Updated: October 14, 2026, 10:03 PM IST
| Seoni
مدھیہ پردیش کے ضلع سیونی کے سرکاری اسپتال کے خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں چھ ماہ کے دوران ۸۰؍ بچوں کی موت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد علاج کے انتظامات پر سوالات اٹھے ہیں۔ اہلِ خانہ نے بروقت طبی امداد نہ ملنے کی شکایت کی، جب کہ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی دنیش رائے منمن نے رات میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا الزام لگاتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسپتال انتظامیہ نے اموات کی وجہ قبل از وقت پیدائش، کم وزن اور سنگین طبی پیچیدگیوں کو قرار دیا۔ پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم رپورٹ پیش کرچکی ہے، جس کے بعد یونٹ کا انچارج تبدیل کرکے طبی انتظامات میں بہتری کی سفارشات کی گئی ہیں۔
سیونی کا سرکاری اسپتال۔ تصویر: ایکس
مدھیہ پردیش کے ضلع سیونی کے سرکاری ضلع اسپتال کے خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ (ایس این سی یو) میں چھ ماہ کے دوران ۸۰؍ نوزائیدہ بچوں کی موت کے معاملے نے سرکاری طبی سہولتوں اور بچوں کی نگہداشت کے انتظامات پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی دنیش رائے منمن نے اسپتال میں اچانک معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور علاج میں مبینہ غفلت پر تشویش ظاہر کی تھی۔ معاملے کی جانچ کیلئے پانچ رکنی طبی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ۱۳؍ اکتوبر کو شائع ہونے والی مقامی رپورٹ کے مطابق، ضلع کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر ڈاکٹر پنکج دوبے نے ایس این سی یو کا انچارج تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ ڈاکٹر پارس پاٹیریا سے یہ ذمہ داری واپس لے کر بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ونود دھیایت کو اگلے حکم تک یونٹ کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے یونٹ کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈیوٹی روسٹر پر عمل، نوزائیدہ بچوں کی اموات کا باقاعدہ تجزیہ، موت کے ۴۸؍ گھنٹے کے اندر طبی جانچ، آلات کی تکنیکی جانچ اور آن لائن نظام کے ذریعے اعداد و شمار کی نگرانی سمیت متعدد اصلاحی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف
رات میں ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے کا الزام
مقامی رکن اسمبلی دنیش رائے منمن نے الزام لگایا کہ رات کے وقت بیمار نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق، اسپتال میں بچوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آنے پر وینٹی لیٹر کی سہولت موجود ہے، لیکن اس کے مؤثر استعمال کیلئے ضروری طبی عملہ ہر وقت دستیاب ہونا چاہیے۔ منمن نے کہا کہ انہیں ڈاکٹروں کی غیر موجودگی، مریضوں سے مبینہ طور پر رقم طلب کیے جانے اور بچوں کی مسلسل اموات سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد انہوں نے اسپتال کا اچانک معائنہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ معائنے کے وقت کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تحقیقات میں طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ یہ الزامات فی الحال رکن اسمبلی کے بیان پر مبنی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کسی مخصوص ڈاکٹر کی مجرمانہ غفلت ثابت ہونے کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے قبل از وقت پیدائش اور کم وزن کو وجہ بتایا
ضلع اسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر ونود کمار ناوکر نے اموات کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایس این سی یو میں ضلع کے دور دراز دیہی علاقوں سے شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہوتے ہیں جو حمل کے چھٹے، ساتویں یا آٹھویں مہینے میں پیدا ہوجاتے ہیں اور انہیں انتہائی خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ناوکر کے مطابق، قبل از وقت پیدائش، پیدائش کے وقت وزن کم ہونا اور زچگی کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیاں بچوں کی اموات کی اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض بچوں کی حالت اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتہائی نازک ہوتی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے یونٹ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح تقریباً ۴ء۷؍ سے ۵ء۷؍ فیصد ہے، جو جبل پور ڈویژن کے بعض دیگر اضلاع کے مقابلے میں کم بتائی گئی ہے۔ تاہم، شرح کم ہونے کا دعویٰ اپنے آپ میں ہر موت کے معاملے میں مناسب علاج اور طبی نگہداشت کی تصدیق نہیں کرتا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ۱۰۸۸؍ داخلے، ۸۰؍ اموات درج
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ۱۳؍ اپریل سے ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کے درمیان سیونی ضلع اسپتال کے ایس این سی یو میں ۱۰۸۸؍ نوزائیدہ بچوں کو داخل کیا گیا، جن میں سے ۸۰؍ کی موت ہوئی۔ رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق، مرنے والے۸۰؍ بچوں میں سے ۶۰؍ کا وزن معمول سے کم تھا، جب کہ ۴۴؍ بچوں کا پیدائش کے وقت وزن ۴۰۰؍ سے ۱۵۰۰؍ گرام کے درمیان تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض نوزائیدہ بچوں کو نجی نرسنگ ہومز اور دیگر سرکاری طبی مراکز سے اس وقت سیونی بھیجا گیا جب ان کی حالت سنگین ہوچکی تھی۔ طبی ریکارڈ میں کم وزن، قبل از وقت پیدائش اور سانس لینے سے متعلق شدید مسائل سمیت مختلف وجوہات درج کی گئی ہیں۔ اس معاملے کی ابتدائی خبروں میں چھ ماہ کے دوران ۱۱۸۸؍ بچوں کے علاج کا ذکر بھی آیا تھا، لیکن بعد میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں ۱۰۸۸؍ داخلوں کا عدد درج ہے۔ اس لیے تازہ اعداد و شمار کیلئے تحقیقاتی رپورٹ کو بنیاد بنانا زیادہ مناسب ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے بروقت علاج نہ ملنے کی شکایت کی
اموات کے معاملے میں بچوں کو کھونے والے بعض خاندانوں نے بھی اسپتال کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ برگھاٹ بلاک کے گاؤں ڈنگریہ کے رہنے والے منیش ورکڑے نے الزام لگایا کہ جولائی میں ان کی اہلیہ کو اسپتال میں داخل کرائے جانے کے بعد انہیں بروقت طبی توجہ نہیں ملی۔ ان کے مطابق، ان کی اہلیہ کو برگھاٹ سے سیونی ریفر کیا گیا تھا، لیکن خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں داخل کیے جانے کے باوجود ان کے بچے کو نہیں بچایا جاسکا۔
جوارکاٹھی کے رہنے والے سنجے یوئیکے نے بتایا کہ حمل کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی اہلیہ کو سیونی ریفر کیا گیا۔ ان کے مطابق، بچہ ساتویں مہینے میں پیدا ہوا تھا اور اس کا وزن تقریباً ۶ء۱؍ کلوگرام تھا۔ ڈاکٹروں نے خاندان کو بتایا تھا کہ بچے کی دل کی دھڑکن کمزور ہے۔یوئیکے کے مطابق، ’’ایس این سی یو میں کئی دنوں تک رکھنے کے بعد بچے کو دوسری مشین میں منتقل کیا گیا اور کچھ گھنٹوں بعد اس کی موت ہوگئی۔‘‘ان خاندانوں کی شکایات کے باوجود یہ طے کرنے کیلئے طبی ریکارڈ، ڈیوٹی کی تفصیلات اور ہر بچے کے علاج کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے کہ آیا کسی مخصوص معاملے میں غفلت ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رتنا گیری: راجا پور میں بچوں کے ڈوبنے کا معاملہ، ۱۵؍ سالہ بچی کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا
طبی نگہداشت بہتر بنانے کیلئے نئی ہدایات
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر ڈاکٹر پنکج دوبے کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم نے ایس این سی یو کے انتظامات بہتر بنانے کیلئے کئی سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں ڈیوٹی روسٹر کی پابندی، ہر موت کا باقاعدہ جائزہ، ۴۸؍ گھنٹے کے اندر ڈیتھ آڈٹ، طبی آلات کی تکنیکی جانچ اور بچوں کے علاج سے متعلق اعداد و شمار کی مسلسل نگرانی شامل ہیں۔ ڈاکٹر دوبے نے ہدایت دی ہے کہ یونٹ میں علاج مقررہ طبی معیار اور طریقۂ کار کے مطابق کیا جائے اور نوزائیدہ بچوں کی مسلسل نگرانی، بروقت علاج اور بہتر نگہداشت کو ترجیح دی جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ پیش ہونے اور یونٹ کا انچارج تبدیل کیے جانے کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ سفارشات پر کس حد تک عمل ہوتا ہے اور آیا ان اقدامات سے بچوں کی نگہداشت میں قابلِ پیمائش بہتری آتی ہے۔