عاشورہ کے جلوس کےلئے۱۰۵؍ شرکاء کی اجازت

Updated: August 18, 2021, 8:18 AM IST | saeed ahmed khan

عدالت کا حکم: شرکائے جلوس ۷؍ٹرکوں میںسوار ہوںگے اوررحمت آباد قبرستان میں۲۵؍ عقیدت مند شامل ہوںگےجہاں شام غریباں کی مجلس پڑھی جائیگی

Last year, a symbolic Ashura procession was allowed and only 4 people were allowed to attend. (File photo)
گزشتہ سال علامتی طور پر عاشورہ کا جلوس نکالنے اورمحض۵؍ لوگوں کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔(فائل فوٹو)

عاشورہ کے جلوس کیلئے ۱۰۵؍ شرکاء کی اجازت ۔عدالت کے حکم کے مطابق شرکاء جلوسِ  عاشورہ ۷؍ٹرک میںسوار ہوںگے اوررحمت آباد قبرستان میں۲۵؍ عقیدت مندشام غریباں کی مجلس میں شامل ہوںگے۔اس ضمن میں جلوس کا اہتمام کرنے والے اہل تشیع کے نمائندہ ادارہ آل انڈیا ادارہ ٔ تحفظ حسینیت کی جانب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔منگل کوسماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے راحت دیتے ہوئے فیصلہ سنایا ۔ فیصلے  میں یہ بھی کہا کہ شرکاء جلوس ۷؍ٹرک میں۱۵؍ کی تعدادکے حساب سے سوارہوں گے ۔ کورٹ نے فیصلے میںیہ بھی کہا ہے کہ رحمت آبادقبرستان میں ۲۵؍لوگ شریک ہوںگے جہاں جلوس کے اختتا پر شام غریباں کی مجلس پڑھی جاتی ہے۔
  مذکورہ ادارہ کی جانب سے یہ عرضداشت ادارہ کے صدر ذوالفقار زیدی اورجنرل سیکریٹری حبیب ناصر کے نام سے داخل کی گئی تھی جبکہ ایڈوکیٹ شیروڈکر نے کیس کی پیروی کی اور عاشورہ کے جلوس کی قدیم روایات اورکورونا کی موجودہ صورتحال اورحکومت کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے حیات میں دی جانے والی رعایتوںکاحوالہ دیتے ہوئے مدلل بحث کی جسے عدالت نےقبول کیا اوراپنافیصلہ صادر کیا ۔عدالت نے جلوس میں انہی افراد کو شامل ہونے کی اجازت دی ہے جنہوںنے کووڈ کے دونوں ڈوز لئے ہوں۔  یہ تفصیلات بذوالفقار زیدی نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار  پر مہیا کروائیں۔
 واضح ہوکہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائن میں کورونا کی پابندیوں کے سبب مجالس محرم، وعظ اورعاشورہ کے جلوس کی اجازت نہیں دی تھی اورکہاگیاتھا کہ آن لائن مجالس کی جائیںتاکہ بھیڑبھاڑنہ ہو۔ ہوم ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری سنجے کھیڈیکرکی دستخط سے جاری کردہ گائیڈ لائن میں سب سے اہم غلطی محرم کی نویں شب کو شب ِشہادت امام حسین کےبجائے ’قتل کی رات ‘لکھا گیا تھا جس پرچہار جانب سے سخت اعتراضات اور ناراضگی کا اظہارکیا گیا تھا اس کے بعد حکومت نےاپنی غلطی تسلیم کی اورتصحیح کرکے دوسراحکمنامہ جاری کیا۔
یہ ہم سب کےلئے کسی قدر راحت کا باعث ہے
 آل انڈیا ادارۂ تحفظ حسینیت کے صدر ذوالفقار زیدی نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ’’امام عالی مقام کی قربانی کو یاد کرنے کے لئے ہمیشہ جس طرح جلوس کا اہتمام کیا جاتاہے اس طرح کے اہتمام کرنے کی اجازت تو نہیںملی ۔ ہم نے عدالت سے ایک ہزار شرکاء کے لئے شرکت کی درخواست کی تھی لیکن محض ۱۰۵ ؍ لوگو ںکی ہی اجازت دی گئی۔‘‘  ان کے مطابق ’’مگر یہ بھی کسی قدر باعث راحت ہے کیونکہ گزشتہ سال تو علامتی جلوس نکالنے اورمحض ۵؍لوگوں کی ہی اجازت ملی تھی وہ بھی عدالت سے رجوع ہونے کےبعد اجازت دی گئی تھی۔‘‘
 ادارہ کے صدرنےیہ بھی کہا کہ ’’چاند نکلنے کے وقت ہی یہ طے کیاگیا تھا کہ دیگر انجمنوں اور اداروں کے ذمہ داران کی باہم مشاورتی میٹنگ میںتبادلۂ خیال کےبعد جلوس کے تعلق سے لائحۂ عمل طے کیا جائے گالیکن کوئی پیش رفت نہ ہونے کےسبب ادارہ تحفظ حسینیت نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا اور جو راحت کی شکل میںکامیابی ملی وہ محض ادارے کی نہیںبلکہ ہم سب عقیدت مندانِ امام عالی مقام کی کامیابی ہے ۔ 
 اس کے علاوہ چونکہ ہم نے حکومت سے یہ وعدہ کیا ہے اورعدالت کی بھی ہدایت ہے کہ کورونا گائیڈ لائن کا پوراخیال رکھاجائے گا توہم سب کی کوشش ہوگی کہ اس وعدے پر بھی ہم سب کھرا اتریں اورکسی صورت کورونا گائیڈ لائن کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔‘‘

muharram Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK