• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

فصل دگنی ہونے اور بر آمد میں کمی آنے کے سبب پیاز کی قیمتیں گر رہی ہیں

Updated: March 02, 2023, 10:30 AM IST | saadat khan | Mumbai

پیاز کے دام گرنے کے سبب کسانوں کو لاگت سے بھی کم قیمت مل رہی ہے، کسانوں کا حکومت سےبر آمد کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کیلئے مناسب اقدامات کی اپیل

Double supply of onion is being supplied in the market these days (file photo).
مارکیٹ میں ان دنوں دگنی پیاز سپلائی کی جا رہی ہے ( فائل فوٹو)

ایک روز قبل ہی  مہاراشٹر اسمبلی میں پیاز کے کسانوں کو ہونے والے نقصان پر ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کی تنقیدوں کے بعد وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کسانوں کیلئے کئے گئے اقدامات کی  معلومات دی اور ان کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ لیکن اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ اچانک پیاز کی قیمتیں کیوں گرنے لگیں اور پیاز کے کسانوں کیلئے مشکلات کیوں کھڑی ہوئیں؟ 
  انقلاب نے جب ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس سال  پیاز کی پیداوار دگنی ہوئی ہے۔ اس پر ہمارے ملاک سے   پاکستان اور دبئی جانےوالی پیازپر روک لگ گئی ہے۔ یعنی ان ممالک میں پیاز کا ایکسپوٹ بند ہے۔ اس کی وجہ سےتھوک بازار میںپیاز  قیمتیں ۴تا ۱۰؍روپے  فی کلوتک گر گئی ہے۔ یہی کسانوںکے مسائل کی اصل وجہ ہے۔ واشی مارکیٹ کی پیاز ایسوسی ایشن کے مطابق امسال پیاز کی ۲؍ فصلیں ایک ساتھ ہوئی ہیں جس سے یہ مسئلہ پیدا ہواہے۔اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے مطابق پیاز کی پیداوار پر فی کلو ۸۔۱۰؍ روپےکی لاگت  آرہی ہے ۔ جبکہ اس کی فروخت ہونے کی قیمت اس کی لاگت سے ۵۰؍فیصد کم حاصل ہورہی ہے۔ اس لئے کسانوںنے    حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔
  اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال فروری میں جس ۱۰۰؍ کلو پیاز کی قیمت ۲۲۰۰؍سے ۲۶۰۰؍روپےتھی وہ امسال فروری میںکم ہوکر ۵۰۰؍تا ۶۰۰؍روپےہوگئی ہے۔ اس کی وجہ  سے پیاز کی کاشتکاری کرنےوالے کسانوںکا بڑا مالی نقصان ہو رہا ہے۔  کسانوںکی تنظیم اکھل بھارتیہ کسان سبھا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بنگلہ دیش   ، فلپائن اور تھائی لینڈ میں پیاز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔حکومت کوچاہئےکہ ان ممالک سے بات چیت کرکے وہاں پیاز برآمد کرنے کا راستہ نکالا جائے۔ تاکہ پیاز کی سپلائی بڑھائی جاسکے۔ اسی طرح پاکستان سے اچھے تعلقات نہ ہونے سے وہاں پیاز کی برآمد نہیں ہورہی ہے۔  ہندوستانی پیاز دبئی کی معرفت پاکستا ن جارہی تھی مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر دبئی جانےوالی پیاز بھی ان دنوں نہیں جارہی ہے۔
  ان وجوہات کی بنا پر ریاست میں پیاز کا ذخیرہ بڑھ گیاہے۔ اگرحکومت  ان ممالک سےبات چیت کرکے پیاز کی برآمد بڑھانےکا راستہ ہموارکرتی ہےتو پیاز کی گرتی قیمتوںپر قابوپایاجاسکتاہے۔ ساتھ ہی کسانوںہوانے والے  نقصان  کی بھر پائی کی جاسکتی ہے۔ 
  کسان مہا سبھا کےصدراجیت نولے نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ سوکلو پیاز کی پیداوارپر ساڑھے ۸۰۰؍تا ۹۰۰؍روپے  خرچ ہو رہاہے جبکہ۱۰۰؍کلو پیاز فروخت کرنےکی قیمت  ساڑھے ۴۰۰؍تا ۶۰۰؍ روپے کلو مل رہی ہے۔ ایسی صورت میں کسانوںکا ۵۰؍فیصد نقصان ہورہاہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جن کسانوں کا نقصان ہوا ہے حکومت  انہیں ۱۰۰؍کلوپیاز کیلئے ۶۰۰؍روپے کی مالی مددفراہم کرے ۔  ‘‘
 اے پی ایم سی مارکیٹ واشی کے پیاز ایسوسی ایشن کے ذمہ دار راجو شیلکے نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ دراصل گزشتہ سال اکتوبر کےمہینے میں بارش ہونے سےامسال پیاز کی۲؍ فصلیںایک ساتھ ہوگئی ہیں  جس کی وجہ سےپیاز کی پیداوار کا ذخیرہ دگنا ہوگیا ہے۔ مارکیٹ  میں  پیاز ز یادہ ہونے سے قیمتیں گرگئی ہیں۔  ممکن ہے یہ عوام کیلئے اچھی خبر ہو لیکن اس  سے کسانوںکا بڑا نقصان ہورہاہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ان دنوں واشی مارکیٹ میںعام دنوں کے مقابلے پیاز کی گاڑیاں دگنی آ رہی ہیں۔ اسی لئے ریٹیل بازار میں پیاز کی قیمت کم ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK