• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ نوجوانوں کارمضان المبارک کی راتوں کو کھیل کود میں ضائع کرنا افسوسناک ‘‘

Updated: February 20, 2026, 3:45 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

علماء اورائمہ نےتوجہ دلائی کہ اس ماہ مبارک کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، اس کی قدر کی جائے اوررب کوراضی کرنے والے اعمال کئے جائیں ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں شب بیداری کے نام پر نوجوانو ں کےکرکٹ، فٹ بال، والی بال، ہوزی اور دیگر کھیل کود میں وقت ضائع کرنے پر علماء اورائمہ نےتوجہ دلائی۔ کہاکہ ان راتوں کی خصوصیت سے قدر کرنے اور اپنے رب کوراضی کرنے کی ہے نہ کہ کھیل کود یا بازاروں اور ہوٹلوں میں ضائع کرنے کی۔ 
قاری عبدالرحمٰن ضیائی نے کہاکہ ’’ رمضان المبارک کامہینہ ہراعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، اس کی قدر کی جائے۔ مگریہ درست ہے کہ شب بیداری کے نام پراعمال کم، غیرضروری چیزیں زیادہ کی جاتی ہیں۔ الگ الگ جگہوں پرخصوصی لائٹنگ اورعمارتوں کے احاطے میں ایسے مناظر دیکھنے کوملتے ہیں جہاں نوجوان وقت برباد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ رمضان المبارک کی قدر کی جائے، اس کے شب وروز میں نیک اعمال اورامور خیر انجا م دیئے جائیں تاکہ رمضان کی حقیقی معنوں میں قدر دانی ہوسکے اوروہ کمالات حاصل ہوسکیں جو اس ماہ مبارک کا حقیقی مقصد ہے۔ ‘‘
مفتی اشفاق قاضی (دارالافتاء جامع مسجد، ممبئی ) نے کہا کہ’’بلاشبہ، رمضان المبارک کی راتوں کی بڑی اہمیت ہے، اسے ہم کھیل کود میں ضائع کردیں تو یہ بڑی محرومی ہوگی۔ رمضان المبارک توایمان والوں کوایسا مہینہ دیا گیا ہے کہ اس کاایک ایک لمحہ بیش قیمت ہے۔ وہ لوگ جو واقعی رمضان المبارک کی قدر سمجھتے ہیں، وہ ایک لمحہ ضائع نہیں کرتے۔ ہمارے نوجوان بھی اس جانب خصوصیت سے توجہ دیں اوریہ طے کریں کہ رمضان کاایک لمحہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘
مفتی محمدانصاری قاسمی نے کہاکہ ’’ نوجوانوں کایہ عمل افسوسناک ہے۔ وہ مہینہ جس میں ہمہ وقت فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، رحمت ِخداوندی متوجہ ہوتی ہے، روزہ داروں کے لئے دیگرمخلوقات حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں دعا کرتی ہیں، اس مہینے کے شب وروز کو کھیل کود میں ضائع کرنا بڑی محرومی ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اس ماہ مبارک کی راتوں کواپنےرب کوراضی کرنے میں گزاریں، یہ رمضان کی صحیح معنوں میں قدر دانی ہوگی اوراسی کے ذریعے ہم درجۂ کمال کوپاسکیں گے۔ ‘‘
مولانا محمداسلم صیاد (جمعیت اہل حدیث مسجد) نے کہاکہ ’’ رمضان المبارک میں بازارو ں کا آباد رہنا، دیر رات تک ہوٹلو ں میں بھیڑبھاڑ رہنا، نکڑوں پرگپ شپ کرنا، نوجوانوں کاالگ الگ انداز میں وقت ضائع کرنا، انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمیں یہ غور کرناچاہئے کہ کیا رمضان المبارک کا وہ مہینہ جس کے لئے نبی کریم ؐایک ماہ قبل سے تیاری شروع فرمادیتے تھے، ہم اس کی اس طرح ناقدری کریں ۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہم آج سے یہ عہد کریں کہ رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت کی قدر کریں گے اورکوئی لمحہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘
مولانا محمودخا ن قاسمی نے کہاکہ’’ ماہ صیام کے فضائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان کی حقیقی قدر کرنے کی ضرورت ہے۔ محض بھوک پیاس ہی روزہ نہیں اور نہ ہی شب بیداری، جس میں محض وقت گزر جائےبلکہ اپنا احتساب کیا جائے اور پورے مہینے ایسی تربیت ہو کہ آنے والے ماہ وسال میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل کرنا اور شریعت کے احکامات کی بجاآوری آسان ہوورنہ یہ مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح گزر جائے گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK