پٹودی خاندان کی تاریخی اور قیمتی جائیدادوں سے وابستہ صبا علی خان نے ایک ہزار کروڑ روپے کی مبینہ خاندانی وراثت کی نگرانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد منصور علی خان پٹودی نے یہ ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 6:04 PM IST | Bhopal
پٹودی خاندان کی تاریخی اور قیمتی جائیدادوں سے وابستہ صبا علی خان نے ایک ہزار کروڑ روپے کی مبینہ خاندانی وراثت کی نگرانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد منصور علی خان پٹودی نے یہ ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کی بہن صبا علی خان ایک بار پھر اپنی خاندانی وراثت اور اسے سنبھالنے کی ذمہ داری کے حوالے سے خبروں میں ہیں۔ پٹودی خاندان کی تاریخی اور قیمتی جائیدادوں سے وابستہ صبا علی خان نے ایک ہزار کروڑ روپے کی مبینہ خاندانی وراثت کی نگرانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد منصور علی خان پٹودی نے یہ ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔ ان کے بیان ’’ابا یہ ذمہ داری میرے لیے چھوڑ گئے تھے‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والد کی جانب سے دی گئی ذمہ داری کو محض جائیداد کا انتظام نہیں بلکہ خاندان کی تاریخ، روایات اور ورثے کو محفوظ رکھنے کا اہم فریضہ سمجھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی رینکنگ: شریاس ایّر کو سنچری کا انعام ملا
صبا علی خان، اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور سابق ہندوستانی کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کی بیٹی ہیں۔ ان کے بھائی سیف علی خان اور بہن سوہا علی خان نے فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنائی، جبکہ صبا نے زیادہ تر تشہیر اور فلمی چمک دمک سے دور رہ کر اپنی زندگی گزاری ہے۔ وہ زیورات کے ڈیزائن کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور پٹودی خاندان کی تاریخی وراثت کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
صبا علی خان کی ذمہ داری بھوپال کے تاریخی شاہی خاندان سے وابستہ جائیدادوں اور اوقافِ شاہی ٹرسٹ کے انتظام سے متعلق ہے۔ انہیں اس ٹرسٹ کا متولی مقرر کیا گیا ہے۔ متولی ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو وقف کی املاک کی دیکھ بھال اور انتظامی امور کی نگرانی کرتا ہے۔ اس ٹرسٹ سے متعلق جائیدادوں اور اثاثوں کی مالیت ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پوری رقم صبا کی ذاتی ملکیت یا ان کے ذاتی استعمال کے لیے ہے۔ ان کا کردار بنیادی طور پر ٹرسٹ اور اس سے وابستہ ورثے کی نگرانی کرنا ہے۔
صبا نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والد منصور علی خان پٹودی کا خیال تھا کہ وہ اس ذمہ داری کو بہتر انداز میں نبھا سکتی ہیں اور اس کام کے لیے ضروری وقت بھی دے سکتی ہیں۔ صبا کے مطابق، ان کے والد نے انہیں اس کردار کے لیے موزوں سمجھا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کی شخصیت اور ان سے سیکھی ہوئی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف پسندی، تحمل اور مشکل حالات میں اپنے غصے پر قابو رکھنا ایسی خصوصیات ہیں جن سے انہیں زندگی میں رہنمائی ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی سالگرہ پر مداحوں کو خاص تحفہ ملے گا، فلم ’’کنگ‘‘ کا ٹیزرریلیز ہوگا
صبا علی خان نے مستقبل کے حوالے سے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ بھوپال میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے اور خواتین کے لیے اسپتال قائم کرنے جیسے منصوبوں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کا یہ نقطۂ نظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ خاندانی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے سماجی بہبود کے لیے بھی کارآمد بنانا چاہتی ہیں۔
صبا علی خان کا یہ بیان اس لیے توجہ حاصل کر رہا ہے کہ وہ ایک معروف فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود پردۂ سیمیں کے بجائے خاندانی ورثے اور ٹرسٹ کے انتظام پر توجہ دے رہی ہیں۔ ان کے والد کی جانب سے سونپی گئی ذمہ داری، بھوپال کی تاریخی املاک اور اوقافِ شاہی ٹرسٹ سے وابستگی انہیں پٹودی خاندان کی وراثت کے تحفظ میں ایک اہم مقام دیتی ہے۔