• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

رائے گڑھ صنعتوں کے پھیلتے ہوئے جال کے سبب ضلع کی لائف لائن کہلائی جانے والی ۴؍ندیوں کا وجود خطرےمیں

Updated: March 03, 2023, 10:08 AM IST | ali bagh

کارخانوں کا انتہائی خطرناک کیمیائی مادہ ندیوں میں چھوڑا جا رہا ہے،ضلع میں پانچ دریا آلودہ،مرکز ی آلودگی کنٹرول بورڈکی رپورٹ میں آلودہ ندیوں کی فہرست میں رائے گڑھ کی ساوتری، امبا، کنڈلیکا، پاتال گنگا اور الہاس ندیاں شامل

The discharge of water from the industries into the rivers is causing a lot of problems
صنعتوں کا پانی دریاؤں میں چھوڑے جانے سے کافی مسائل پیدا ہورہے ہیں

ریاست کی چار سب سے زیادہ آلودہ ندیوں میں رائے گڑھ ضلع کی ساوتری ندی شامل ہیں، جب کہ کنڈلیکا اور پاتال گنگا ندی آلودگی کے تیسری قسم  کے زمرے میں ہیں اور امبا اور الہاس ندیوں کو آلودگی کے پانچویں قسم  کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے ۔ یہ پانچ دریا رائے گڑھ ضلع کی لائف لائن کے طور پر جانے جاتے ہیں اور بڑھتی ہوئی صنعتی آلودگی اور شہر سے سیوریج کے اخراج کی وجہ سے  ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے ۔مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی ایک رپورٹ میں رائے گڑھ کی مذکورہ ندیوں کو آلودہ  بتایاگیا ہے۔
 اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق سی پی سی بی کی رپورٹ میں ملک کے ۶۰۳؍ دریاؤں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ۳۰؍ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ۲۷۹؍ ندیوں میں سے ۳۱۱؍ندیوں کے کنارے آلودہ پائے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر آلودہ دریا مہاراشٹر میں ہیں جن کی تعداد ۵۵؍ بتائی گئی ہے۔ آلودہ ندیوں کی فہرست میں رائے گڑھ ضلع کی ساوتری، امبا، کنڈلیکا، پاتال گنگا اور الہاس ندیاں بھی شامل ہیں۔
دریائے ساوتری سیوریج سے آلودہ
 مہاڈ تعلقہ سے بہنے والی ندی میں شہر اور آس پاس کے دیہاتوں سے سیوریج کو ساوتری میں چھوڑا جاتاہے۔ اس پانی کا بائیو کیمیکل آکسیجن  لیول ۵۰؍ ملی گرام ہے ۔ اسی کے ساتھ مہاڈد انڈسٹریل علاقے کی بہت سی کمپنیوں اور کارخانوں میں سے کچھ کمپنیوں کا کیمیائی فضلہ بھی ساوتری ندی میں چھوڑا جاتا ہے جس کی وجہ سے ساوتری ندی کی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
 کنڈلیکا ندی اپنی ساکھ کھو چکی ہے
  رائے گڑھ ضلع کنڈلیکا ندی کی شہرت پورے مہاراشٹر میں خالص  اورمیٹھے پانی کی وجہ سے ہے۔ یہ ندی  سہیادری پہاڑی سلسلے سے نکلتی ہے۔ کنڈلیکا ندی پر ڈالواہل ڈیم بنایا گیا ہے اور اس ڈیم کے ذریعے یہاں کی بڑی صنعتوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ علی باغ تعلقہ کے لوگوںکی پیاس ایم آئی ڈی سی کے پانی سے بجھتی ہے اور اسی پانی سے سبزیوں کی کاشت کاری کی جاتی ہے ۔ روہا شہر تک اسی دریا کا پانی بہتا ہے  ۔ لیکن اب اس ندی میں بھی  بڑے پیمانے پر سیوریج چھوڑا جاتا ہے۔
کھوپولی کا  سیوریج پاتال گنگا ندی میں
 کھوپولی میونسپلٹی حدود میں سبھی مکانوں،کمپنیوں  اور کارخانوں کا گندہ پانی پاتال گنگا  ندی میں چھوڑا جاتا ہے۔ اس سے دریا کے پانی  کا کیمیکل لیول ۱۱ ؍ملی گرام تک پہنچ جاتا ہے۔کھوپولی میونسپلٹی کی حدود میں بڑھتی ہوئی شہری کاری کی وجہ سے پاتال گنگا ندی کا وجودخطرے میں پڑ گیا ہے ۔
امبا ندی صنعت کاری کی زد میں ہے
 جے ایس ڈبلیو، ریلائنس پیٹرو کیمیکلز جیسے بڑے کارخانے امبا دریا کے کنارے پر واقع ہیں۔ یہ ندی جو سدھاگڑھ، روہا سے ہوتی ہوئی اور آگے پین تعلقہ کی دھرمتر کریک میںمل جاتی ہے۔ناگوٹھنے کے علاقے میں بھی صنعت کاری بڑھ رہی ہے۔ اس ندی کے کنارے ناگوٹھنے گاؤں کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا گاؤں نہیں ہے۔ تاہم اس ندی میں آلودگی کی سطح حد سے زیادہ ہے۔
پولیوشن کنٹرول بورڈ کے افسر ودیا دھر قلعہ دار کا بیان 
  مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے افسر ودیادھر قلعہ دار نے بتایا کہ ان دریا کے پانی کی نمونے جمع کیے گئے تھے۔پانی  کا تجزیہ کیا گیا اسکے معیار کی جانچ کی گئی،ساتھ ساتھ حیاتیاتی کیمیائی آکسیجن کی بھی جانچ کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ پانی کا کیمیائی لیول کم از کم ۳؍ ملی گرام فی لیٹر ہو تو وہ پانی پینے کے قابل ہوتا ہے لیکن رائے گڑھ کے پانچ دریاؤں میں بی او ڈی کی سطح حد سے زیادہ تجاوز کر گئی۔اسلئے ان ندیوں کو آلودہ ندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

alibaug Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK