زلزلہ زدہ علاقوں میں ادویات کی شدید قلت

Updated: June 25, 2022, 1:24 PM IST | Agency

مجبورا ً ملبے میں دبے افراد کی قبل از وقت تلاش روک دی گئی ۔ قدرتی آفات سے نمٹنےکی وزارت کے ترجمان کے مطابق طبی امداد اور دیگر سامان کی ضرورت ہے، کیونکہ ۱۰؍ ہزار مکان مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں یاانہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے

The second batch of aid sent by India to Kabul.Picture:PTI
کابل میں ہندوستان کی جانب سے بھیجی گئی امداد کی دوسری کھیپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

افغانستان کے  تباہ کن کے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں ادویات اور دیگر اشیا ء شد ید قلت ہے جس کے    نتیجے میں افغان حکام نے  ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا سلسلہ  روک دیا ہے۔ رواں ہفتے بدھ کو ۶ء۱؍ شدت کے اس زلزلے کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغانستان حکومت کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق ملک میں ادویات اور دیگر اہم امدادی اشیاء   ناکافی ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔  قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق  وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب ایک دور افتادہ علاقے میں بدھ کو زلزلے میں تقریباً۲؍ ہزار افراد زخمی اور۱۰؍ ہزار مکان جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے۔
 ان کے مطابق، ’’ زلزلے سے متاثرعلاقوں میں سرچ آپریشن روک دیا گیا ہے۔‘‘حالانکہ حقانی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ زلزلے کے صرف ۴۸؍ گھنٹے بعد ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کیوں روک دی گئی؟ملک میں ماضی میں آنے والے زلزلوں کے مقابلے میں اس بار ریسکیو آپریشن میں  زیادہ وقت لگا ہے جبکہ  اس مرتبہ بار ش کی وجہ سےا مدادی ٹیموں کو بھی دشواری ہورہی ہے ۔ ۶ء۱؍شدت کا یہ زلزلہ کابل کے جنوب مشرق میں تقریباً۱۶۰؍ کلومیٹر  کے فاصلے پر واقع چھوٹی بستیوں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے ایک ایسے علاقے میں آیا جو کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری جنگ کا مرکز بنا رہا ہے۔پہلے ہی انسانی اور اقتصادی بحران سے دوچار اس ملک میں خراب مواصلات اور مناسب سڑکوں کی کمی نے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی تھی۔  
 گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کئی بین الاقوامی امدادی ادارے افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ غیر ملکی ترقیاتی امداد میں اربوں یورو کی کٹوتی ہو چکی ہے۔  اس طرح افغانستان میں پہلے سے موجود اقتصادی بحران شدید تر ہو چکا ہے۔
 طالبان نے۲۰؍ سال کی جنگ کے بعد امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد ملک  کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے ملک باقی دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے لیکن اس زلزلے کے بعد جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے امداد کا یقین دلایا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی امدادی سامان متاثرہ علاقوں کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے۔
  اس کے باوجود حقانی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے پاس امدادی سامان ناکافی ہے۔ ان کے بقول: `’’ وزارت صحت کے پاس ادویات ناکافی ہیں۔ ہمیں طبی امداد اور دیگر سامان کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک بڑی تباہی ہے۔‘‘
 اس صورتحال میں ریسکیو آپریشن  طالبان کیلئے ایک بڑا امتحان ہو گا۔ 

KABUL Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK