ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ڈی سباراؤ نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی گراوٹ کو صرف ایران تنازع یا خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 2:13 PM IST | Mumbai
ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ڈی سباراؤ نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی گراوٹ کو صرف ایران تنازع یا خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
ہندوستانی روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) ڈی سباراؤ نے خبردار کیا ہے کہ روپے کی گراوٹ کو صرف ایران تنازع یا خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے پیچھے کئی معاشی اور مالی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں، اس لیے صورت حال کا جائزہ لیتے وقت عالمی حالات کے ساتھ ہندوستان کی داخلی معیشت اور بیرونی ادائیگیوں کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سباراؤ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں سے روپے پر مسلسل دباؤ کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا ہے۔ اس رجحان کے پیچھے ہندوستان کے اندرونی معاشی حالات اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیاں دونوں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران تنازع ختم بھی ہوجائے اور تیل کی قیمتیں کم ہوجائیں، تب بھی روپے کی قدر میں بہتری خودبخود یقینی نہیں ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہندوستانی حصص بازار میں گھریلو سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص اور باہمی سرمایہ کاری اسکیموں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے بازار کو سہارا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ حصص کی قیمتیں بھی بلند ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی اثاثوں کی قیمتوں اور ممکنہ منافع کا دوسرے ممالک کی منڈیوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر انہیں موجودہ قیمتوں پر مزید منافع کے امکانات محدود دکھائی دیں تو وہ اپنی سرمایہ کاری دوسرے بازاروں کی جانب منتقل کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف پر فائرنگ سے اداکارائیں خوفزدہ، ممبئی کی سلامتی پر بھی تشویش
سابق آر بی آئی گورنر نے عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق، عالمی سرمایہ کار اب ان معیشتوں اور شعبوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں جہاں جدید ٹیکنالوجی میں قیادت اور بہتر منافع کے امکانات موجود ہیں۔ مصنوعی ذہانت، نیم موصل چِپس، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جدید صنعت کاری اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی کشش بڑھ رہی ہے۔
سباراؤ کے مطابق، امریکہ، تائیوان اور چین جیسی منڈیوں میں جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ مواقع عالمی سرمایہ کو اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی کے بعض شعبوں میں اس کی موجودگی ابھی محدود ہے۔ اس لیے صرف بلند معاشی شرحِ نمو غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے یا روپے کی مضبوطی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
سباراؤ نے زور دیا کہ روپے کو سہارا دینے کے لیے عارضی اقدامات کے بجائے معیشت کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کو پیداواریت بہتر بنانے، برآمدات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے، غیر ضروری کاروباری اخراجات کم کرنے اور پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورت حال کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ملکی صلاحیت بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ہندوستان کو مزید پُرکشش بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے خیال میں، روپے کی طویل مدتی مضبوطی کے لیے ملک کے جاری کھاتے اور سرمایہ کھاتے، دونوں سے متعلق معاشی عوامل کو بہتر بنانا اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ذیشان انصاری کے۵؍ وکٹوں سے اتر پردیش کو برتری حاصل
۱۹؍ اکتوبر کو ہندوستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین پیسے کم ہوکر۹۲ء۹۴؍ کی عارضی سطح پر بند ہوا۔ مقامی حصص بازار میں تیز گراوٹ اور خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے نے روپے پر دباؤ بڑھایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کی قدر عالمی حالات کے ساتھ ساتھ ملکی بازاروں اور سرمایہ کاروں کے فیصلوں سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ سباراؤ نے ریزرو بینک کی جانب سے شرحِ سود میں حالیہ اضافے کے بارے میں بھی کہا کہ ایسے فیصلوں کو مہنگائی پر قابو پانے، معاشی ترقی برقرار رکھنے اور مالی استحکام کے درمیان توازن کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، موجودہ صورت حال میں مہنگائی کے دباؤ کی ایک وجہ تیل کی بلند قیمتیں اور ناموافق مانسون بھی ہیں۔ مجموعی طور پر، ڈی سباراؤ کا پیغام یہ ہے کہ ہندوستانی روپے کی گراوٹ محض ایران تنازع یا خام تیل کی قیمتوں کا عارضی اثر نہیں، بلکہ اس کے پیچھے سرمایہ کاری کے بہاؤ، عالمی ٹیکنالوجی کے رجحانات، ہندوستانی اثاثوں کی قیمتوں اور ملکی معیشت کے بنیادی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق، روپے کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت اپنی پیداواری صلاحیت، برآمدی مسابقت اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو فروغ دے۔