• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ انسانی حقوق کے محافظ کا کردار دوبارہ ادا کرے: نوبیل امن فاتح نوی پلّے

Updated: October 14, 2026, 4:01 PM IST | The Hague

نوبیل امن انعام یافتہ جنوبی افریقی قانون داں نوی پلّے نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور آزادی کا محافظ بننے کا اپنا روایتی کردار دوبارہ ادا کرے۔ ان کا یہ بیان بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں اور دباؤ کی مہم کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ پلّے نے کہا کہ ان کے نوبیل انعام کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی امریکہ کی جانب سے عدالت کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان محض اتفاق نہیں ہوسکتا۔

Nobel Peace Prize laureate Navi Pillay
نوبیل انعام یافتہ نوی پلے۔ تصویر: ایکس

نوی پلّے نے ۱۳؍ اکتوبر کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’میرا پیغام یہ ہے کہ امریکہ کو عالمی لیڈر کی حیثیت سے اپنا سنجیدہ کردار دوبارہ ادا کرنا چاہیے اور باقی دنیا کے لیے آزادی کا ذریعہ بننا چاہیے۔‘‘ ۸۵؍ سالہ پلّے اس وقت عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ اس سے قبل اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج بھی رہ چکی ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی انصاف کے اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو جواب دہ بنانے کی جدوجہد کے لیے خطرہ ہیں۔
پلّے کو ۹؍ اکتوبر کو ۲۰۲۶ء کے نوبیل امن انعام کا فاتح قرار دیا گیا تھا۔ نوبیل کمیٹی نے انہیں بین الاقوامی قانون، امن اور انصاف کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا۔ ان کے انعام کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف وسیع پابندیوں کا اعلان کیا۔ پلّے نے اس وقت کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ تاہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے بین الاقوامی انصاف کو نشانہ بنانے کے منصوبے پہلے ہی تیار کیے جارہے تھے۔‘‘ ان کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایک ایسے ادارے کو کمزور کرنا ہے جو سنگین بین الاقوامی جرائم کے لیے جواب دہی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک ایئرپورٹ: محمد یونس کے ساتھ بدسلوکی، بنگلہ دیش کا قانونی کارروائی کا عزم

امریکہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ عدالت کے دائرۂ اختیار اور اسرائیلی قیادت کے خلاف کارروائیوں سمیت متعدد معاملات ہیں۔ عدالت نے نومبر ۲۰۲۴ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عدالت پر امریکی شہریوں اور اتحادیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عدالت کو ’’بے قابو عدالت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اپنے شہریوں کے خلاف اس کے دائرۂ اختیار کو قبول نہیں کرے گا۔
پلّے نے عدالت کے خلاف امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیدرلینڈز کے شہر نورمبرگ سے دی ہیگ واپس پہنچنے کے بعد سب سے پہلے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے عملے سے ملیں تاکہ ان کے کام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکیں اور پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے تحفظ کی حمایت کرسکیں۔ انہوں نے عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت اور بین الاقوامی قانونی نظام کے دفاع کے لیے اجتماعی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق محض تشویش کا اظہار کافی نہیں، بلکہ ایسے اداروں کو عملی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے جو جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے معاملے میں پلّے کی حالیہ توجہ غزہ میں جنگ اور اس سے متعلق قانونی کارروائیوں پر بھی رہی ہے۔ وہ ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء تک اقوام متحدہ کے اس آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہیں جس نے فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل سے متعلق تحقیقات کیں۔ کمیشن نے ۲۰۲۵ء میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل نے ان نتائج کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو متعصبانہ قرار دیا تھا۔ پلّے نے ان تنقیدوں کے جواب میں کہا کہ رپورٹ کے خلاف مہم کو اسرائیل کے حامی حلقوں کے ذریعے پھیلایا جانے والا ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا جانا چاہیے۔ یہ کمیشن کے نتائج ہیں، جنہیں اسرائیل تسلیم نہیں کرتا؛ نسل کشی کے الزامات سے متعلق قانونی کارروائیاں اور بین الاقوامی عدالتی عمل الگ حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آذربائیجان: اسکولوں میں حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے، ۳۷؍ افراد گرفتار

پلّے نے جنگی جرائم کے مقدمات میں جنسی تشدد کے معاملات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے انہوں نے ایسے قانونی کام میں حصہ لیا جس نے یہ اصول مستحکم کیا کہ مخصوص حالات میں جنسی تشدد نسل کشی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق آج بھی جنگی جرائم کے مقدمات میں جنسی تشدد کو اس کی اہمیت کے مطابق زیرِ تفتیش نہیں لایا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے جنگ کے ضمنی نقصان یا فوجیوں کے انعام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد سے اپنے قانونی سفر کا آغاز کرنے والی پلّے نے انسانی حقوق کے تحفظ، عالمی قانون کی بالادستی اور جنگی جرائم کے احتساب کے لیے کئی دہائیوں تک کام کیا ہے۔ وہ ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۴ء تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھی جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے نوبیل امن انعام کو ایسے وقت میں بین الاقوامی قانون کے تحفظ کی اہمیت کی یاد دہانی کے طور پر دیکھا جارہا ہے جب طاقتور ممالک اور عالمی عدالتی اداروں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK