اسٹاف کی قلت اور محدوداوقات کی وجہ سے بیشتر ہوٹلیں بند

Updated: June 09, 2021, 8:47 AM IST | saadat khan | Mumbai

شہر ومضافات کے بیشتر ہوٹل مالکان کو گاہکوں کی کمی کا خوف، کہا :پورے اسٹاف کے ساتھ ہوٹل کھولنے کا مطلب صرف نقصان ہے۔ حکومت سے سہولت دینے کا مطالبہ

Hotels on Sankley Street appear to be closed despite business permits until 4 p.m.Picture:Inquilab
شام ۴؍ بجے تک کاروبار کی اجازت ملنے کے باوجود سانکلی اسٹریٹ کے ہوٹل بند نظر آرہے ہیں۔ تصویر انقلاب

: اسٹاف کی قلت ، شام ۴؍بجے تک  ہوٹل کھلے رکھنے  کی پابندی اور گاہکوں کی کمی  کے ڈر سے شہر ومضافات کے بیشتر ہوٹل مالکان نے حکومت کی طرف سے اجازت دیئے جانے کے باوجود ہوٹل پوری طرح نہیں کھولے ہیں  بلکہ  جس طرح پارسل دیاجارہا تھا ، اسی پر اکتفا کر رکھا ہے ۔ ہوٹل مالکان کےمطابق  ایک تو حکومت نے اچانک ہوٹل کھولنے کااعلان کیاہے ، دوسرے وقت کی پابندی عائد ہے ۔ ایسےمیں پورے اسٹاف کے ساتھ ہوٹل کھولنےکا مطلب صرف نقصان ہے ۔ انہوں نے حکومت سے سہولت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
 مینارہ مسجد اسٹریٹ پر واقع ماشاءاللہ ہوٹل کے مالک عبداللہ بھائی نے کہاکہ ’’ حکومت نے ہوٹل شروع کرنےکا اعلان تو کردیاہے مگر ایک ہوٹل کو پوری طرح شروع کرنے کیلئے کئی مراحل طے کرنا ہوتے ہیں ۔ گزشتہ ۲؍مہینے سے ہوٹل بندہیں  جس کی وجہ سے بیشتر عملہ گائوں گیاہوا ہے۔ ایک تو اسٹاف کی کمی ہے، دوسرے گاہکوں کے کم ہونے سےبھی پورے اسٹاف کے ساتھ ہوٹل شروع کرنے کا مطلب گھاٹے کا سودہ ہے۔لاک ڈاؤن میں رعایت دینے کے اعلان کے بعدمیں نے اپنے اسٹاف کو ممبئی آنےکیلئے فون کیاتو انہوںنےبتایاکہ ٹرین کی ٹکٹ نہیں مل رہی ہے  ار ایجنٹ ایک ٹکٹ کیلئے ڈھائی ہزار روپےمانگ رہاہے ۔ اس طرح کی پریشانیاں ہیں۔ اس لئے فی الحال گاہکوںکو ہوٹل میں بٹھا کر کھلانے میں دشواری آرہی ہے۔‘‘
  وائس آف انڈیاریسٹورنٹ،  چرنی روڈ کے مالک معظم دبیر نے کہاکہ ’’ ایک ہوٹل کو پوری طرح شروع کرنے کیلئےکئی ڈپارٹمنٹ کے اسٹاف کی ضرورت ہو تی ہے۔ لاک ڈائون کی وجہ سے بیشتر اسٹاف گائوں گیا ہوا ہے  ۔ ا س لئے ہوٹل کا پوری طرح کھولنا ممکن نہیں ہے ۔ دوسرے تمام اسٹاف کے ساتھ ہوٹل کھولنےکا مطلب دن بھر کا پورا خرچ برداشت کرناہے جبکہ فی الحال صرف ۴؍ بجے تک کاروبار کرنےکی اجازت دی گئی ہے،ایسےمیں نقصان کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آناہے ۔ اگر۴؍بجے کے بجائے ۱۰؍ بجے تک ہوٹل کھولنےکی اجازت دی جاتی تو ٹھیک تھا۔‘‘
 سانکلی اسٹریٹ مدنپورہ جنکشن پر واقع اقبال کمالی ہوٹل کے مالک شوکت محی الدین نےبتایاکہ ’’ ہوٹل شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ممبئی میں عموماً لوگ ۱۲؍ بجے  کےبعد گھروںسے نکلتے ہیںجبکہ۴؍بجے ہوٹل بند کرنے کا اعلان کیا گیاہے ۔ ہوٹل کا کاروبار رات کا ہے۔ رات کو لوگ اہل خانہ کے ساتھ کھانے پینے کیلئے نکلتےہیں ۔ اس لئے ۴؍بجے تک کیلئے پورے اسٹاف کے ساتھ ہوٹل کھولنے کا کوئی  مطلب نہیں ہے ۔ اس سے  صرف نقصان ہونا ہے ۔ اس لئے بیشتر ہوٹل والوںنے ہوٹل میں بٹھا کر گاہکوںکی خدمت کرنے کا سلسلہ ابھی شروع نہیں کیا ہے۔ میںجن ہوٹل والو ںکو جانتاہوں ، ان میں سے زیادہ تر ہوٹل والے اب بھی پارسل سے کام چلارہے ہیں۔ دوسرے اسٹاف کی قلت ہے ۔ ممبئی کی ہوٹلوںمیں اُترپردیش اور بہار کے کاریگر  زیادہ ہیں۔ یہ کاریگر اب محرم بعد ہی آئیں گے ۔ ہوٹل مکمل طورپر شروع نہ کرنے کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔‘‘  انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ لاک ڈائون سے گزشتہ ۲؍ مہینے سے ہماراکاروبار بری طرح متاثر ہے لیکن حکومت ہوٹل والوں کو کسی طرح کی سہولت نہیں فراہم کررہی ہے۔ اگر پانی ،بجلی اور لائسنس وغیرہ کی فیس میں ہی کچھ سہولت مل جاتی تو ٹھیک تھا مگر افسوس ایساکچھ نہیں کیاگیاہے۔‘‘
  سی ایس ایم ٹی پر واقع فرہنگ ہوٹل کے مالک قمرو بھائی نے بتایاکہ ’’ ہوٹل۴؍بجے تک ہی کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ چو نکہ ہمارااسٹاف موجودتھا اس لئے ہم  گاہکوںکو ہوٹل میں بٹھاکر سرو کررہےہیں مگر گاہکوں کے کم ہونے سے کاروبار جیسا ہونا چاہئے، ویسا نہیں  ہے ۔ ایسے میں  پورے اسٹاف کے ساتھ محدود وقت کیلئے پوری ہوٹل کھولنا فائدہ مند نہیں ہے مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے،  یہی سوچ کر کاروبار کیا جارہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK