پاکستان نے خیبر پختونخوا صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی،وزیر قانون کا کہنا ہے کہ۱۱؍ رکنی مشاورتی کونسل گورنر کے ماتحت کام کرے گی، حکومتی امور کی نگرانی کرے گی۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 9:05 PM IST | Islamabad
پاکستان نے خیبر پختونخوا صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی،وزیر قانون کا کہنا ہے کہ۱۱؍ رکنی مشاورتی کونسل گورنر کے ماتحت کام کرے گی، حکومتی امور کی نگرانی کرے گی۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے سیکورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خیبر پختونخوا صوبے میں ایمرجنسی قانون نافذ کرنے کی ایڈوائزری پر دستخط کر دیے ہیں۔زرداری کے دفتر کی جانب سے ایکس پر اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل۲۳۲؍ اور۲۳۴؍ کے تحت بھیجی گئی ایڈوائس پر دستخط کیے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کی ایڈوائس، امن و امان کی صورتحال پر متعلقہ اداروں کی رپورٹس، اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا۔دریں اثناء ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پہلے استعمال کیے جانے والے اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔تارڑ نے کہا کہ گورنر کے ماتحت کام کرنے اور حکومتی امور کی نگرانی کے لیے۱۱؍ رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک علاحدہ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے۱۲؍ اضلاع میں امور کا انتظام کیا جا سکے جو براہ راست وفاقی حکومت کے ماتحت آئیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: کیپٹل کے باہر سیکڑوں کا مظاہرہ، اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ
بعد ازاں مقامی اخبار ڈان کے مطابق وفاقی حکومت نے محمد فخر عالم عرفان کو صوبے کا چیف سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ ان کی تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوئی اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔تارڑ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل۲۴۵؍ کے تحت خیبر پختونخوا کے گورنر کی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ افغانستان سے متصل یہ صوبہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے زیر اقتدار تھا۔