Updated: October 16, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
مکیش امبانی کی قیادت والی ہندوستانی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے ایلون مسک کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبھی مقابلے سے خوف نہیں کھایا اور وہ ہندوستان میں سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کا خیرمقدم کرتی ہے، بشرطیکہ وہ ملک کے قوانین اور پالیسیوں پر عمل کریں۔
ایلون مسک اور مکیش امبانی۔ تصویر:آئی این این
مکیش امبانی کی قیادت والی ہندوستانی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے ایلون مسک کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبھی مقابلے سے خوف نہیں کھایا اور وہ ہندوستان میں سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کا خیرمقدم کرتی ہے، بشرطیکہ وہ ملک کے قوانین اور پالیسیوں پر عمل کریں۔ کمپنی کا یہ بیان ایلون مسک کی جانب سے اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کی ہندوستان میں آمد میں تاخیر کے معاملے پر مکیش امبانی اور ہندوستانی مارکیٹ کے حوالے سے تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ ریلائنس نے واضح کیا کہ ہندوستان میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے یکساں ضابطہ جاتی طریقۂ کار ہونا چاہیے اور اس کی اپنی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروسز، جو جیو کے تحت پیش کی جانی ہیں، بھی ضروری سرکاری منظوریوں کی منتظر ہیں۔
ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی نے ہمیشہ ایسے کاروباری ماحول میں ترقی کی ہے جہاں ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری اور نئی ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ تاہم، کمپنی کے مطابق اس آزادی کی بنیاد قانون کی حکمرانی پر ہے اور ہر کمپنی کو ہندوستانی قوانین اور حکومتی پالیسیوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ سیٹیلائٹ مواصلات کے شعبے میں اسٹارلنک سمیت تمام کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ریلائنس کے مطابق، ’’ہم نے کبھی مقابلے سے خوف نہیں کھایا۔‘‘ کمپنی نے مقابلے کو صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کا اصل امتحان قرار دیا۔
اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندوستان میں اسٹارلنک کی تجارتی خدمات شروع کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھائے۔ مسک نے الزام لگایا کہ بعض بااثر کاروباری حلقے اسٹارلنک کی ہندوستانی مارکیٹ میں آمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے مکیش امبانی کا نام لے کر بھی تبصرے کیے اور سوال اٹھایا کہ آیا ہندوستان میں اسٹارلنک کو جیو کے مقابلے میں کام کرنے کا یکساں موقع ملے گا۔ مسک کا مؤقف ہے کہ اسٹارلنک ہندوستان میں سیٹیلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرکے صارفین کے لیے مزید انتخاب پیدا کرسکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں روایتی انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران اور امریکہ کو ہرمزسے کھاد کی ترسیل پرجلد اتفاق کرنا ہوگا: اقوام متحدہ
ریلائنس نے اپنے جواب میں کہا کہ جیو کی سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات بھی ضروری سرکاری منظوریوں کی منتظر ہیں۔ کمپنی نے اپنے ٹیلی کام کاروبار کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جیو نے ۲۰۱۶ء میں ہندوستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں ایک نئے کھلاڑی کے طور پر قدم رکھا تھا، لیکن اب اس کے صارفین کی تعداد ۵۳؍ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ریلائنس کے مطابق، جیو نے مسابقت کے ذریعے اپنی خدمات کو وسعت دی اور صارفین کو نسبتاً سستی انٹرنیٹ سہولتیں فراہم کیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں بھی مقابلے کے لیے تیار ہے، لیکن تمام کمپنیوں کو ایک جیسے قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
ہندوستان میں اسٹارلنک، ریلائنس جیو کی سیٹیلائٹ سروس اور ہندوستانی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ ایوٹیل سیٹ ون ویب کو سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے لائسنس مل چکے ہیں، لیکن خدمات شروع کرنے کے لیے ضروری حفاظتی جانچ اور دیگر ضابطہ جاتی منظوریوں کا عمل اہم ہے۔ ہندوستانی حکومت نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ کسی مخصوص کمپنی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ حکومت کے مطابق، متعلقہ کمپنیوں کو مقررہ حفاظتی اور قانونی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے:منوج باجپائی کی فلم’ ’گھوس خور پنڈت‘‘ کا نام تبدیل،’’غجب رات‘‘رکھا گیا
سیٹیلائٹ انٹرنیٹ ہندوستان کے دیہی، دور دراز اور کم سہولتوں والے علاقوں میں رابطے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم، صارفین کے لیے اس کی دستیابی، قیمت اور تجارتی آغاز کا انحصار منظوریوں، تکنیکی تیاری اور کمپنیوں کے کاروباری منصوبوں پر ہوگا۔ ہندوستان دنیا کی بڑی انٹرنیٹ مارکیٹوں میں شامل ہے۔ جیو نے کم قیمت والے موبائل ڈیٹا اور وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بڑی تعداد میں صارفین حاصل کیے ہیں، جبکہ اسٹارلنک سیٹیلائٹ کے ذریعے براہ راست انٹرنیٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دونوں خدمات کی ٹیکنالوجی اور کاروباری طریقۂ کار مختلف ہیں، اس لیے ان کے درمیان مقابلہ خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہوسکتا ہے جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی محدود ہے۔
ریلائنس کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ کمپنی اسٹارلنک کی آمد کی مخالفت کرنے کے بجائے قانونی تقاضوں کی یکساں پابندی پر زور دے رہی ہے۔ دوسری جانب، ایلون مسک ہندوستانی مارکیٹ میں جلد داخلے اور صارفین کو مزید انتخاب دینے کے حق میں ہیں۔ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ متعلقہ منظوریوں کا عمل کب مکمل ہوتا ہے اور دونوں کمپنیوں کی خدمات ہندوستانی صارفین کے لیے کب دستیاب ہوتی ہیں۔