ایران نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو آگاہ کردیا کہ اگر اس پر امریکی یا اسرائیلی حملہ ہوا تواس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ٹرمپ کی دھمکی جنگ کا اشارہ دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 8:03 PM IST | Tehran
ایران نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو آگاہ کردیا کہ اگر اس پر امریکی یا اسرائیلی حملہ ہوا تواس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ٹرمپ کی دھمکی جنگ کا اشارہ دیتی ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس کو بتایا ہے کہ اگر اسے فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو وہ خطے میں دشمن قوت کے اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کرے گا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف بیان بازی فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کا اشارہ دیتی ہے، ایران کے مستقل مشن نے جمعرات کو اقوام متحدہ میں خط میں کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا۔خط میں کہا گیا کہ اگر ایران کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو وہ فیصلہ کن جواب دے گا۔ واضح رہے کہ ایران کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں اگلے۱۰؍ دنوں میںمعنی خیز معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ برا ہوگا،ساتھ ہی ٹرمپ نے خطے میں جنگی جہاز، جنگی طیارے اور دیگر فوجی ساز وسامان تعینات کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنے کیلئے ٹرمپ کا محدود فوجی کارروائی پرغور
بعد ازاں ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس جو غزہ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ان کا اقدام ہے میں کہا،برسوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ معنی خیز معاہدہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ہمیں معنی خیز معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ برا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی معاہدے کے بغیر واشنگٹن کو ایک قدم اور آگے بڑھنا پڑ سکتا ہے، اورآپ کو آئندہ دس دنوں میں پتہ چل جائے گا۔واضح رہے کہ ٹرمپ کے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای غلطی کرتے ہیں اور ہم پر حملہ کرتے ہیں، تو انہیں ایسا جواب ملے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔مزید برآںیہ انتباہ ایسے وقت جاری کیے گئے جب امریکہ اور ایران نے اس بار جنیوا میںعمان کی ثالثی میں مذاکرات کا دوسرا دورمکمل کیا،، جس میں امریکہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،وہ امریکی پابندیوں سے نجات چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ:اسرائیلی توسیع کے اقوام متحدہ کے مذمتی ارکان میں ہندوستان شامل نہیں
تاہم امریکہ ایران کے قریب اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے، بشمول جنگی جہاز، جنگی طیارے، اور ری فیولنگ ہوائی جہاز، جو ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ممکنہ طور پر حملے کی تیاری ہے۔حتیٰ کہ واشنگٹن نے خطے میں دوسرا طیارہ بردار جہاز بھیجنے کا حکم دیا ہے، سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے تقریباً ۸۰؍ طیارے، اتوار تک ایرانی ساحل سے تقریباً۷۰۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھے۔ جبکہ اس کے جواب میں ایران نے بھی اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اس ہفتے کے شروع میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں کیں۔ایرانی سیاست دانوں نے بار بار آبنائے کو بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے، جو تیل اور گیس کے لیے ایک بڑا عالمی راستہ ہے، اور امریکہ-ایران تصادم کے خدشات کے سبب اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، اس آبنائے سے دنیا کے سمندری تیل کا ایک چوتھائی اور تمام مائع قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔