معروف ماہرِقانون پروفیسر فیضان مصطفیٰ ’نلسار‘یونیورسٹی سے سبکدوش، جذباتی تقریر کی

Updated: August 06, 2022, 9:08 AM IST | Hyderabad

طلبہ نے ان کی خدمات کو سراہا اور’ نلسار ‘کو سرفہرست بنانے میں تعاون کیلئے شکریہ ادا کیا

Faizan Mustafa
فیضان مصطفیٰ

معروف ماہر قانون فیضان مصطفیٰ نیشنل اکیڈمی آف  لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نلسار)  سے بطور وائس چانسلر گزشتہ دنوں سبکدوش ہو گئے۔ اس قومی سطح کی  یونیورسٹی کو  ملک میں سر فہرست  یونیورسٹی بنانے میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی الوداعی تقریب میں نہ صرف طلبہ جذباتی ہو گئے بلکہ انہوں نے صدق دل سے فیضان مصطفیٰ کی خدمات کا اعتراف کیا اور انہیں نیک خواہشات پیش کیں۔  فیضان مصطفیٰ نے بھی اس موقع پر جذباتی انداز میں تقریر کی اور طلبہ کے ساتھ ساتھ اکیڈمی کے تمام عملے کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ’’ جب میں نے اس یونیورسٹی کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو  اس وقت  اس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے لیکن آج جب میں جارہا ہوں تو نہ صرف یہ یونیورسٹی ملک کی سرفہرست لاء یونیورسٹیوں میں سے ایک بن گئی ہے بلکہ اسے  اس مقام تک پہنچاکر مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘‘
 فیضان مصطفیٰ نے کہا کہ اس   لاء یونیورسٹی کا اثاثہ ہم جیسے لوگ نہیں  ہیں جو کچھ عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں بلکہ اصل اثاثہ ہمارے سیکڑوں طلبہ ہیں جو  یہاں سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں قانون کا نہ صرف پاس و لحاظ ہوتا ہے بلکہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ اپنی وائس چانسلری کے دوران انہوں نے طلبہ پر حکم چلانے یا ان کی صلاحیتوں کو دبانے کی کوشش کبھی نہیں کی بلکہ یونیورسٹی کے انتظام و انصرام سے لے کر تعلیمی معاملات میں مشوروں تک ، ہر طرح سے انہیں آگے بڑھانے کی کوشش کی ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کا انفراسٹرکچر  اب بہترین ہو گیا ہے۔ فیضان مصطفیٰ نے بتایا کہ جب انہوں نے یونیورسٹی کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو اس وقت یونیورسٹی پر ۱۲؍ کروڑ روپے کا قرض تھا لیکن اب جب وہ سبکدوش ہو رہے ہیں تو  یونیورسٹی کے پاس ۱۰۰؍ کروڑ روپے کا سرپلس فنڈ ہے جو صرف اور صرف طلبہ کے لئے ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یو جی سی اور وزارت تعلیم نے نلسار یونیورسٹی کو کٹیگری ون کی یونیورسٹی قرار دیا ہے۔ پروفیسر فیضان مصطفیٰ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ہم نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ دیگر نیشنل لاء اسکولس کے لئے اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہیں۔ اس کا پورا کریڈٹ ہم یہاں کے طلبہ کو دینا چاہیں گے جنہوں نے ہر قدم پر انتظامیہ کا ساتھ دیا اور اس یونیورسٹی کو مثالی لاء ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر ان کے بہت سے طلبہ  نے بھی  خطاب کیا اور فیضان مصطفیٰ کی خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ واضح رہے کہ پروفیسر فیضان مصطفیٰ معروف نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر ماہر قانون کی حیثیت سے   مدعو کئے جاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK