• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس بی آئی نے ڈیٹا لیک معاملے میں کہا: صارفین کی رقم مکمل طور پر محفوظ

Updated: October 23, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے سائبر سیکوریٹی کے ایک واقعہ میں۳۸۹۷؍ صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر شائع ہونے کی تصدیق کے بعد وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے بینک کھاتوں میں جمع رقم مکمل طور پر محفوظ ہے۔

Sbi Bank.Photo:INN
ایس بی آئی بینک۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے سائبر سیکوریٹی کے ایک واقعہ میں۳۸۹۷؍ صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر شائع ہونے کی تصدیق کے بعد وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے بینک کھاتوں میں جمع رقم مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس واقعہ میں کھاتے کے بیلنس یا رقوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بینک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ جن صارفین کی معلومات اس واقعے سے متاثر ہوئی ہیں، انہیں ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے الگ الگ مطلع کردیا گیا ہے۔ ایس بی آئی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محفوظ ڈجیٹل بینکنگ کے اصولوں پر عمل کریں اور کسی بھی شخص کے ساتھ اپنا یک وقتی خفیہ رمز (او ٹی پی)، ذاتی شناختی رمز (پن) یا پاس ورڈ شیئر نہ کریں۔ اس کے علاوہ مشکوک فون کالز، پیغامات اور ای میلز سے محتاط رہنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
 یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے کے آغاز میں ایس بی آئی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈارک ویب پر موجود تقریباً ۳؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار ریکارڈز کے ابتدائی تجزیے کے دوران۳۸۹۷؍  ایسے ریکارڈز کی نشاندہی ہوئی جن میں صارفین کی ذاتی شناخت سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ بینک کے مطابق اسے اپنے خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے، دفاعی سائبر ایجنسی اور ہندوستانی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی اِن) سے ممکنہ ڈیٹا لیک کے بارے میں انتباہ موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان اور ودیا بالن ۱۹؍ سال بعد پھر ایک ساتھ

ایس بی آئی کے مطابق متاثرہ ریکارڈز میں صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبر، تاریخِ پیدائش، نام، جنس، ای میل پتے، رہائشی پتے اور برانچ سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کے سی آئی ایف شناختی نمبر، لیڈ آئی ڈی، قرض یا مالی درخواستوں سے متعلق ریکارڈ کا میٹا ڈیٹا اور دیگر متعلقہ فائلیں بھی متاثرہ معلومات میں شامل بتائی گئی ہیں۔ سی آئی ایف شناختی نمبر بینک کے نظام میں صارف کی شناخت اور اس سے متعلقہ معلومات کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔بینک نے واضح کیا ہے کہ ذاتی معلومات کے افشا ہونے اور کھاتے میں موجود رقم کے نقصان میں فرق ہے۔ اس کے بیان کے مطابق، اس واقعے میں صارفین کے کھاتوں میں موجود رقوم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم ذاتی معلومات کے ممکنہ غلط استعمال کے خطرے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ایس بی آئی نے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد اپنے سائبر واقعے سے نمٹنے اور نقصان کو محدود کرنے کے طریقۂ کار کو فوری طور پر فعال کردیا۔ بینک نے معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے سی ای آر ٹی اِن سے منظور شدہ ایک آزاد سائبر سیکوریٹی ایجنسی کی خدمات بھی حاصل کی ہیں۔تحقیقات کے دوران لیک ہونے والی معلومات کی درستگی اور مکمل ہونے کی تصدیق کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ معلومات کہاں سے افشا ہوئیں، واقعے کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور اس سے صارفین کو کس نوعیت کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ فی الحال بینک کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معلومات افشا ہونے کا اصل ذریعہ کیا تھا یا اس واقعہ کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لاس اینجلس اولمپکس کے کوالیفائر جنوری، فروری ۲۰۲۸ء میں ہوں گے

بینک نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم شخص کو او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ فراہم نہ کریں، چاہے وہ خود کو بینک کا ملازم یا سیکوریٹی افسر ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔ مشکوک لنکس پر کلک کرنے، نامعلوم فائلیں کھولنے اور فون یا پیغام کے ذریعے ذاتی یا مالی معلومات دینے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اگر کسی صارف کو مشکوک کال، پیغام یا کھاتے سے متعلق غیر معمولی سرگرمی نظر آئے تو اسے فوراً بینک کے سرکاری ذرائع سے رابطہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ صارفین کے لیے خاص طور پر ضروری ہے کہ وہ اپنے کھاتے کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر مجاز لین دین کی صورت میں فوری طور پر بینک کو اطلاع دیں۔ایس بی آئی کے اس بیان سے صارفین کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے کھاتوں میں موجود رقم محفوظ ہے، تاہم۳۸۹۷؍ صارفین کی ذاتی معلومات کے افشا ہونے کا معاملہ ڈجیٹل بینکنگ میں معلومات کے تحفظ اور سائبر سیکوریٹی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس واقعے کے اصل سبب، معلومات کے افشا ہونے کے طریقے اور ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید واضح تفصیلات سامنے آسکیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK