• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئرلینڈ: مقیم ہندوستانی تارکین وطن کا ایس آئی آر اورسی ای سی کیخلاف احتجاج

Updated: October 19, 2026, 9:56 PM IST | Dublin

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ۷۰؍ سے زائد ہندوستانی تارکینِ وطن نے ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہندوستان میں جاری تحریک سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے، ایس آئی آر کی منسوخی اور ووٹر لسٹوں سے حذف کئے گئے ناموں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

A scene of a protest in Dublin. Photo: X
دبلن میں احتجاج کا منظر۔ تصویر: ایکس

آئرلینڈ میں مقیم ۷۰؍ سے زائد ہندوستانی تارکینِ وطن اور ان کے ہم خیال افراد نے سنیچر کو ڈبلن کے مشہور اسپائرپر جمع ہو کر ہندوستان میں ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ایس آئی آر کی مشق کی منسوخی اور ووٹر لسٹوں سے کاٹے گئے ناموں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج ایک عالمی یکجہتی کے دن کے طور پر تھا جس کے تحت مختلف ممالک میں مقیم ہندوستانی تارکینِ وطن اور ان کے اتحادیوں نے ہندوستان میں ایس آئی آر کے خلاف جاری تحریک کی حمایت میں آواز بلند کی۔ اس سے قبل، اس گروہ نے ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی ملک گیر کال کا جواب دیتے ہوئے ڈبلن کے جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) میں ایک یکجہتی مظاہرہ منعقد کیا تھا۔ 
نوقائم شدہ گروہ ساؤتھ ایشیا کلیکٹو آئرلینڈ کےزیرِ اہتمام منظم ہونے والے اس گروہ نے آسٹریلیا، کنیڈا اور امریکہ میں مقیم ہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ مل کر سنیچر کو ایک مربوط یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پورے یورپ میں، اس گروہ نے ’’جنتر منتر ہر جگہ ہے‘‘ کے بینر تلے برطانیہ، نیدرلینڈز، سویڈن، فن لینڈ، جرمنی، اسپین اور چیک جمہوریہ کے مختلف شہروں میں کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ اشتراک کیا۔ ڈبلن میں مظاہرے کے دوران، مقررین نے ایک مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا جس میں مظاہرین کے مطالبات کا خاکہ پیش کیا گیا اور پورے ہندوستان میں مظاہرو ں میں حصہ لینے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مزاحمتی نعرے لگائے اور جو مظاہرین حراست میں لئے گئے یا جو اب بھی قید ہیں ان کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ہندوستان کا قومی پرچم، ترنگا لہرایا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی پابندیوں سے آئی سی سی کو بچانے کیلئے یورپی یونین کا بڑا قدم

احتجاج کی منتظمین میں سے ایک شریا نے کہا، ’’میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد سے بہت خوش ہوں ایک ہفتے کے اندر شرکاء کی تعداد تین گنا سے زیادہ ہو گئی، لوگ اپنے پوسٹرز کے ساتھ آئے اور نغموں، تقاریر اور شاعری کے ذریعے حصہ لیا۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہاں تک کہ کچھ بی جے پی ٹرولز بھی ہمیں خوفزدہ کرنے آئے تھے، لیکن پولیس نے انہیں دکھا دیا کہ حقیقی جمہوریتوں میں ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ’’اس اجتماع میں شاعری، نغمے، تقاریر اور ’’آزادی‘‘ کے نعرے بھی شامل تھے، جن کے ذریعے مظاہرین نے اس نظام سے آزادی کا مطالبہ کیا جسے انہوں نے ووٹوں کی چوری اور آمریت قرار دیا۔ مشترکہ بیان میں حکام کے ردِعمل کی بھی شدید مذمت کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ ٹرانسپورٹ پر پابندیوں، گرفتاریوں اور بھاری سیکوریٹی کی تعیناتی کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے اور لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پرھئے: اسرائیل الیکشن: نیتن یاہو کا نیا سیکوریٹی منصوبہ، اپوزیشن نے ’خالی نعروں‘ کا مجموعہ قرار دیا

بیان میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور جولائی ۲۰۲۶ء میں جنتر منتر پر ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے تشدد کے الزامات کا حوالہ دیا گیا۔ بیان میں طلبہ لیڈراور سرگرم رکن عمر خالد کی بغیر کسی ٹرائل کے مسلسل قید کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جن کے والدین نے ۸؍ اکتوبر کو ڈبلن میں ان کی طرف سے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ برائے خطرے میں گھرے انسانی حقوق کے محافظین قبول کیا تھا۔ بیان میں ان کے مقدمے میں عدالت کی طرف سے ہونے والی تاخیر کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 
احتجاج میں شامل ہونے والی فضا نے کہا، ’’اگرچہ میں بیرونِ ملک رہتی ہوں، لیکن میں اسی مٹی سے ہوں اور اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لے کر ہی میں ہندوستانی جمہوریت کی حمایت کرتی ہوں۔ ‘‘ڈبلن مظاہرےکے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شہری آزادیوں کا تحفظ کرنے والی جمہوریت میں رہنے کی وجہ سے ان کے پاس یہ امان اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارہ جاتی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنی اختلافِ رائے کا اظہار کریں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کا جمہوری حقوق کی حمایت کرنے اور ہندوستان میں مظاہرین کے مطالبات کو دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وطن میں مظاہروں اور اختلافِ رائے کو پابندیوں کا سامنا ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK