ایک معلمہ بھی ہلاک،۲۰؍ سے زائد زخمی، بیشتر کی حالت نازک، اسکول پرنسپل گرفتار،ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر اسکول کو چلایا جارہا تھا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 11:59 AM IST | Agency | Islamabad
ایک معلمہ بھی ہلاک،۲۰؍ سے زائد زخمی، بیشتر کی حالت نازک، اسکول پرنسپل گرفتار،ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر اسکول کو چلایا جارہا تھا۔
پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ جہاں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم ۳۳؍بچےاور ایک ٹیچر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ۲۰؍ سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر ۱۳؍ سال یا اس سے کم ہے۔لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لئے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔اسلام آباد سےالجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ کو ہرمزسے کھاد کی ترسیل پرجلد اتفاق کرنا ہوگا: اقوام متحدہ
مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً ۳۵۰؍ طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی کثیر تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔حکام نے حادثے کی وجوہ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ملبہ اب بھی موجود ہے جبکہ پولیس کے بقول اسکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔سی سی پی او پشاور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر اسکول چلا رہا تھا اور ابتدائی تحقیق کے مطابق کمزور عمارت بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ مختلف میڈیا رپورٹکے مطابق یہ اسکول دو منزلہ عمارت میں قائم ہے جو کہ تیار شدہ چھتوں پر مبنی ہے۔بظاہر اس عمارت میں پکا لینٹر نہیں تھا بلکہ پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں۔ ملبے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوپر ایک کمرے پر چھت کا ملبہ گِرنے کے بعد نیچے بھی وہی ملبہ دوسری جماعت کے بچوں پر آ گرا۔
’’ہمارے ۲؍بچےجاں بحق ہوئے اور ۲؍اسپتال میں زیرعلاج ہیں‘‘
مہلوکین میں ایک ہی گھرکے دوبچے بھی شامل ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق مہلوکین کے ماموں حسین احمد نے بتایا،میرے دوبھانجے اس سانحے میں موت کے مُنہ میں چلے گئے اور دو زخمی ہیں جو اس وقت بھی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ درجنوں گھراجاڑنے والوں کے خلاف شفاف انکوائری کی جائے اوراس طرح کے تمام اسکول مالکان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مزید کسی گھر کے چراغ یوں نہ بجھیں۔