فتح آباد میں متحدہ محاذ کی باز گشت، اہم لیڈر متفق

Updated: September 26, 2022, 10:01 AM IST | Inquilab News Networks | New Delhi

اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے اتحاد کا نعرہ ، بی جےپی کو ہر حال میں شکست دینے کیلئے تیسرے محاذ کے بجائے کانگریس کو ساتھ لے کر متحدہ محاذ بنانے کا عزم

A program organized in Fatehabad on Devi Lal`s 109th birth anniversary .Picture:INN
دیوی لال کے۱۰۹؍ویں یوم پیدائش پر فتح آباد میں منعقدہ پروگرام۔ تصویر:آئی این این

سابق نائب وزیر اعظم آنجہانی چودھری دیوی لال کے ۱۰۹؍ ویں یوم پیدائش پر انڈین نیشنل لوک دل(آئی این ایل ڈی) کے ذریعہ ہریانہ کے فتح آباد کی نیو اناج منڈی میںمنعقدہ ’ سمان دیوس‘ ریلی میں اتوار کو تیسرے محاذ کی باز گشت پوری شدت سے سنائی دی۔اس دوران اپوزیشن لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ  ملک کو ’’برباد کرنے والوں‘‘ سے بچانے کیلئے تمام غیر بی جےپی پارٹیوں کا متحد ہوجانا اب ناگزیر ہوگیاہے۔اس دوران کسی تیسرے محاذ  کے امکان کو بھی خارج کرتے ہوئے بی جےپی کے  خلاف  ایسے متحدہ محاذ کی وکالت کی گئی جس میں  کانگریس بھی  شامل ہو۔ 
؍۱۱؍ ریاستوں سے اپوزیشن لیڈروں کی شرکت 
 فتح آباد کی ریلی میں این سی پی صدر شرد پوار،  جے ڈی یو سربراہ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار،  آر جے ڈی لیڈر اور بہار کے نائب وزیراعلیٰ  تیجسوی  یادو، سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری اور شرومنی اکالی دل  کے سکھ بیر سنگھ بادل    سمیت ۱۱؍  ریاستوں  سے آنے والے  اپوزیشن کے اہم لیڈروں نے شرکت کی اور ایک طرح سے  ۲۰۲۴ء کےعام انتخابات کیلئے بگل  بجا دیا۔   انہوں  نے نہ صرف مرکزکی بی جے پی حکومت کی   پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ ۲۰۲۴ء میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کیلئے خاکہ بھی پیش کیا۔
 نتیش نے تیسرے محاذ کے باب کو بند کردیا
 ریلی خطاب کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپوزیشن  کے اتحاد کی کوششوں کو مہمیز دیتے ہوئے تیسرےمحاذ کا باب ہی بند کردینے کی کوشش کی۔ا نہوں نے  کہا کہ بی جے پی کو شکست فاش سے دوچار کرنے کیلئے اپوزیشن کا متحدہ محاذ ضروری ہے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’اگر غیر بی جےپی پارٹیاں متحد ہوجائیں، جس میں  ہمارے  کانگریس  کے دوستوں کا ہونا بھی ضروری ہے تو ہم لوگوں سے چھٹکا را حاصل کرسکتے ہیں جو ملک کو تباہ کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔‘‘انہوں نے دوٹوک  لہجے میں کہا کہ ’’تیسرے محاذ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘ بہار کے وزیراعلیٰ کے مطابق  ۲۰۲۴ء کے الیکشن میں بی جےپی کو دھول چٹانے کیلئے اپوزیشن  کے متحدہ محاذ کی ضرورت ہے۔  نتیش کمار نے اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر کہا کہ وہ وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نہیں ہیں ۔  بہار کے وزیراعلیٰ نے بی جےپی پر اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کے ساتھ دھوکہ بازی کا الزام عائد کیا اور بتایا کہ گزشتہ انتخابات  میں بی جے پی نے ہمارے امیدواروں کو ہرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے کی بات بھی دہرائی اور کہا کہ بہار میں آج سات پارٹیاں متحد ہیں، بی جے پی کے پاس ۲۰۲۴ء میں الیکشن جیتنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
 پوار نے بھی غیر بی جےپی اتحاد کی تائید کی
 ریلی سے خطاب کرتے ہوئے این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے بھی  غیر  بی جے پی اتحاد کی تائید کی۔ انہوں نے مودی  حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور یاد دلایا کہ کسانوں نے ایک سال تک دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کیا لیکن حکومت نے ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ کسانوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ایم ایس پی فراہم کی جائے گی لیکن نہیں دی گئی۔ حکومت نے کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا وعدہ کیا لیکن پورا نہیں کیا۔
این ڈی اے ختم ہوچکی ہے: تیجسوی
 بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے این ڈی اے کو انتشار کا شکار اتحاد قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ  این ڈی اے  ختم ہوچکا ہے کیوں کہ بی جےپی کے تمام اتحادی اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ تیجسوی یادو نے نشاندہی کی کہ شیو سینا، شرومنی اکالی دل بادل، جے ڈی (یو) جیسے اتحادیوں نے جمہوریت کو بچانے کیلئے بی جے پی کو چھوڑ دیا۔ 
 شیوسینا نے بھی ریلی میں شرکت کی
   ریلی   میں شرکت کیلئے سی پی آئی رہنما ڈی راجہ، تلنگانہ کےوزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ، راجستھان کے ایم پی ہنومان بینیوال، میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک، سابق مرکزی وزیر بریندر سنگھ، ڈی ایم کے لیڈر کنی موزی ، ٹی ایم سی  اور  سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کو بھی مدعو کیاتھا مگر  کئی لیڈر خراب موسم کی وجہ سے نہیں پہنچ سکے۔ ممبئی سے شیوسینا کی نمائندگی کیلئے  اروند  ساونت فتح آباد کی ریلی میں موجود تھے۔   اوم پرکاش چوٹالہ اور ابھے چوٹالہ نے اپوزیشن کے اتحاد کیلئے دیگر پارٹیوں  سے بھی رابطہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK