نہ صرف مراٹھی سنیما بلکہ ہندوستان علاقائی فلموں کی عالمی شناخت کے حوالے سے بھی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔