متعدد طلبہ اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے مظاہرین حراست میں۔رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ اور رکن اسمبلی اسلم شیخ نے بھی ساحل کے والدین سے ملاقات کی۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 11:58 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
متعدد طلبہ اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے مظاہرین حراست میں۔رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ اور رکن اسمبلی اسلم شیخ نے بھی ساحل کے والدین سے ملاقات کی۔
آئی آئی ٹی بامبے میںبی ٹیک کے دوسرے سال کے دلت طالب علم ساحل واکوڈے کی موت کو اتوار ( ۱۸؍ اکتوبر) کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔ اسی مناسبت سے متعدد طلبہ ، ونچت بہوجن اگھاڑی کے عہدیدار اور ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ ، رکن اسمبلی اسلم شیخ اور دیگر کے ہمراہ آئی آئی ٹی (پوائی، بامبے) میں دھرنے پر بیٹھے ساحل کے والدین سے ملاقات اور اسے خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے تھے۔ اس دوران جب ونچت بہوجن اگھاڑی کے ورکروں اور ساحل کے ساتھی طلبہ نے انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ کیخلاف زبردست نعرے بازی کی توپولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ۔ آئی آئی ٹی کے پروفیسر سوریہ نارائن ڈولاکو جیل بھیجنے اور آئندہ اس طرح پسماندہ (دلت) طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات کو فوراً روکنے کیلئے ضروری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ساحل واکوڈے کے والدین، راہل سون پمپلے اور ’آل انڈیا اِنسٹی ٹیوٹ آف سائنس کونسل اینڈ اسوسی ایشن(اے آئی آئی ایس سی اے) کے عہدیداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ونچت بہوجن اگھاڑی کے نوجوان لیڈر سجات امبیڈکر نے فوری طور پر متعلقہ پولیس افسران سے فون پر رابطہ کیا اور تحویل میں لئےگئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے
آئی آئی ٹی میں ساحل کے والدین سے ملاقات کرنے کے دوران ورشا گائیکواڑ نے مطالبہ کیاکہ جن پولیس اہلکاروں نے آئی آئی ٹی کے کیمپس میں گھس کر پر امن مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ مار پیٹ کی ہے ان سبھی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوںنے مزید کہا کہ’’ساحل واکوڈے کی موت کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کے والدین انصاف کیلئے آزاد میدان اور اس کے بعد آئی آئی ٹی میں احتجاج کر رہے ہیں لیکن نہ ہی وزیر اعلیٰ اور نہ کے کسی وزیریا سیکریٹری نے ان سےملاقات کی۔یہ افسوسناک ہے ۔ اس طرح کا رویہ اختیار کرکے اور اس رویہ کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلبہ کو پولیس گرفتار کر کے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ہم ان ساحل واکوڈے کو انصاف دلانے کیلئے یہاں آئے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جمہوریت کی بازیابی‘‘ کیلئے ملک گیر مارچ
پولیس کی کارروائی
اتوار کو آئی آئی ٹی بامبے کے مین گیٹ پر ہونے والے اس مظاہرے کے دوران ممبئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارکنوں اور کیمپس کے اندر موجود تقریباً۹؍ سے ۱۰؍ طلبہ کو حراست میں لے لیا تھا۔
ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کی مداخلت
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے ممبئی پولیس کے ویسٹ زون۔۳؍کے ڈی سی پی سے فون پر تفصیلی بات چیت کی اور مظاہرین کے آئینی و قانونی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے مداخلت کی۔سینئر قیادت اور پولیس انتظامیہ کے درمیان گفتگو کے بعد تحویل میں لئےگئے تمام افراد، بشمول ساحل کے والدین اور سماجی کارکنان کو پولیس نے رہا کر دیا۔
مظاہرے کی وجہ
واضح رہے کہ یہ احتجاج بی ٹیک کے دوسرے سال کے دلت طالب علم ساحل واکوڈے کی خودکشی کے بعد شروع ہوا۔
ساحل کے والدین اور احتجاجی کارکنوں کا الزام ہے کہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ایک پروفیسر کی جانب سے ساحل کو ذات پات کی بنیاد پر ہراساں کیا گیا اور ذہنی اذیت دی گئی جس نے اسے خودکشی پر مجبور کیا۔
اہم مطالبات
ونچت بہوجن اگھاڑی( وی بی اے)اور ساحل کے والدین (جو پچھلے کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں) کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ پروفیسر اور انتظامیہ کے خلاف ایس سی/ایس ٹی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
صاف اور شفاف تحقیقات: ساحل واکوڈے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی: معاملے میں ملوث یا غفلت برتنے والے افراد کے خلاف فوری قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انصاف کی فراہمی: متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے اور اس پورے معاملے میں ادارے کی سطح پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔