• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھ ماہ تک کے بچوں کے لیے غذا میں سوکروز اور فرکٹوز شامل کرنے پر پابندی کی تیاری

Updated: October 18, 2026, 10:10 PM IST | New Delhi

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے چھ ماہ تک کے بچوں کے لیے تیار کی جانے والی غذائی مصنوعات میں سوکروز اور فرکٹوز شامل کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔

Food Safety.Photo:INN
فوڈ سیفٹی۔ تصویر:آئی این این

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے چھ ماہ تک کے  بچوں کے لیے تیار کی جانے والی غذائی مصنوعات میں سوکروز اور فرکٹوز  شامل کرنے پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کا مقصد شیر خوار بچوں کی غذائیت سے متعلق مصنوعات میں کاربوہائیڈریٹ کے استعمال سے جڑے قواعد و ضوابط کو مزید سخت بنانا ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (بچوں کی خوراک) ریگولیشنز، ۲۰۲۰ء میں ترمیم سے متعلق یہ تجویز ۱۵؍ اکتوبر کو نوٹیفائی کی گئی تھی اور ۱۶؍ اکتوبر کو ہندوستان کے گزٹ میں شائع ہوئی تھی۔ اس مسودے کے ذریعے ریگولیشن  ۳(۶) کے تحت ایک نئی شق شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے مطابق’’چھ ماہ تک کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات میں سوکروز اور فرکٹوز شامل نہیں کیا جائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:سوریہ کا طلبہ کو مشورہ، ریلز دیکھنے کے بجائے پوڈکاسٹ سنیں، علم میں اضافہ ہوگا

موجودہ قوانین کے تحت شیر خوار بچوں کی غذا میں کاربوہائیڈریٹ کے بنیادی ذریعہ کے طور پر لیکٹوز اور گلوکوز پولیمر ) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جبکہ سوکروز اور فرکٹوز کے استعمال کی اجازت کچھ شرائط کے ساتھ ہے، جس کے تحت کل کاربوہائیڈریٹ میں ان کی مشترکہ حد زیادہ سے زیادہ ۲۰؍ فیصد تک ہو سکتی ہے۔ مجوزہ ترمیم نافذ ہونے کے بعد چھ ماہ تک کے بچوں کی غذا میں ان دونوں قسم کی شوگر کو شامل کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد ہو جائے گی، جبکہ شیر خوار بچوں کی غذائی مصنوعات سے متعلق باقی تمام قواعد پہلے کی طرح نافذ رہیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ہوپ پوری سیریز میں بہت آسانی سے رن بنا رہے تھے: شریاس ایّر

ایف ایس ایس اے آئی نے گزٹ نوٹیفکیشن کی کاپیاں عام ہونے کی تاریخ سے ۶۰؍ دنوں کے اندر اسٹیک ہولڈرز اور عوام سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی ہیں۔ ریگولیٹر نے کہا ہے کہ طے شدہ مدت کے اندر موصول ہونے والی تمام تجاویز اور یادداشتوں پر غور کرنے کے بعد ہی ترمیم کو حتمی شکل دی جائے گی۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (انفینٹ فوڈ) امینڈمنٹ ریگولیشنز، ۲۰۲۶ء نامی یہ مسودہ مرکزی حکومت کی پیشگی منظوری سے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ،  ۲۰۰۶ء کی دفعہ ۹۲؍ کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس سے متعلق بنیادی قوانین کو ۴؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو نوٹیفائی کیا گیا تھا اور آخری بار ۳۰؍ اگست ۲۰۲۲ء کو ترمیم کی گئی تھی۔
یہ مجوزہ پابندی ترمیم کو حتمی منظوری ملنے اور نافذ ہونے کے بعد ہی موثر ہوگی۔ یہ شیر خوار بچوں کی غذا میں پائی جانے والی تمام قسم کی شکر یا کاربوہائیڈریٹس پر مکمل طور پر پابندی نہیں لگاتا ہے۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے مطابق، اس قدم کا مقصد ابتدائی بچپن میں غذا میں اوپر سے شامل کی جانے والی شکر  سے بچانا ہے، تاکہ بچوں میں موٹاپے اور صحت سے جڑے مسائل کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ تجویز زندگی کے پہلے چھ ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلانے  کی عوامی صحت کی سفارشات کے بھی مطابق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK