Updated: October 12, 2026, 5:03 PM IST
| New Delhi
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے لیے ہندوستانی بازار میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ملک میں پہلے ہی موبائل انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ خدمات انتہائی کم قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اور ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود اسٹارلنک کے لیے اصل چیلنج اپنی خدمات کو عام صارفین کی پہنچ میں لانا ہے۔
اسٹار لنک۔ تصویر:آئی این این
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے لیے ہندوستانی بازار میں جگہ بنانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ملک میں پہلے ہی موبائل انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ خدمات انتہائی کم قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اور ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود اسٹارلنک کے لیے اصل چیلنج اپنی خدمات کو عام صارفین کی پہنچ میں لانا ہے۔ریلائنس جیو، بھارتی ایئرٹیل اور دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کے سستے ڈیٹا منصوبوں نے صارفین کو کم قیمت پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کا عادی بنا دیا ہے، ایسے میں سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کے لیے زیادہ ماہانہ فیس اور ابتدائی آلات کی قیمت صارفین کو متوجہ کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ بازاروں میں شامل ہے۔ ٹیلی کام شعبے میں مسابقت اور سستے ڈیٹا منصوبوں کے باعث گزشتہ برسوں میں انٹرنیٹ کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ ٹیلی کام تجزیاتی ادارے اینالیسس میسن کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی میں ہندوستان میں وائرلیس ڈیٹا ٹریفک ۶ء۷۱؍ ایگزا بائٹس تک پہنچ گیا تھا، جس سے ملک دنیا میں موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والی بڑی منڈیوں میں دوسرے مقام پر رہا۔
یہ بھی پڑھئے:لیورپول کو اپنے ہی میدان پر مانچسٹر سٹی کے ہاتھوں ۰۔۳؍گول سے شکست
رپورٹ کے مطابق، مالی سال ۲۰۲۶ء کی تیسری سہ ماہی میں ایک صارف کا اوسط ماہانہ ڈیٹا استعمال ۷ء۲۵؍ گیگا بائٹس تھا جبکہ مالی سال ۲۰۳۱ء تک اس کے بڑھ کر۲ء۵۹؍ گیگا بائٹس ہونے کا اندازہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں ویڈیو اسٹریمنگ، سماجی ذرائع ابلاغ، ڈجیٹل ادائیگیاں اور آن لائن خدمات کا بڑھتا استعمال شامل ہیں۔ تاہم، ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی کھپت کے باوجود اس کی قیمت کم رہنا سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے ایک بڑا تجارتی چیلنج ہے۔ ہندوستانی بازار میں ریلائنس جیو، بھارتی ایئرٹیل اور سرکاری کمپنی بی ایس این ایل پہلے ہی کم قیمت پر انٹرنیٹ خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ دستیاب قیمتوں کے تقابل کے مطابق، جیو کا ۳۰۰؍ ایم بی پی ایس براڈ بینڈ منصوبہ تقریباً ۱۴۹۹؍ روپے ماہانہ، ایئرٹیل کا اسی رفتار کا منصوبہ تقریباً ۱۵۹۹؍ روپے ماہانہ، جبکہ بی ایس این ایل کا ۲۰۰؍ایم بی پی ایس منصوبہ تقریباً ۸۹۹؍ روپے ماہانہ میں دستیاب ہے۔
اس کے برعکس، بنگلہ دیش میں اسٹارلنک کے گھریلو انٹرنیٹ منصوبے کی ماہانہ قیمت تقریباً ۳۲۹۵؍ روپے کے مساوی ہے، جبکہ صارفین کو کنکشن کے لیے درکار آلات کی قیمت بھی الگ ادا کرنا پڑتی ہے۔ اگر ہندوستان میں بھی قیمتیں اسی سطح کے آس پاس رہیں تو اسٹارلنک کے لیے روایتی براڈ بینڈ کمپنیوں سے قیمت کی بنیاد پر مقابلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ البتہ کمپنی نے ابھی ہندوستان کے لیے اپنے صارفین کے حتمی نرخوں کا اعلان نہیں کیا ہے۔
اسٹارلنک کے بانی ایلون مسک نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اگر ہندوستان میں اس کی خدمات بہت مہنگی ہوئیں تو صارفین انہیں اختیار نہیں کریں گے۔ ۱۰؍ اور ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کے آس پاس سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں انہوں نے کہا کہ اسپیس ایکس کوہندوستانی صارفین کے لیے اسٹارلنک کی قیمتیں قابل برداشت رکھنی ہوں گی۔ ان کے مطابق، مقابلے سے عام صارفین کو مزید انتخاب مل سکتا ہے۔ تاہم، مسک نے ہندوستان میں اسٹارلنک کے ماہانہ منصوبوں یا آلات کی حتمی قیمتوں کی تفصیل نہیں دی۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا ممکن نہیں کہ کمپنی اپنی خدمات کو جیو، ایئرٹیل اور بی ایس این ایل کے مقابلے میں کس حد تک سستا بنا سکے گی۔
ماہرین کے مطابق، اسٹارلنک کی اصل افادیت ان علاقوں میں زیادہ ہوسکتی ہے جہاں فائبر براڈ بینڈ کی تاریں بچھانا یا موبائل ٹاور لگانا مشکل اور مہنگا ہے۔ پہاڑی علاقوں، سرحدی خطوں، دور دراز دیہات، سمندری راستوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات پر سیٹیلائٹ انٹرنیٹ رابطے کا متبادل فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ادارے، اسکول، اسپتال، کاروباری ادارے اور مشترکہ وائی فائی مراکز بھی اسٹارلنک کے ممکنہ صارفین ہوسکتے ہیں۔ اگر ایک ہی سیٹلائٹ کنکشن متعدد افراد یا کسی ادارے کے استعمال میں آئے تو آلات اور ماہانہ فیس کا خرچ تقسیم کیا جاسکتا ہے، جس سے انفرادی کنکشن کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ قابل عمل بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’مونسٹر‘‘ کی شوٹنگ آخری مرحلے میں، نومبر میں تکمیل کی امید
قیمتوں کے علاوہ اسٹارلنک کو ہندوستان میں اپنی تجارتی خدمات شروع کرنے کے لیے متعلقہ سرکاری منظوریوں اور حفاظتی شرائط کو بھی پورا کرنا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی تازہ رپورٹس کے مطابق، کمپنی کو بعض اہم اجازت نامے مل چکے ہیں، لیکن تجارتی خدمات کے آغاز کے لیے حتمی منظوریوں کا انتظار ہے۔ اس لیے ہندوستان میں اسٹارلنک کی دستیابی، آغاز کی تاریخ اور صارفین کے لیے قیمتوں سے متعلق صورت حال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ ہندوستان میں انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد اسٹارلنک کے لیے وسیع امکانات پیدا کرتی ہے، لیکن صرف صارفین کی تعداد زیادہ ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ کم قیمت موبائل ڈیٹا، سستا فائبر براڈ بینڈ، ابتدائی آلات کی لاگت اور ضروری سرکاری منظوریوں جیسے عوامل کمپنی کی توسیع پر اثر انداز ہوں گے۔ ابتدائی مرحلے میں اسٹارلنک کے لیے دور دراز علاقوں، کاروباری اداروں اور ایسے صارفین پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ موزوں ہوسکتا ہے جنہیں روایتی نیٹ ورک سے قابل اعتماد رابطہ نہیں ملتا۔ عام ہندوستانی صارفین تک بڑے پیمانے پر رسائی حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو ایسی قیمتیں پیش کرنا ہوں گی جو ملک کے پہلے سے قائم سستے انٹرنیٹ بازار میں قابل قبول ہوں۔