ہانگ کانگ میں ووٹنگ کے ذریعے نئے قانون کے خلاف احتجاج

Updated: July 14, 2020, 9:47 AM IST | Agency | Hong Kong

عوام نے لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ان امیدواروں کےانتخاب کیلئے ووٹ دیا جنہیں وہ آئندہ الیکشن میں اپنا نمائندہ بنانا چاہتے ہیں

Hong Kong - Pic : PTI
ووٹنگ کیلئے قطار میں کھڑے مظاہرین ( تصویر: ایجنسی

ہانگ کانگ میں  چین کی طرف سے نافذ کردہ نئے سیکوریٹی قانون کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے۔ اس دوران مظاہرین نے  احتجاج کا ایک انوکھا اور کار آمد طریقہ استعمال کیا ہے۔ عوام  نے آئندہ ستمبر میں ہونے والے الیکشن کیلئے  اپنے امیدواروں کا انتخاب کیا۔ اس کیلئے باقاعدہ الیکشن کروایا گیا اور  اس میں لوگوں نے قطار میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالے۔  اسے پرائمر ی  الیکشن کا نام دیا گیا تھا۔ 
  واضح رہے کہ چینی حکومت  نے لوگوں کو اس  الیکشن میں حصہ نہ لینے کی وارننگ دی تھی۔  اس کے باوجود لوگوں نے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر  ووٹ ڈالے۔ واضح رہے کہ اس الیکشن  کا مقصد جمہوریت نواز لیڈروں کا انتخاب کرنا تھا جو ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں اپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔ ایک اطلاع کےمطابق  ہانگ کانگ کے تقریباً۶؍ لاکھ شہریوں نے اس  غیر سرکاری پرائمری الیکشن میں حصہ لیا اور اپنےپسند کے  جمہوریت دوست نمائندوں کو امیدوار بنانے کیلئے اپنے حق رائے دہی استعمال کیا۔  چین نے پہلے ہی یہ انتباہ دیا  تھا کہ اس طرح کا الیکشن  نئے سیکوریٹی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔
 جبکہ یہ  ووٹنگ ایک طرح سے ہانگ کانگ کے شہریوں کی جانب سے متنازع نئے سیکوریٹی قانون  کے خلاف احتجاج ہی تھا۔ اس کا اہتمام ہانگ کی اپوزیشن پارٹیوں نے کیا تھا۔ 
 چین نے اس نئے سیکوریٹی قانون کا اطلاق ۳۰؍جون کو کیا تھا۔ اس سے پیشتر اور اس کے نفاذ کے بعد ہانگ کے شہریوں، سیاسی رہنماؤں اور بین الاقوامی برادری نے اس پر شدید اعتراض کیا تھا۔ ان سب کا کہنا ہے کہ یہ ہانگ کانگ کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے ۱۹۹۷ءمیں ہانگ کانگ کو مشروط طور پر چین کے حوالے کیا تھا۔ اس نئے قانون سے ہانگ کانگ کی علاقائی نیم خود مختاری اور آزادی پر ضرب لگی ہے۔ اب چین ہانگ کانگ میں ان لوگوں کی قانونی گرفت کر سکے گا جو حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے۔
  لیکن  اچھی بات یہ ہے ک ہانگ کانگ کے شہریوں نے اپنی آزادی قائم رکھنے کیلئے مسلسل احتجاج کئے ہیں۔ ہانگ کانگ میں آخری بار باقاعدہ سرکاری پولنگ ضلعی کونسل کی نشستوں کے لئے ہوئی تھی۔ اس میں بہت سے جمہوریت نواز امیدواروں کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آئندہ ستمبر میں ہونے والے  انتخابات کے وقت چین کا کیا اقدام ہوگا۔ آیا وہ باقاعدہ شفافیت کے   ساتھ الیکشن کروائے گا یا جمہوریت  پسندوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے مزید کوئی سخت اقدام آزمائے گا۔ 

hong kong Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK