کرلا : بھابھا اسپتال میں ریسیڈنٹ ڈاکٹروں کی ہڑتال تیسرے دن بھی جاری

Updated: May 13, 2022, 10:47 AM IST | Agency | Kurla

طبی جانچ کیلئے آنے والی حاملہ خاتون اور ڈاکٹر کے درمیان مارپیٹ کے بعد ریسیڈنٹ ڈاکٹروں اور عملے نے کام کاج بند کردیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ ہڑتال ختم کرانے کیلئے کوشاں

Patients are suffering due to the strike of resident doctors and staff of Bhabha Hospital..Picture:Inquilab
بھابھااسپتال کے ریسیڈنٹ ڈاکٹروں اور عملے کی ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو دقتیں ہورہی ہیں۔ تصویر: انقلاب

 یہاں میونسپل کارپوریشن کے ’خان بہادر بھابھا اسپتال‘ میں چیک اپ کیلئے آنے والی  حاملہ خاتون اور ڈاکٹر کے درمیان معمولی سی بات پر  مبینہ بدکلامی  اور  مارپیٹ کے واقعہ کے  بعدتیسرے دن بھی ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے کام کاج بند رکھا ۔ جمعرات کو ا ن کی حمایت میں اسپتال کے دیگر ملازمین نے بھی ہڑتال کردی جس کی وجہ سے اسپتال آنے والے مریضوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مارپیٹ  کی اطلاع ملنے پر پولیس اہلکاروں نے  اسپتال کی ڈاکٹر اور  حا ملہ خاتون کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن میں پوچھ تاچھ کی لیکن دونوں نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کردیا۔ اسپتال انتظامیہ  ڈاکٹروں سے بات چیت کرکے کام کاج شروع کرانے کی کوشش کررہی ہے ۔  کرلامغرب میں واقع  بھابھا اسپتال میں منگل کی شام تقریباً  پونے ۴؍بجے اسی علاقے کی  رہنے والی  ۶؍ ماہ کی ایک حاملہ خاتون چیک اپ کیلئے آئی تھی ۔ گائینو اوپی ڈی میں  چیک اپ کیلئے چپل کمرے سے باہر نکالنے کے بارے میں وہاں موجود اسپتال کی  ملازمہ نے بدزبانی اور بدتمیزی کی تو ان کے درمیان تو تو ، میں میں اور جھڑپ ہوگئی ۔دونوں کے درمیان کمرے میں موجود خاتون ڈاکٹر نے بھی حاملہ خاتون کے ساتھ   مبینہ طورپربدکلامی کے بعد وہاں سے نکل جانے کو کہا ۔حاملہ خاتون تعلیم یافتہ تھی اور اس نے بھی   ڈاکٹر کو جواب دیا ۔ ڈاکٹر اور خاتون کے  درمیان معاملہ طول پکڑلیا اور ان میں بھی مارپیٹ ہوئی ۔ اسپتال میں موجود خاتون کے گھروالے بھی ڈاکٹر کے ساتھ مارپیٹ کیلئے آمادہ ہوگئے اور اسپتال سے باہر نکل کر اس کو دیکھ لینے کی دھمکی بھی دی ۔  منگل کی شام ۴؍بجے خاتون اور ڈاکٹر کے درمیان  گائینو اوپی ڈی میں مارپیٹ کی اطلاع پولیس کو ملی تو کرلا پولیس اسٹیشن کے اہلکاروہاں  پہنچ گئے اور انھوں نے خاتون اور ڈاکٹر کو اپنی تحویل  میں لے کر پولیس اسٹیشن لے گئے ۔ وہاں پر خاتون کے گھروالے اور کئی رشتہ دار  پہنچ گئے ۔ خاتون ڈاکٹر نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کردیا اور حاملہ خاتون کی جانب سے بھی کوئی شکایت درج نہیںکرائی گئی ۔  کرلا بھابھا اسپتال میں سماجی کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اسپتال میں آنے والی حاملہ  اور خاتون ڈاکٹر کے درمیان ہونے والی مارپیٹ کے بعد سے منگل کی شام تقریباً ۴؍بجےسے ریسیڈنٹ ڈاکٹروں نے کام کاج بند کردیا تھا ۔ اس دوران اسپتال میں آنے والے مریضوں اور  خاص طور سے حاملہ خواتین کو چیک اپ وغیرہ کیلئے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ خاتون ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی شکایت اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے ہونی چاہئے جبکہ سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ شکایت خاتون ڈاکٹر کے ذریعے ہونی چاہئے اور اب کوشش کی جارہی ہے کہ سیکوریٹی  عملے کے ذریعہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر  درج ہو ۔  اس ضمن میں بھا بھا اسپتال کے میڈیکل  سپرنٹنڈنٹ سنجے کمارکرشنا سے استفسار کرنے پر انہوںنے نمائندہ انقلاب سے تفصیلی گفتگو میں کہا کہ ریسیڈنٹ ڈاکٹروں سے کام کاج شروع کرنے کے سلسلے میں  بات چیت کی گئی ہے اور ان کے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ڈاکٹروں نے کام پر واپسی کیلئے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ خاتون ڈاکٹر کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی بھی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK