ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ، اسرائیل نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کر لیے، اہداف میں ممکنہ طور پر ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، اور میزائل اور ڈرون کا ذخیرہ شامل ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 10:04 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ، اسرائیل نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کر لیے، اہداف میں ممکنہ طور پر ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، اور میزائل اور ڈرون کا ذخیرہ شامل ہوگا۔
دی نیویارک ٹائمز نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی فوج نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کر لیے ہیں، جس میں ممکنہ مختصر لیکن شدید حملوں کی تیاریاں جاری ہیں۔اخبار نے امریکی حکام اور غور و خوض سے واقف دیگر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ دونوں افواج نے مشقیں تیز کر دی ہیں، بشمول حملے کی چالوں کی مشق کے لیے عراق کے اوپر پروازیں۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون کا ذخیرہ، اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں اخبار نے رپورٹ کیا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس ہفتے اسرائیل میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ ممکنہ نئے حملوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ٹائمز کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے منصوبوں میں پک ایکس ماؤنٹین پر حملہ شامل ہو سکتا ہے، جو ایک گہری زیر زمین سائٹ ہے۔بعد ازاں رپورٹ میں، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ انہوں نے اس سال بڑے پیمانے پر لڑائی میں واپس آنے کے منصوبوں کو بار بار ویٹو کیا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ ٹرمپ حملوں کی منظوری دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: پوتن کے پاس ٹرمپ کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں: ہلیری کلنٹن کا دعویٰ
واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا کیونکہ دونوں فریق ’’ مذاکرات‘‘میں مصروف ہیں۔تاہم وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ٹائمز کو بتایا کہ’’ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو موجود ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی،‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ تمام آپشنز کو میز پر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
ذہن نشین رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، جو عالمی توانائی کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے۔جبکہ پاکستانی اور قطری ثالثی کے بعد جون میں امریکہ اور ایران کی جانب سے دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت آبنائے میں نیویگیشن سمیت اختلافات کے باعث تب سے تعطل کا شکار ہے۔