رتنا گیری: بارسوریفائنری پر بھی اُدھوکی شیوسینا میں ا ختلاف

Updated: November 30, 2022, 1:35 AM IST | sajid Shaikh | ratnagiri

مجوزہ ریفائنری پروجیکٹ کے تعلق سے شیو سینا کے ایم ایل اے اور ایم پی آمنے سامنے،ایم ایل اے راجن سالوی نے پروجیکٹ کی حمایت کی تو ایم پی ونائک رائوت نے اپنا موقف واضح نہیں کیا، گزشتہ ۶؍ برسوں سے تنازع کا شکار اس پروجیکٹ پر اب بھی غیر یقینی کے بادل

Rajapur Assembly Member Rajan Salvi is supporting the project. (File Photo)
راجا پور کے رکن ا سمبلی راجن سالوی اس پروجیکٹ کی حمایت کررہے ہیں۔(فائل فوٹو)

 ضلع کےراجاپورتعلقہ کے بارسو گاؤں میںمجوزہ ریفائنری پروجیکٹ کے معاملے میں شیوسینا ا دھو گروپ کے ۲؍ لیڈروں   کے درمیان اختلافات  سامنے آئے ہیں۔اس سے مجوزہ ریفائنری پروجیکٹ ایک بار پھر تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔ پروجیکٹ کی منظوری کے تعلق سے شیو سینا میں گروہ بندی نظر آئی۔راجا پور کے ایم ایل اے راجن سالوی  پروجیکٹ کے حق میں ہیںلیکن ایم پی ونائک رائوت نے ابھی تک کوئی واضح موقف نہیں  اختیار کیا ہے۔پروجیکٹ کی منظوری  کے تعلق سے ایم پی رائوت کی خاموشی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے وہ اس پروجیکٹ کی مخالفت میں ہیں جبکہ اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیںکہ   اگر مقامی لوگ اس پروجیکٹ کے مخالف ہیں تو وہ بھی اس کی حمایت نہیں کریں گے ۔ شیو سینا جو ریاست سے باہر جا رہے پروجیکٹوں کے حوالے سے شندے فرنویس حکومت پر مسلسل تنقید کر رہی ہے، مذکورہ ریفائنری پروجیکٹ  کے تعلق سے وہ کنفیوژن کا شکار نظر آرہی  ہے۔
 شیو سینا کی طرف سے نانار میں لایا جانے والا ریفائنری پروجیکٹ داخلی اختلافات کے سبب خود شیوسینا نے نانار  میں نہیں ہونے دیا ، پچھلے ۶؍ سال سے یہ پروجیکٹ  تنازع کا شکار ہے۔ شیو سینا جو پروجیکٹ مخالف لوگوں کی بات سنتی ہے، وہ پروجیکٹ کمپنی یا پروجیکٹ کےحامیوں کی کبھی نہیں سنتی۔اس نے اپوزیشن کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے کبھی پہل نہیں کی اور یہ شیوسینا ہی ہے جو اس منصوبے کے ریاست سے باہر ہونے کے بعد تنقیدی موقف اختیار کر رہی ہے۔
پروجیکٹ کیلئے ادھو نے مرکز کو خط لکھا تھا
 جنوری  میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے خود مرکزی حکومت کو راجا پور تعلقہ کے بارسو میں جگہ فراہم کرنے کیلئے خط بھیجا تھا۔ تاہم، ان کی اپنی شیوسینا نے ابھی تک یہ موقف اختیار نہیں کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کرتی ہے۔ شیو سینا نے ریفائنری پر اپنا موقف الجھا رکھا ہے۔اس سے قبل بھی نانار کے علاقے کے کچھ شیوسینکوں نے سخت موقف اختیار کیا تھا کہ وہ  چاہتے ہیںکہ پروجیکٹ یہاں آئے۔ چنانچہ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اب مقامی ایم ایل اے راجن سالوی نے اس پروجیکٹ کی حمایت کے لیے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ یقیناً شیوسینا کے ان دو کرداروں کی وجہ سے پروجیکٹ کا کام آگے بڑھانے میں بڑی رکاوٹیں آ رہی ہیں۔
ایم ایل اے حق میںاور ایم پی مخالف
 جب یہ پروجیکٹ نانار اور علاقے کے۱۳؍گاؤں میں کیا جانا تھا تو شیوسینا نے ہر سطح پر اس کی مخالفت کی تھی۔ تاہم شیوسینا شروع سے ہی بارسو پر زور دیتی رہی ہے۔ روزگار کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے راجا پور میں کئی تنظیموں اور تعلقہ کی کئی گرام پنچایتوں نے اس منصوبے کی حمایت کی۔ گزشتہ دنوں ایم ایل اے راجن سالوی نے بھی اس پروجیکٹ کی حمایت میں سخت موقف اختیار کیا۔ یہی وجہ ہےکہ ایم ایل اے سالوی نے ممبئی میں وزیر صنعت اُدے سامنت کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کی اور اپنی شرائط بھی پیش کیں۔ تاہم ایم پی ونائک رائوت اس میٹنگ سے غیر حاضر رہے۔ اس لیے ان کے موقف کو اب بھی اپوزیشن سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاری میں کمی آئی
 جب نانار اور اس کے آس پاس کے ۱۳؍دیہاتوں میں اس پروجیکٹ کو قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو اس پروجیکٹ کیلئے۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جانی تھی۔ تاہم اب یہ منصوبہ بارسو میں تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہےلیکن یہاں کافی جگہ دستیاب نہیں ہے۔اس لیے اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری دو لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ اگر یہ منصوبہ سیاسی تنازع کے بغیر وقت پر آگے بڑھتا اور لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کیا جاتا، تو۴؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو سکتی تھی۔
 منظوری کے کاغذات کو نظر انداز کیا گیا
 بارسو میں مجوزہ پروجیکٹ کیلئے۲۹۰۰؍ ایکڑ کی جگہ کی منظوری دی گئی ہے۔اس سے قبل جس علاقے میں یہ منصوبہ تجویزکیا گیا تھا، وہاں۸۵۰۰؍ایکڑ کی منظوری کے کاغذات موجود ہیں۔ تاہم سیاسی جماعتوں نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اس علاقے کے لوگوں کو جو اس منصوبے کے خواہاں ہیں ان کی حمایت نہیں کی ا ور نہ ہی  ان کی بات سننے کی زحمت کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK