• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

پاکستان الیکشن: حکومت سازی کیلئے کوششیں جاری، نواز شریف کا مخلوط حکومت بنانے کا مشورہ

Updated: February 12, 2024, 7:28 PM IST | Lahore

۸؍ فروری کو پاکستان میں انتخابات ہوئے لیکن الیکشن کمیشن نے اب تک حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں حکومت سازی کی کوششیں کررہی ہیں۔ الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد حکومت سازی تعطل کا شکار ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پی ایم ایل۔ این پارٹی نے مزید آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل کر لی ہے۔

Shouting slogans in favor of Imran Khan. Photo: PTI
عمران خان کے حامی نعرے لگاتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

مسلم لیگ پارٹی کیلئے ایک اور خوش خبری اس وقت آئی جب پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک اور نو منتخب آزاد امیدوار نے پیر کوسابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ حال ہی اختتام پذیر ہوئے انتخابات کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ کے سبب نواز شریف مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
یہ معاملہ عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ ایک آزاد امیدوار کے پاکستان مسلم لیگ۔ نواز ( پی ایم ایل۔ این )میں شامل ہونے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ ایوان زیریں میں مجموعی طور پر دو آزاد امیدوار مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ 
این اے ۱۸۹؍ سے سردار شمشیر مزاری پی پی ۱۹۵؍ سے عمران اکرم، پی پی ۲۴۰؍ سے سہیل خان، پی پی ۲۹۷؍سے خضر حسین مزاری، پی پی ۲۴۹؍ سے صاحبزادہ محمد غزین عباسی، نے نواز شریف سے ملاقات کی۔ یہ اطلاع پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے ایکس پر آج دی۔ 
اپنے پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ تمام اراکین نے نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور مسلم لیگ میں شامل ہونے کا اعلان کیاہے۔ شہباز شریف نے لکھا کہ آپ پاکستان کو سنوارنے اور عوام کو مشکلات سے نجات دلانے کے کارواں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایکس پر اپنے پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پہلا ایجنڈا ملک و قوم کی معاشی خوشحالی ہے۔ نو منتخب اراکین اسمبلی نے نواز شریف اور شہباز شریف کی ملک و قوم کیلئے کی گئی خدمات اور جذبے کو سراہا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نواز شریف کی مخلصانہ دور اندیشی، ترقیاتی ایجنڈے اور خدمت کے تجربے اور نو منتخب اراکین اسمبلی سے تبادلہ خیال درکارہے۔ 

جمعیت علمائے اسلام کے حامیوں نے نتائج کا اعلان نہ ہونے پر سڑک بلاک کر دی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی 

سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل۔ این) ۲۲۷؍ نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) ۱۶۰؍نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ ۴۵؍ نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ 
ابتدائی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار وں نے ۱۰۱؍ نشستیں حاصل کی تھیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کو ۷۵؍، سابق وزیر داخلہ بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی نے ۵۴؍ اور ایم کیو ایم نے ۱۷؍ نشستیں حاصل کی تھیں۔ دیگر جماعتوں میں جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی ) نے ۴؍ مسلم لیگ قائد نے ۳؍ اور استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ۲؍۔ ۲؍ نشستیں حاصل کی تھیں۔ 
واضح رہے کہ حکومت سازی کیلئے کسی بھی جماعت کو قومی اسمبلی کی ۲۶۵؍ نشستوں میں سے ۱۳۳؍ نشستیں جیتنا ہوں گی۔ مجموعی طور پر کل ۳۳۶؍ نشستوں میں سے سادہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے ۱۶۹؍ نشستوں کی ضرورت ہے جس میں خواتین اور اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستیں شامل ہیں جن کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ 
اپنی عددی طاقت کی بنا ء پرپی ایم ایل (ن)اور پی پی پی دونوں مرکز میں مخلوط حکومت قائم کرنے کی حالت میں ہیں ۔ تاہم، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ تمام جماعتوں کو آئندہ حکمت عملی میں ہاتھ ملانا چاہئے۔ 
تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ۸ ؍ فروری کے انتخابات میں منقسم فیصلہ کے بعد تعطل کو ختم کرنے کیلئے حریف جماعتوں کے سامنے ’’شراکت دار مخلوط حکومت‘‘ کا خیال پیش کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK